دنیا کی نظریاتی تبدیلی کا پہلا مرحلہ
بیسویں صدی کے مقابلے میں اکیسویں صدی نئے نئے انکشافات کی صدی ہے
zaheer_akhter_beedri@yahoo.com
انسان خواہ وہ کتنا بڑا جاہل کیوں نہ ہو اپنی ذاتی زندگی کو تو جدید دنیا کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی کوشش کرتا ہے لیکن اپنی نظریاتی زندگی کو سائنس ٹیکنالوجی تحقیق و انکشافات سے ہم آہنگ کرنے پر تیار نہیں ہوتا۔ اس حوالے سے مسئلہ یہ نہیں ہے کہ سورج زمین کے گرد گردش کر رہا ہے یا زمین سورج کے گرد گردش کر رہی ہے بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ان حوالوں سے انسان تقسیم ہوکر ایک دوسرے سے برسر پیکار ہیں۔ خدا ہر انسان کی ناگزیر ضرورت ہے خواہ وہ رجعت پسند ہو یا ترقی پسند لیکن مسئلہ یہ ہے کہ مذاہب نے خدا کو الگ الگ نام دیے ہیں، ناموں کے اس اختلاف کے باوجود خدا ہر مذہب کا لازمی حصہ ہے جس کے بغیر کسی بھی مذہب کے ماننے والے کا گزر ممکن نہیں۔ پھر ان حوالوں سے انسان انسان سے نفرت کیوں کر رہا ہے، متعصب کیوں ہے ایک دوسرے کا خون کیوں بہا رہا ہے؟
بیسویں صدی کے مقابلے میں اکیسویں صدی نئے نئے انکشافات کی صدی ہے اور المیہ یہ ہے کہ یہ انکشافات انسان کے ماضی سے متصادم ہیں۔ اس حوالے سے اصل مسئلہ یہ ہے کہ دنیا کے 7 ارب انسانوں میں نظریاتی اور عقائدی ہم آہنگی کس طرح پیدا کی جاسکتی ہے؟ بیسویں اور اکیسویں صدی کے انکشافات انسان کی ہزاروں سال کی تاریخ کو روندتے چلے جا رہے ہیں اور یہ ترقی خود انسان کے لیے عذاب بنی ہوئی ہے۔ ان دو صدیوں کے دوران ہونے والی سائنس ٹیکنالوجی ارضی اور فلکیاتی ترقی سے اندازہ ہو رہا ہے کہ مستقبل میں ایسے ایسے حقائق سامنے آئیں گے جو انسان کی ہزاروں سالہ نظریاتی تاریخ کو تہس نہس کرکے رکھ دیں گے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان ممکنہ انکشافات کو انسانوں کی اجتماعی بھلائی کے لیے استعمال کیا جائے گا یا نفرتوں میں اضافے انسانوں کی تقسیم کو گہرا کرنے اور ایک دوسرے کو خون میں نہلانے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔
ہر دور میں آٹے میں نمک ہی کی طرح سہی ایسے اہل دانش موجود رہے ہیں جن کا وژن حال سے مستقبل تک دراز رہا ہے اور جو سچ اور حق سے واقف ہی نہیں بلکہ انسانی معاشروں میں وقت کے ساتھ تبدیلیوں کی ضرورت کا ادراک رکھتے رہے ہیں۔ ہر دورکا نظریاتی اور عقائدی نظام اپنے دور کے علم اور معلومات کے تابع رہا ہے اور المیہ یہ ہے کہ علم اور معلومات کی بنیاد پر تعمیر ہونے والا نظام ہمیشہ حقائق سے متصادم رہا ہے۔ کلیسائی نظام کے دوران بھی زمین سورج کے گرد گردش کرتی تھی لیکن کلیسائی نظام کا عقیدہ یہ تھا کہ سورج زمین کے گرد گھوم رہا ہے۔
