آدھا کام ہوگیا باقی آج ہوگا قوم جشن منائے طاہر القادری
حکومت نے دہشتگردی کیخلاف فوج کی قربانیاں ضائع کردیں،خطاب،مارچ حصارتوڑکرڈی چوک جاپہنچا
اسلام آباد:تحریک منہاج القرآن کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری سیکیورٹی حصار توڑ کر ڈی چوک پہنچنے والے دھرنے کے شرکا سے خطاب کررہے ہیں۔ فوٹو: اے ایف پی
تحریک منہاج القرآن کے سربراہ ڈاکٹرطاہرالقادری نے سپریم کورٹ کی طرف سے وزیر اعظم کی گرفتاری کے فیصلے کاخیرمقدم کرتے ہوئے کہاہے کہ میرے آدھے خطاب سے آدھا کام ہو گیاہے، باقی آج بدھ کو ہو گا،قوم جشن منائے،اپنا حق لیے بغیرنہیں جائیںگے۔
وزیر اعظم،رحمٰن ملک سمیت کسی بھی وزیراورکرپشن میں ملوث شخص کوملک چھوڑنے کی اجازت نہ دی جائے،تمام مجرموںکے نام ای سی ایل میں ڈال کرعلی بابا اور40چوروں کو گرفتار کیا جائے۔اسلام آبادڈی چوک میں لانگ مارچ کے شرکاسے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹرطاہر القادری کوسپریم کورٹ کی جانب سے وزیر اعظم راجاپرویز اشرف کی گرفتاری کے حکم کی خبردی گئی جس پرانھوں نے مبارکباد دیتے ہوئے کہاکہ قوم فتح کا جشن منائے اور شکرانے کے نوافل پڑھے۔قبل ازیں طاہر القادری نے کہاکہ جعلی پارلیمنٹ عوام کوحقوق دینے میں ناکام ہو چکی ہے،دہشت گردی کیخلاف فوج کی قربانیوں کوحکومت نے ضائع کر دیا۔
سیاسی قیادت کی نااہلی کے باعث دہشتگردی کیخلاف قومی پالیسی نہیں بن سکی،حکمرانوں کوگریبانوں سے پکڑ کرآئین کے تابع کریں گے،جمہوریت کو ڈی ریل نہیں ہونے دیں گے، حکومت میں شامل تمام اتحادی جماعتیں ملک کودونوں ہاتھوں سے لوٹ رہی ہیں،توقیر صادق نے 84ارب روپے کی کرپشن کی اورانہیں صدر مملکت نے مقرر کیا،افواج پاکستان پر الزام لگاناحکمرانوں کا وطیرہ بن چکا،الزامات لگانے والے شرم کریں میرے پیچھے کوئی نہیں،میرے پیچھے اللہ اور 18کروڑ عوام ہیں،آج کا دن یوم عاشور بن سکتاہے،ہمارا لانگ مارچ پرامن، آئینی اور قانونی ہے، میرے ایجنڈے کاساتواں نکتہ اسمبلیوں کی تحلیل ہے، نہ میں جذباتی ہوں اور نہ ہی میرے ساتھی جذباتی ہیں،کارکنوں کے جذبات میری مٹھی میں ہیں۔
اگرلانگ مارچ کے شرکاکو کہوں کہ ایوان اقتدار پر قبضہ کر لیں تو وہ ایک گھنٹے میں کرسکتے ہیں لیکن ہم اسلام آبادکے ایوانوں پرقبضہ کرنے نہیں آئے،جعلی حکومت سے انتقام نہیں لیں گے، ایسا کچھ نہیں کرنا چاہتے جو جمہوری روایات کیخلاف ہو، جعلی پارلیمنٹ کے باعث دہشت گردی کیخلاف قانون سازی نہیں کی جا سکی جو دہشت گرد مارے گئے ہیں ان کے جسم پرٹیٹوکے نشان تھے،وفاقی اور پنجاب کے صوبائی وزرامیں سے دو تین کے جسم پر بھی ٹیٹو کے نشانات ہیں اور ان کی مونچھ کے بالوں کے نیچے دہشت گرد پل رہے ہیں،اس وقت جمہوریت اشرافیہ کیلیے ہے عوام کیلیے نہیں،اس قسم کی جمہوریت کو عوام مسترد کرتے ہیں۔
