دنیا دہشت گردی کے عفریت کو شکست دے حنا کھر
منڈیوں تک رسائی،اسلحہ پھینکنے پرراضی دہشتگردوں سے مذاکرات اورملازمتیں دیرپاحل ہے.
ملالہ کی زندگی پاکستانی عوام کی لچک کی مثال ہوگی،سلامتی کونسل سے خطاب۔ فوٹو: فائل
KARACHI:
پاکستان نے دہشت گردی کے عفریت کو جامع لائحہ عمل کے ذریعے شکست دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسکا مقصد ایسی کوششوں کو آگے بڑھانا ہو جس سے انتہا پسندی کا سبب بننے والے دیرینہ حل طلب مسائل اور بحران کو حل کرنے میں مدد ملے۔
بینظیر بھٹواوربشیربلور دہشت گردی کا نشانہ بنے جبکہ معصوم ملالہ یوسف زئی خوش قسمتی سے بچ گئی،ان کی زندگی پاکستانی عوام کی لچک کی مثال ہوگی۔انھوں نے منگل کو اقوام متحدہ کے 15 رکنی سیکیورٹی کونسل کے وزارتی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں دہشت گردی کی جڑوں کو اکھاڑ پھینکنا چاہیے۔ ''انسداد دہشتگردی کیلئے جامع لائحہ عمل'' کے حوالے سے مباحثہ کے لیے پاکستان کا پہلا قدم، عالمی امن، سلامتی، استحکام اور ترقی کے ہمارے مشترکہ مقاصد میں پیوست ہے۔
حنا نے کہا کہ دہشتگردی سے نمٹنے کے لیے اس سے بہترطریقہ نہیں ہو سکتا۔مفاہمت کو فروغ دیا جائے گا اور خلا کو پاٹ دیں گے۔ حناکامزیدکہناتھاکہ پاکستان، افغانستان میں افغان عوام کی قیادت میں مفاہمتی عمل کی مسلسل حمایت کررہا ہے، ہماری کوششیں پرامن اور مستحکم افغانستان کے قیام پر مرکوز ہیں،وہاں امن واستحکام کا پاکستان کی صورتحال پر براہ راست اثر ہوگا۔
پاکستان نے دہشت گردی کے عفریت کو جامع لائحہ عمل کے ذریعے شکست دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسکا مقصد ایسی کوششوں کو آگے بڑھانا ہو جس سے انتہا پسندی کا سبب بننے والے دیرینہ حل طلب مسائل اور بحران کو حل کرنے میں مدد ملے۔
بینظیر بھٹواوربشیربلور دہشت گردی کا نشانہ بنے جبکہ معصوم ملالہ یوسف زئی خوش قسمتی سے بچ گئی،ان کی زندگی پاکستانی عوام کی لچک کی مثال ہوگی۔انھوں نے منگل کو اقوام متحدہ کے 15 رکنی سیکیورٹی کونسل کے وزارتی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں دہشت گردی کی جڑوں کو اکھاڑ پھینکنا چاہیے۔ ''انسداد دہشتگردی کیلئے جامع لائحہ عمل'' کے حوالے سے مباحثہ کے لیے پاکستان کا پہلا قدم، عالمی امن، سلامتی، استحکام اور ترقی کے ہمارے مشترکہ مقاصد میں پیوست ہے۔
حنا نے کہا کہ دہشتگردی سے نمٹنے کے لیے اس سے بہترطریقہ نہیں ہو سکتا۔مفاہمت کو فروغ دیا جائے گا اور خلا کو پاٹ دیں گے۔ حناکامزیدکہناتھاکہ پاکستان، افغانستان میں افغان عوام کی قیادت میں مفاہمتی عمل کی مسلسل حمایت کررہا ہے، ہماری کوششیں پرامن اور مستحکم افغانستان کے قیام پر مرکوز ہیں،وہاں امن واستحکام کا پاکستان کی صورتحال پر براہ راست اثر ہوگا۔