جن محققین و اہل علم اہل دانش نے دنیا کو یہ سمجھانا چاہا کہ سورج زمین کے گرد گردش نہیں کر رہا ہے بلکہ زمین سورج کے گرد گردش کر رہی ہے انھیں سزائے موت اس لیے سنائی جاتی رہی کہ ان کے پیش کردہ حقائق عقائد سے متصادم تھے۔ اگرچہ ان عقائدونظریات کے باغیوں کو موت کے حوالے کردیا گیا لیکن ان کے پیش کردہ حقائق تبدیل نہ ہوسکے بلکہ ان لوگوں کو تبدیل ہونا پڑا جو سورج کو زمین کے گرد گردش کرتا دیکھنا چاہتے تھے۔ آج بھی زمین سورج کے گرد گردش کر رہی ہے لیکن علم اور شعور سے محروم کروڑوں نہیں بلکہ اربوں عوام آج بھی اس عقیدے پر قائم ہیں کہ سورج زمین کے گرد گردش کر رہا ہے۔ اس حوالے سے انسان دو حصوں میں بٹ گئے اور متصادم بھی رہے لیکن حقائق نہ بدل سکے۔
بیسویں صدی سائنس ٹیکنالوجی ارضی اور فلکیاتی انقلابوں کی صدی رہی ہے آج کا انسان زمین آسمان چاند سورج موت حیات جنت دوزخ اور کائنات کے اسرار سے واقف ہو رہا ہے اور اس کی یہ واقفیت اس کا یہ علم کلیسائی علوم سے متصادم ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سورج کو زمین کے گرد گردش کرتا دیکھنے والے ان نقصانات کا ادراک رکھتے ہیں جو اس تصوراتی اور مشاہداتی نظریات سے دنیا کے 7 ارب انسانوں کے لیے نقصان رساں ثابت ہو رہے ہیں؟
ہر مذہب کے ماننے والوں کا اس پر اتفاق ہے کہ کرہ ارض پر بسنے والا ہر انسان آدم کی اولاد ہے اس عقیدے کے حوالے سے ہر انسان کا دوسرے انسان سے خون کا رشتہ بنتا ہے کیا اس رشتے کو انسانوں کے درمیان محبت اور بھائی چارے کے فروغ میں استعمال کیا جاسکتا ہے یا روایت کے مطابق نفرتوں عداوتوں اور خون خرابوں ہی کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے؟ دنیا کے 7 ارب انسان جن حوالوں سے تقسیم ہیں ان میں رنگ نسل زبان قومیت دین و دھرم وغیرہ شامل ہیں اور دنیا کو جہنم بنانے میں یہی انسانی تقسیم سب سے بڑا محرک بنی ہوئی ہے۔
المیہ یہ ہے کہ خود اولاد آدم ہی دنیا کو جہنم بنانے کا کردار ادا کر رہی ہے۔ آج دنیا کے منظرنامے پر نظر ڈالیں تو خوف اور شرم سے جھرجھری آجاتی ہے اور ذہن میں بے شمار سوالات پیدا ہوجاتے ہیں۔ پہلی اور دوسری عالمی جنگوں میں کروڑوں انسان ہلاک ہوگئے، ویت نام اورکوریا کی جنگوں میں لاکھوں بے گناہ انسان مارے گئے۔ 1947 میں تقسیم ہند کے دوران 22 لاکھ انسان وحشیانہ طور پر ہلاک کردیے گئے۔ عراق اور افغانستان میں لاکھوں بے گناہ موت کی نذر ہوگئے۔ فلسطین اور کشمیر میں 70 سالوں سے آگ اور خون کا کھیل جاری ہے۔ ادھر اکیسویں صدی کے آغاز سے مذہبی انتہا پسندی اور اس کے بائی پروڈکٹ دہشت گردی اب تک لاکھوں بے گناہ انسانوں کی جان لے چکی ہے۔