یہاں ہرجماعت حکومت کاحصہ ہے اور تمام جماعتیں کرپشن میں ملوث ہیں،حکومت مکمل طور پر مفلوج ہوچکی ہے، پارلیمنٹ کی ترجیح کرپشن اور لوٹ مار ہے،حکومت عدالت کے فیصلوں پرعملدرآمد کرنے کو تیارنہیں، حکمران پیسے کے زورپرالیکشن جیت کر آتے ہیں،ملک میں اس وقت دو ادارے فوج اور عدلیہ فعال ہیں۔طاہر القادری نے کہاکہ لعنت بھیجو ایسے بے ایمان شخص پر جو یہ کہتاہے کہ آپ کو پیسے دے کر یہاں لایا گیا ہے،سپریم کورٹ نے جن کو نااہل کیاہے وہی دوبارہ الیکشن جیت کر دوبارہ آ گئے،امریکااور برطانیہ نے میرے پیچھے ہونے کی تردید کر کے میری جان چھڑادی،پیپلز پارٹی بھول گئی نوازشریف کے دور میں بینظیربھٹو نے بھی لانگ مارچ کیا تھا،اپنے مطالبات منوانے تک پارلیمنٹ ہائوس کے سامنے بیٹھے رہیںگے۔
عوام میرا ساتھ نہ بھی دیں میں یہاں سے نہیں بھاگوںگااور عوام کی خاطر شہیدہونے کو ترجیح دوںگا،جس کو چھوڑ کر جانا ہے رات کے اندھرے میںچھوڑ کرچلا جائے کسی سے کوئی شکوہ نہیںہو گاعوام کیلیے تنہابھی لڑنے کو تیار ہوں،ہمارے انقلاب میں خون نہیں بہے گا،عوام انقلابی دھرنے میں تعداد بڑھائیں،حکمران تین روزتک نہیں ٹک سکتے،ہم یہیں رہیںگے گولی چلے گی نہ پتھرپھینکیںگے۔ ہم زرداری، نواز شریف ، اسفند یار یا دیگر لیڈروں یا جماعتوں کے خلاف نہیں ہم صرف کرپٹ نظام کیخلاف ہیں،ہم ایسا کچھ نہیںکرنا چاہتے جوجمہوری روایات کے خلاف ہو، فوج کا کام پالیسی بنانانہیںعمل کرنا ہے،بھٹو کے نعرے روٹی،کپڑا، مکان پر تحریک منہاج القرآن کام کر رہی ہے۔
ٹی وی پر خطاب سننے والے اب گھروں سے نکل آئیں تبدیلی کا وقت ا ٓچکا ہے، اس وقت ملک میں سیکیورٹی ادارے ناکام ہو چکے ہیں، نہ صرف ملالہ یوسف زئی بلکہ دیگربچے بھی محفوظ نہیں ہیں،70 فیصد ارکان پارلیمنٹ ٹیکس نہیں دیتے۔ انھوں نے فوج کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج ملکی دفاع اور سلامتی کے تحفظ کیلیے ہر قسم کی صورتحال کا سامنا کرنے کی پوری صلاحیت رکھتی ہیں،میرا لانگ مارچ مکمل طور پرآئینی ہے اور اس میں شریک تمام افرادبھی آئین اور قانون پر مکمل یقین رکھتے ہیں،جمہوریت کو پٹڑی سے اتارنا نہیں چاہتے،اپنے مطالبات منظور کرائے بغیر اسلام آباد سے واپس نہیں جائیں گے،میں نہ جذباتی آدمی ہوں اورنہ ہی عوام کو جذبات میں لاکراشتعال دلائوں گا۔
ایجنسیاں کہاں ہیں جو ایک ماہ گزرنے کے باوجود یہ بھی نہیں بتا سکیں کہ میرے پیچھے کون ہے،اگر لوگ واپس چلے گئے تو روز طاہر القادری نہیں ملے گامیں اپنی لالچ کیلیے نہیں غریبوں کیلیے آیا ہوں، حکومت کے پاس گولی ہے میرے پاس سینہ ہے آپ کے پاس تلوار ہے میرے پاس گردن ہے۔انھوں نے مارچ کے شرکا سے کہا میرے ساتھ دھوکہ نہ کر دینا وگرنہ ہم ایک دوسرے سے پھر کبھی نہیں ملیں گے،میں عوام کی جنگ لڑتے لڑتے شہید ہو جائونگا،عوام دھرنے میں اپنی تعداد بڑھائیں ہر روز عوام کی تعداد دو گناہو جائے گی تو اسمبلیاں خود بخود تحلیل ہو جائیں گی،مصر،تیونس، لیبیا،فرانس اور روس میں خون بہا ہے مگر پاکستان میں بغیر خون کے انقلاب لانا چاہتے ہیں۔
