بھٹو تاریخ میں امر
بھٹو پس زنداں گئے اورسمجھوتے کے بجائے پھانسی کے پھندے پرجھول کر تاریخ میں امر ہوگئے
۔ فوٹو : فائل
ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان کو آزاد خارجہ پالیسی دی ، سامراج سے آزادی دلائی، لیکن آج تک ان کو انصاف ملا نہ ہی ان کے وارثوں کو۔ یہ سوال اٹھایا ہے چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے ۔ وہ گڑھی خدا بخش بھٹو میں شہیدذوالفقارعلی بھٹو کی 38ویں برسی کے موقعے پرمنعقدہ جلسے سے خطاب کررہے تھے۔انھوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ بھٹوکو پھانسی پرکیوں چڑھایا گیا۔
جس کا تسلی بخش جواب انصاف کے علمبردار اداروں کو دینا چاہیے کیونکہ ملکی تاریخ میں بھٹوکی عوامی مقبولیت کو ضرب المثل کی حیثیت حاصل ہے، وہ اعلیٰ قائدانہ صلاحیتوں کی حامل شخصیت تھے، انھوں نے سانحہ مشرقی پاکستان کے بعد وطن عزیز کے زخموں پر مرہم رکھا، اورایک نئے پاکستان کی تعمیر شروع کی، ملک کو متفقہ آئین دیا اور پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے بانی کہلائے،ایٹمی قوت بنانے کی جانب پیش رفت ایک عالمی سپر پاورقوت کو پسند نہ آئی اور ایک سازش کے تحت ملک پر آمریت مسلط کردی گئی۔
بھٹو پس زنداں گئے اورسمجھوتے کے بجائے پھانسی کے پھندے پرجھول کر تاریخ میں امر ہوگئے۔ بھٹوکے پورے خاندان نے خود کو جمہوریت پر نچھاورکردیا اورآج بھٹو کا نواسہ اور شہید محترمہ بے نظیربھٹوکا نوجوان بیٹامیدان سیاست میںہے۔ بلاول بھٹو زرداری کا مزید کہنا تھا کہ اگر ملک میں ترقی ہورہی ہے تو بیرونی قرضے کیوں بڑھ رہے ہیں، بجلی اورگیس کی لوڈ شیڈنگ کیوں بڑھ چکی ہے،جن نکات کو انھوں نے اپنی تقریر میں اٹھایا ہے انھیں غلط نہیں کہا جاسکتا۔ حکومت کی کارکردگی قابل ستائش نہیں کہی جاسکتی کیونکہ یہ سب کچھ ہورہا ہے ۔ قبل ازیں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے سابق صدرآصف علی زرداری نے بھی حکومت کی کارکردگی پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ کرپشن نہیں ہے لیکن ہم بھی پاناما کیس فیصلے کا انتظارکر رہے ہیں۔
آیندہ الیکشن میں حکومت اور وزیراعظم پیپلزپارٹی کا بنا کر دوں گا۔ زرداری ایک منجھے ہوئے سیاست دان کے طور پر جانے اور مانے جاتے ہیں یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا کہ وہ اپنی پارٹی کا وزیراعظم بنانے میں کامیاب ہوتے ہیں یا نہیں۔آنے والے سال میں الیکشن ہونے جا رہے ہیں، تمام پارٹیاں زورشور سے تیاریاں کر رہی ہیں عام انتخابات کی۔ پیپلزپارٹی کو چاہیے کہ وہ اپنے منشور پر عملدرآمد کو یقینی بنائے جس سے عوام خوشحالی اور ترقی کے راستے پرگامزن ہوسکیں ۔ سب سے زیادہ روزگار کے مواقعے پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ پارٹی کو بھٹوکے فکر وفلسفے پر عمل کرتے ہوئے اسے آگے بڑھانا چاہیے۔
جس کا تسلی بخش جواب انصاف کے علمبردار اداروں کو دینا چاہیے کیونکہ ملکی تاریخ میں بھٹوکی عوامی مقبولیت کو ضرب المثل کی حیثیت حاصل ہے، وہ اعلیٰ قائدانہ صلاحیتوں کی حامل شخصیت تھے، انھوں نے سانحہ مشرقی پاکستان کے بعد وطن عزیز کے زخموں پر مرہم رکھا، اورایک نئے پاکستان کی تعمیر شروع کی، ملک کو متفقہ آئین دیا اور پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے بانی کہلائے،ایٹمی قوت بنانے کی جانب پیش رفت ایک عالمی سپر پاورقوت کو پسند نہ آئی اور ایک سازش کے تحت ملک پر آمریت مسلط کردی گئی۔
بھٹو پس زنداں گئے اورسمجھوتے کے بجائے پھانسی کے پھندے پرجھول کر تاریخ میں امر ہوگئے۔ بھٹوکے پورے خاندان نے خود کو جمہوریت پر نچھاورکردیا اورآج بھٹو کا نواسہ اور شہید محترمہ بے نظیربھٹوکا نوجوان بیٹامیدان سیاست میںہے۔ بلاول بھٹو زرداری کا مزید کہنا تھا کہ اگر ملک میں ترقی ہورہی ہے تو بیرونی قرضے کیوں بڑھ رہے ہیں، بجلی اورگیس کی لوڈ شیڈنگ کیوں بڑھ چکی ہے،جن نکات کو انھوں نے اپنی تقریر میں اٹھایا ہے انھیں غلط نہیں کہا جاسکتا۔ حکومت کی کارکردگی قابل ستائش نہیں کہی جاسکتی کیونکہ یہ سب کچھ ہورہا ہے ۔ قبل ازیں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے سابق صدرآصف علی زرداری نے بھی حکومت کی کارکردگی پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ کرپشن نہیں ہے لیکن ہم بھی پاناما کیس فیصلے کا انتظارکر رہے ہیں۔
آیندہ الیکشن میں حکومت اور وزیراعظم پیپلزپارٹی کا بنا کر دوں گا۔ زرداری ایک منجھے ہوئے سیاست دان کے طور پر جانے اور مانے جاتے ہیں یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا کہ وہ اپنی پارٹی کا وزیراعظم بنانے میں کامیاب ہوتے ہیں یا نہیں۔آنے والے سال میں الیکشن ہونے جا رہے ہیں، تمام پارٹیاں زورشور سے تیاریاں کر رہی ہیں عام انتخابات کی۔ پیپلزپارٹی کو چاہیے کہ وہ اپنے منشور پر عملدرآمد کو یقینی بنائے جس سے عوام خوشحالی اور ترقی کے راستے پرگامزن ہوسکیں ۔ سب سے زیادہ روزگار کے مواقعے پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ پارٹی کو بھٹوکے فکر وفلسفے پر عمل کرتے ہوئے اسے آگے بڑھانا چاہیے۔