یہ سارے عذاب بنیادی طور پر انسانوں کی تقسیم کا نتیجہ ہیں۔ سائنس ٹیکنالوجی اور تحقیق جنگوں نفرتوں اور تقسیم کو بے جواز بنا رہی ہے ، المیہ یہ ہے کہ آج کے انسانوں کی بھاری اکثریت ماضی کے بے معنی ان عقائد و نظریات سے چمٹی ہوئی ہے جو نفرتوں جنگوں خون خرابوں کا سبب بن رہے ہیں آنے والی صدی نظریاتی انقلابات کی صدی ہے اس صدی میں امن اور خوشحالی کے لیے انسانوں کو ماضی کے گھپ اندھیروں سے نکل کر حال اور مستقبل کے نظریاتی اجالوں میں آنا پڑے گا ورنہ دنیا جہنم ہی بنی رہے گی۔
بیسویں صدی کے مقابلے میں اکیسویں صدی نئے نئے انکشافات کی صدی ہے اور المیہ یہ ہے کہ یہ انکشافات انسان کے ماضی سے متصادم ہیں۔ اس حوالے سے اصل مسئلہ یہ ہے کہ دنیا کے 7 ارب انسانوں میں نظریاتی اور عقائدی ہم آہنگی کس طرح پیدا کی جاسکتی ہے؟ بیسویں اور اکیسویں صدی کے انکشافات انسان کی ہزاروں سال کی تاریخ کو روندتے چلے جا رہے ہیں اور یہ ترقی خود انسان کے لیے عذاب بنی ہوئی ہے۔ ان دو صدیوں کے دوران ہونے والی سائنس ٹیکنالوجی ارضی اور فلکیاتی ترقی سے اندازہ ہو رہا ہے کہ مستقبل میں ایسے ایسے حقائق سامنے آئیں گے جو انسان کی ہزاروں سالہ نظریاتی تاریخ کو تہس نہس کرکے رکھ دیں گے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان ممکنہ انکشافات کو انسانوں کی اجتماعی بھلائی کے لیے استعمال کیا جائے گا یا نفرتوں میں اضافے انسانوں کی تقسیم کو گہرا کرنے اور ایک دوسرے کو خون میں نہلانے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔
ہر دور میں آٹے میں نمک ہی کی طرح سہی ایسے اہل دانش موجود رہے ہیں جن کا وژن حال سے مستقبل تک دراز رہا ہے اور جو سچ اور حق سے واقف ہی نہیں بلکہ انسانی معاشروں میں وقت کے ساتھ تبدیلیوں کی ضرورت کا ادراک رکھتے رہے ہیں۔ ہر دورکا نظریاتی اور عقائدی نظام اپنے دور کے علم اور معلومات کے تابع رہا ہے اور المیہ یہ ہے کہ علم اور معلومات کی بنیاد پر تعمیر ہونے والا نظام ہمیشہ حقائق سے متصادم رہا ہے۔ کلیسائی نظام کے دوران بھی زمین سورج کے گرد گردش کرتی تھی لیکن کلیسائی نظام کا عقیدہ یہ تھا کہ سورج زمین کے گرد گھوم رہا ہے۔
جن محققین و اہل علم اہل دانش نے دنیا کو یہ سمجھانا چاہا کہ سورج زمین کے گرد گردش نہیں کر رہا ہے بلکہ زمین سورج کے گرد گردش کر رہی ہے انھیں سزائے موت اس لیے سنائی جاتی رہی کہ ان کے پیش کردہ حقائق عقائد سے متصادم تھے۔ اگرچہ ان عقائدونظریات کے باغیوں کو موت کے حوالے کردیا گیا لیکن ان کے پیش کردہ حقائق تبدیل نہ ہوسکے بلکہ ان لوگوں کو تبدیل ہونا پڑا جو سورج کو زمین کے گرد گردش کرتا دیکھنا چاہتے تھے۔ آج بھی زمین سورج کے گرد گردش کر رہی ہے لیکن علم اور شعور سے محروم کروڑوں نہیں بلکہ اربوں عوام آج بھی اس عقیدے پر قائم ہیں کہ سورج زمین کے گرد گردش کر رہا ہے۔ اس حوالے سے انسان دو حصوں میں بٹ گئے اور متصادم بھی رہے لیکن حقائق نہ بدل سکے۔