دکانداروں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ اپنی دکانیں کھولیں ان کا ایک پیسہ بھی نقصان نہیں ہو گا،اگر ہوا تو مجھ سے لے لیں۔طاہر القادری نے کہا رحمٰن ملک نے اپنے مسلح افراد بھجواکر مجھے اغوا کرنے کی کوشش کی ہے۔خطاب کے دوران طاہر القادری کئی بار جذبات میں آ کر آبدیدہ ہو گئے،اس سے پہلے مارچ کے شرکاسیکیورٹی حصار توڑنے کے بعدپارلیمنٹ ہائوس کے سامنے واقع ڈی چوک میں پہنچ گئے،بعد ازاں انتظامیہ نے انہیں وہاں اسٹیج بنانے کی اجازت دیدی۔
وزیر اعظم،رحمٰن ملک سمیت کسی بھی وزیراورکرپشن میں ملوث شخص کوملک چھوڑنے کی اجازت نہ دی جائے،تمام مجرموںکے نام ای سی ایل میں ڈال کرعلی بابا اور40چوروں کو گرفتار کیا جائے۔اسلام آبادڈی چوک میں لانگ مارچ کے شرکاسے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹرطاہر القادری کوسپریم کورٹ کی جانب سے وزیر اعظم راجاپرویز اشرف کی گرفتاری کے حکم کی خبردی گئی جس پرانھوں نے مبارکباد دیتے ہوئے کہاکہ قوم فتح کا جشن منائے اور شکرانے کے نوافل پڑھے۔قبل ازیں طاہر القادری نے کہاکہ جعلی پارلیمنٹ عوام کوحقوق دینے میں ناکام ہو چکی ہے،دہشت گردی کیخلاف فوج کی قربانیوں کوحکومت نے ضائع کر دیا۔
سیاسی قیادت کی نااہلی کے باعث دہشتگردی کیخلاف قومی پالیسی نہیں بن سکی،حکمرانوں کوگریبانوں سے پکڑ کرآئین کے تابع کریں گے،جمہوریت کو ڈی ریل نہیں ہونے دیں گے، حکومت میں شامل تمام اتحادی جماعتیں ملک کودونوں ہاتھوں سے لوٹ رہی ہیں،توقیر صادق نے 84ارب روپے کی کرپشن کی اورانہیں صدر مملکت نے مقرر کیا،افواج پاکستان پر الزام لگاناحکمرانوں کا وطیرہ بن چکا،الزامات لگانے والے شرم کریں میرے پیچھے کوئی نہیں،میرے پیچھے اللہ اور 18کروڑ عوام ہیں،آج کا دن یوم عاشور بن سکتاہے،ہمارا لانگ مارچ پرامن، آئینی اور قانونی ہے، میرے ایجنڈے کاساتواں نکتہ اسمبلیوں کی تحلیل ہے، نہ میں جذباتی ہوں اور نہ ہی میرے ساتھی جذباتی ہیں،کارکنوں کے جذبات میری مٹھی میں ہیں۔
اگرلانگ مارچ کے شرکاکو کہوں کہ ایوان اقتدار پر قبضہ کر لیں تو وہ ایک گھنٹے میں کرسکتے ہیں لیکن ہم اسلام آبادکے ایوانوں پرقبضہ کرنے نہیں آئے،جعلی حکومت سے انتقام نہیں لیں گے، ایسا کچھ نہیں کرنا چاہتے جو جمہوری روایات کیخلاف ہو، جعلی پارلیمنٹ کے باعث دہشت گردی کیخلاف قانون سازی نہیں کی جا سکی جو دہشت گرد مارے گئے ہیں ان کے جسم پرٹیٹوکے نشان تھے،وفاقی اور پنجاب کے صوبائی وزرامیں سے دو تین کے جسم پر بھی ٹیٹو کے نشانات ہیں اور ان کی مونچھ کے بالوں کے نیچے دہشت گرد پل رہے ہیں،اس وقت جمہوریت اشرافیہ کیلیے ہے عوام کیلیے نہیں،اس قسم کی جمہوریت کو عوام مسترد کرتے ہیں۔
یہاں ہرجماعت حکومت کاحصہ ہے اور تمام جماعتیں کرپشن میں ملوث ہیں،حکومت مکمل طور پر مفلوج ہوچکی ہے، پارلیمنٹ کی ترجیح کرپشن اور لوٹ مار ہے،حکومت عدالت کے فیصلوں پرعملدرآمد کرنے کو تیارنہیں، حکمران پیسے کے زورپرالیکشن جیت کر آتے ہیں،ملک میں اس وقت دو ادارے فوج اور عدلیہ فعال ہیں۔طاہر القادری نے کہاکہ لعنت بھیجو ایسے بے ایمان شخص پر جو یہ کہتاہے کہ آپ کو پیسے دے کر یہاں لایا گیا ہے،سپریم کورٹ نے جن کو نااہل کیاہے وہی دوبارہ الیکشن جیت کر دوبارہ آ گئے،امریکااور برطانیہ نے میرے پیچھے ہونے کی تردید کر کے میری جان چھڑادی،پیپلز پارٹی بھول گئی نوازشریف کے دور میں بینظیربھٹو نے بھی لانگ مارچ کیا تھا،اپنے مطالبات منوانے تک پارلیمنٹ ہائوس کے سامنے بیٹھے رہیںگے۔
