ملک میں کرپشن زوروں پر ہے وفاقی ٹیکس محتسب
ایف بی آر میں زیادہ اصلاحات کی ضرورت ہے، چیئرمین 5 سال کیلیے تعینات کیا جائے۔
تمام وزرا، مشیروں کے علاوہ گریڈ 1 تا22 کے سرکاری ملازمین سے حقیقی بنیادوں پر ٹیکس وصول کرنا ہوگا ورنہ ملک نہیں چلے گا، وفاقی ٹیکس محتسب فوٹو: ایکسپریس/فائل
وفاقی ٹیکس محتسب ڈاکٹر شعیب سڈل نے کہا ہے کہ ملک میں کرپشن زوروں پر ہے اور سب سے زیادہ کرپشن کرنے والے کواس سے اچھی اور بڑی پوزیشن وپوسٹنگ مل جاتی ہے۔
ہرقسم کی مصلحت کو بالائے طاق رکھ کر بلاامتیاز احتساب سے معاشرے میں مثبت تبدیلی لائی جاسکتی ہے، سب سے زیادہ اصلاحات کی ضرورت فیڈرل بورڈ آف ریونیو میں ہے لیکن ایف آئی اے، نیب اور پولیس میں بھی بنیادی نوعیت کی اصلاحات وقت کی اہم ضرورت ہے، ہرسال 5 تا 10 بڑے کرپٹ لوگ سلاخوں کے پیچھے جائیں تب ہی ملک کا نظام درست ہوگا۔ یہ بات انہوں نے منگل کو پاکستان اپیرل فورم کے تحت پی ایچ ایم اے میں صنعت کاروں سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
اس موقع پر پاکستان اپیرل فورم کے چیئرمین محمد جاوید بلوانی، رفیق گوڈیل، خواجہ عثمان، جنید ماکڈا، کامران چاندنا، اختریونس، محمد شفیع، زین بشیر، نقی باڑی، ارشد شہزاد و دیگر بھی موجود تھے۔ وفاقی ٹیکس محتسب نے کہا کہ تمام وزرا، مشیروں کے علاوہ گریڈ 1 تا22 کے سرکاری ملازمین سے حقیقی بنیادوں پر ٹیکس وصول کرنا ہوگا ورنہ ملک نہیں چلے گا۔ انہوں نے کہا کہ چیئرمین ایف بی آر کی آسامی پر ایماندار اور اچھی شہرت وریکارڈ رکھنے والے افسر کی 5 سالہ مدت کے لیے تقرری کی ضرورت ہے، ایف بی آر کی جانب سے طویل دورانیے سے وصول شدہ ٹیکس کے اعدادوشمار بڑھا چڑھاکر پیش کیے جاتے ہیں۔
جس کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ مالی سال 2012 میں ایف بی آر نے مجموعی طور پر 2200 ارب روپے مالیت کے ریونیو حاصل کرنے کا دعویٰ کیا تھا حالانہ اس میں اربوں روپے کے ریفنڈز بھی شامل تھے، حقیقی معنوں میں ایف بی آر نے سال 2012 میں 1800 ارب روپے کا ٹیکس ریونیو وصول کیا، معاملات کی درستگی کے لیے ایف بی آر میں انقلابی اصلاحات کی ضرورت ہے، اگر ایف بی آر اور اسکی بیوروکریسی کے معاملات درست ہوجائیں تو پاکستان کا بیرونی قرضوں پر انحصار ختم ہوسکتا ہے۔
ایک سوال پر انھوں نے بتایا کہ ان کے ادارے میں 2004 سے 2010 تک کے زیرالتوا ریفنڈز کے تمام معاملات کے تصفیے کرلیے ہیں لہٰذا متاثرہ ٹیکس دہندگان اپنے فیصلوں سے آگہی حاصل کریں، اگر اب بھی کسی ٹیکس دہندہ کو ایف بی آر یا اس کے ماتحت اداروں سے کوئی مسئلہ درپیش ہو تو فی الفور وفاقی ٹیکس محتسب سے رجوع کرے۔ اس موقع پر پاکستان اپیرل فورم کے چیئرمین جاوید بلوانی نے استقبالی کلمات ادا کرتے ہوئے کہا کہ آرٹی اوز ٹیکس گوشواروں کی اسکروٹنی وآڈٹ کے نام پر ٹیکس دہندگان کو ہراساں کر رہے ہیں۔
ٹیکس افسران ٹیکس دہندگان سے وہ ریکارڈز بار بار طلب کررہے ہیں جو پہلے ہی گوشواروں کے ساتھ جمع کرا دیا جاتا ہے، ٹیکس حکام کوکسی ٹیکس گوشوارے پر شک یا اعتراض ہو تواسی وقت آڈٹ کیاجائے مگر برآمدکنندگان کو دانستہ تنگ نہ کیا جائے۔ انھوں نے کہا کہ برآمدکنندگان سندھ بورڈ آف ریونیو کوجو محصولات ادا کررہے ہیں اس کا ریکارڈ تاحال ایف بی آر کو نہیں دیا گیا، ہمار مطالبہ ہے کہ یہ ریکارڈ فی الفور ایف بی آر کو ارسال کیا جائے تاکہ برآمدکنندگان کو بروقت ریفنڈز مل سکیں۔