بیسویں صدی سائنس ٹیکنالوجی ارضی اور فلکیاتی انقلابوں کی صدی رہی ہے آج کا انسان زمین آسمان چاند سورج موت حیات جنت دوزخ اور کائنات کے اسرار سے واقف ہو رہا ہے اور اس کی یہ واقفیت اس کا یہ علم کلیسائی علوم سے متصادم ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سورج کو زمین کے گرد گردش کرتا دیکھنے والے ان نقصانات کا ادراک رکھتے ہیں جو اس تصوراتی اور مشاہداتی نظریات سے دنیا کے 7 ارب انسانوں کے لیے نقصان رساں ثابت ہو رہے ہیں؟
ہر مذہب کے ماننے والوں کا اس پر اتفاق ہے کہ کرہ ارض پر بسنے والا ہر انسان آدم کی اولاد ہے اس عقیدے کے حوالے سے ہر انسان کا دوسرے انسان سے خون کا رشتہ بنتا ہے کیا اس رشتے کو انسانوں کے درمیان محبت اور بھائی چارے کے فروغ میں استعمال کیا جاسکتا ہے یا روایت کے مطابق نفرتوں عداوتوں اور خون خرابوں ہی کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے؟ دنیا کے 7 ارب انسان جن حوالوں سے تقسیم ہیں ان میں رنگ نسل زبان قومیت دین و دھرم وغیرہ شامل ہیں اور دنیا کو جہنم بنانے میں یہی انسانی تقسیم سب سے بڑا محرک بنی ہوئی ہے۔
المیہ یہ ہے کہ خود اولاد آدم ہی دنیا کو جہنم بنانے کا کردار ادا کر رہی ہے۔ آج دنیا کے منظرنامے پر نظر ڈالیں تو خوف اور شرم سے جھرجھری آجاتی ہے اور ذہن میں بے شمار سوالات پیدا ہوجاتے ہیں۔ پہلی اور دوسری عالمی جنگوں میں کروڑوں انسان ہلاک ہوگئے، ویت نام اورکوریا کی جنگوں میں لاکھوں بے گناہ انسان مارے گئے۔ 1947 میں تقسیم ہند کے دوران 22 لاکھ انسان وحشیانہ طور پر ہلاک کردیے گئے۔ عراق اور افغانستان میں لاکھوں بے گناہ موت کی نذر ہوگئے۔ فلسطین اور کشمیر میں 70 سالوں سے آگ اور خون کا کھیل جاری ہے۔ ادھر اکیسویں صدی کے آغاز سے مذہبی انتہا پسندی اور اس کے بائی پروڈکٹ دہشت گردی اب تک لاکھوں بے گناہ انسانوں کی جان لے چکی ہے۔
یہ سارے عذاب بنیادی طور پر انسانوں کی تقسیم کا نتیجہ ہیں۔ سائنس ٹیکنالوجی اور تحقیق جنگوں نفرتوں اور تقسیم کو بے جواز بنا رہی ہے ، المیہ یہ ہے کہ آج کے انسانوں کی بھاری اکثریت ماضی کے بے معنی ان عقائد و نظریات سے چمٹی ہوئی ہے جو نفرتوں جنگوں خون خرابوں کا سبب بن رہے ہیں آنے والی صدی نظریاتی انقلابات کی صدی ہے اس صدی میں امن اور خوشحالی کے لیے انسانوں کو ماضی کے گھپ اندھیروں سے نکل کر حال اور مستقبل کے نظریاتی اجالوں میں آنا پڑے گا ورنہ دنیا جہنم ہی بنی رہے گی۔