عوام میرا ساتھ نہ بھی دیں میں یہاں سے نہیں بھاگوںگااور عوام کی خاطر شہیدہونے کو ترجیح دوںگا،جس کو چھوڑ کر جانا ہے رات کے اندھرے میںچھوڑ کرچلا جائے کسی سے کوئی شکوہ نہیںہو گاعوام کیلیے تنہابھی لڑنے کو تیار ہوں،ہمارے انقلاب میں خون نہیں بہے گا،عوام انقلابی دھرنے میں تعداد بڑھائیں،حکمران تین روزتک نہیں ٹک سکتے،ہم یہیں رہیںگے گولی چلے گی نہ پتھرپھینکیںگے۔ ہم زرداری، نواز شریف ، اسفند یار یا دیگر لیڈروں یا جماعتوں کے خلاف نہیں ہم صرف کرپٹ نظام کیخلاف ہیں،ہم ایسا کچھ نہیںکرنا چاہتے جوجمہوری روایات کے خلاف ہو، فوج کا کام پالیسی بنانانہیںعمل کرنا ہے،بھٹو کے نعرے روٹی،کپڑا، مکان پر تحریک منہاج القرآن کام کر رہی ہے۔
ٹی وی پر خطاب سننے والے اب گھروں سے نکل آئیں تبدیلی کا وقت ا ٓچکا ہے، اس وقت ملک میں سیکیورٹی ادارے ناکام ہو چکے ہیں، نہ صرف ملالہ یوسف زئی بلکہ دیگربچے بھی محفوظ نہیں ہیں،70 فیصد ارکان پارلیمنٹ ٹیکس نہیں دیتے۔ انھوں نے فوج کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج ملکی دفاع اور سلامتی کے تحفظ کیلیے ہر قسم کی صورتحال کا سامنا کرنے کی پوری صلاحیت رکھتی ہیں،میرا لانگ مارچ مکمل طور پرآئینی ہے اور اس میں شریک تمام افرادبھی آئین اور قانون پر مکمل یقین رکھتے ہیں،جمہوریت کو پٹڑی سے اتارنا نہیں چاہتے،اپنے مطالبات منظور کرائے بغیر اسلام آباد سے واپس نہیں جائیں گے،میں نہ جذباتی آدمی ہوں اورنہ ہی عوام کو جذبات میں لاکراشتعال دلائوں گا۔
ایجنسیاں کہاں ہیں جو ایک ماہ گزرنے کے باوجود یہ بھی نہیں بتا سکیں کہ میرے پیچھے کون ہے،اگر لوگ واپس چلے گئے تو روز طاہر القادری نہیں ملے گامیں اپنی لالچ کیلیے نہیں غریبوں کیلیے آیا ہوں، حکومت کے پاس گولی ہے میرے پاس سینہ ہے آپ کے پاس تلوار ہے میرے پاس گردن ہے۔انھوں نے مارچ کے شرکا سے کہا میرے ساتھ دھوکہ نہ کر دینا وگرنہ ہم ایک دوسرے سے پھر کبھی نہیں ملیں گے،میں عوام کی جنگ لڑتے لڑتے شہید ہو جائونگا،عوام دھرنے میں اپنی تعداد بڑھائیں ہر روز عوام کی تعداد دو گناہو جائے گی تو اسمبلیاں خود بخود تحلیل ہو جائیں گی،مصر،تیونس، لیبیا،فرانس اور روس میں خون بہا ہے مگر پاکستان میں بغیر خون کے انقلاب لانا چاہتے ہیں۔
دکانداروں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ اپنی دکانیں کھولیں ان کا ایک پیسہ بھی نقصان نہیں ہو گا،اگر ہوا تو مجھ سے لے لیں۔طاہر القادری نے کہا رحمٰن ملک نے اپنے مسلح افراد بھجواکر مجھے اغوا کرنے کی کوشش کی ہے۔خطاب کے دوران طاہر القادری کئی بار جذبات میں آ کر آبدیدہ ہو گئے،اس سے پہلے مارچ کے شرکاسیکیورٹی حصار توڑنے کے بعدپارلیمنٹ ہائوس کے سامنے واقع ڈی چوک میں پہنچ گئے،بعد ازاں انتظامیہ نے انہیں وہاں اسٹیج بنانے کی اجازت دیدی۔