ہرقسم کی مصلحت کو بالائے طاق رکھ کر بلاامتیاز احتساب سے معاشرے میں مثبت تبدیلی لائی جاسکتی ہے، سب سے زیادہ اصلاحات کی ضرورت فیڈرل بورڈ آف ریونیو میں ہے لیکن ایف آئی اے، نیب اور پولیس میں بھی بنیادی نوعیت کی اصلاحات وقت کی اہم ضرورت ہے، ہرسال 5 تا 10 بڑے کرپٹ لوگ سلاخوں کے پیچھے جائیں تب ہی ملک کا نظام درست ہوگا۔ یہ بات انہوں نے منگل کو پاکستان اپیرل فورم کے تحت پی ایچ ایم اے میں صنعت کاروں سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
اس موقع پر پاکستان اپیرل فورم کے چیئرمین محمد جاوید بلوانی، رفیق گوڈیل، خواجہ عثمان، جنید ماکڈا، کامران چاندنا، اختریونس، محمد شفیع، زین بشیر، نقی باڑی، ارشد شہزاد و دیگر بھی موجود تھے۔ وفاقی ٹیکس محتسب نے کہا کہ تمام وزرا، مشیروں کے علاوہ گریڈ 1 تا22 کے سرکاری ملازمین سے حقیقی بنیادوں پر ٹیکس وصول کرنا ہوگا ورنہ ملک نہیں چلے گا۔ انہوں نے کہا کہ چیئرمین ایف بی آر کی آسامی پر ایماندار اور اچھی شہرت وریکارڈ رکھنے والے افسر کی 5 سالہ مدت کے لیے تقرری کی ضرورت ہے، ایف بی آر کی جانب سے طویل دورانیے سے وصول شدہ ٹیکس کے اعدادوشمار بڑھا چڑھاکر پیش کیے جاتے ہیں۔
جس کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ مالی سال 2012 میں ایف بی آر نے مجموعی طور پر 2200 ارب روپے مالیت کے ریونیو حاصل کرنے کا دعویٰ کیا تھا حالانہ اس میں اربوں روپے کے ریفنڈز بھی شامل تھے، حقیقی معنوں میں ایف بی آر نے سال 2012 میں 1800 ارب روپے کا ٹیکس ریونیو وصول کیا، معاملات کی درستگی کے لیے ایف بی آر میں انقلابی اصلاحات کی ضرورت ہے، اگر ایف بی آر اور اسکی بیوروکریسی کے معاملات درست ہوجائیں تو پاکستان کا بیرونی قرضوں پر انحصار ختم ہوسکتا ہے۔
ایک سوال پر انھوں نے بتایا کہ ان کے ادارے میں 2004 سے 2010 تک کے زیرالتوا ریفنڈز کے تمام معاملات کے تصفیے کرلیے ہیں لہٰذا متاثرہ ٹیکس دہندگان اپنے فیصلوں سے آگہی حاصل کریں، اگر اب بھی کسی ٹیکس دہندہ کو ایف بی آر یا اس کے ماتحت اداروں سے کوئی مسئلہ درپیش ہو تو فی الفور وفاقی ٹیکس محتسب سے رجوع کرے۔ اس موقع پر پاکستان اپیرل فورم کے چیئرمین جاوید بلوانی نے استقبالی کلمات ادا کرتے ہوئے کہا کہ آرٹی اوز ٹیکس گوشواروں کی اسکروٹنی وآڈٹ کے نام پر ٹیکس دہندگان کو ہراساں کر رہے ہیں۔
ٹیکس افسران ٹیکس دہندگان سے وہ ریکارڈز بار بار طلب کررہے ہیں جو پہلے ہی گوشواروں کے ساتھ جمع کرا دیا جاتا ہے، ٹیکس حکام کوکسی ٹیکس گوشوارے پر شک یا اعتراض ہو تواسی وقت آڈٹ کیاجائے مگر برآمدکنندگان کو دانستہ تنگ نہ کیا جائے۔ انھوں نے کہا کہ برآمدکنندگان سندھ بورڈ آف ریونیو کوجو محصولات ادا کررہے ہیں اس کا ریکارڈ تاحال ایف بی آر کو نہیں دیا گیا، ہمار مطالبہ ہے کہ یہ ریکارڈ فی الفور ایف بی آر کو ارسال کیا جائے تاکہ برآمدکنندگان کو بروقت ریفنڈز مل سکیں۔