سپریم کورٹ نے میڈیا کا ضابطہ اخلاق بنانے کیلیے کمیشن قائم کردیا

جسٹس(ر)ناصراسلم زاہدسربراہ اورجاویدجباررکن مقرر،کمیشن آرٹیکل 19کے حوالے سے وزارت اطلاعات اوردیگراداروںکاجائزہ لے گا

کمیشن میڈیاکے لوگوں پرالزامات کی انکوائری،اشتہارات کے اجرا میںپیپرارولز،الیکشن میںغیر جانبدارانہ میڈیا سے متعلق تجاویزبھی دیگا۔ فوٹو فائل

سپریم کورٹ نے میڈیا کیلئے ضابطہ اخلاق کی تیاری اور میڈیا کے لوگوں پر الزمات کی انکوائری کیلیے دو رکنی کمیشن مقررکر دیا ہے ۔

جسٹس (ر)ناصر اسلم زاہد اور جاوید جبار پر مشتمل کمیشن کی سربراہی جسٹس (ر)ناصر اسلم زاہدکریںگے۔کمیشن45 روز میں اپنا کام مکمل کرکے31مارچ 2013کو سپریم کورٹ کو رپورٹ پیش کرے گا۔جسٹس جواد ایس خواجہ اور جسٹس خلجی عارف حسین پر مشتمل بینچ نے کمیشن کی تشکیل کا فیصلہ کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ کمیشن میڈیا کی آزادی کے حوالے سے وزارت اطلاعات و نشریات اور حکومتی ایجنسیوںکے کردارکا جائزہ لے گا اور اس بات کا تعین کرے گا کہ کیا اس وزارت اور اداروںکا وجود آرٹیکل19کے مطابق ہے؟


کیا پیمرا آزادی کے ساتھ میڈیا کو ریگولیٹ کرنے کاکام پیمرا آرڈیننس کے مطابق سرانجام دینے کے قابل ہے۔کمیشن اس بات کا جائزہ لے گا کہ کیا حکومت کی سرپرستی میں سرکاری ٹیلی ویژن اور براڈکاسٹنگ کارپوریشن بنیادی حقوق اور آرٹیکل19 کے مطابق ہیں۔کمیشن اس بات کا بھی جائزہ لے گا کہ پی ٹی وی،پی بی سی اور اے پی پی کو سرکاری خزانے سے اربوں روپے کی ادائیگیاں ہوتی ہیں کیا یہ ادارے معلومات کی ترسیل میں آزاد ہیں اور یہاں آزادانہ پالیسیاں ہیں ۔میڈیا میںکرپشن کی انکوائری کرنا اور اگلے عام انتخابات کیلیے غیر جانبدارانہ میڈیا کے بارے میں تجاویزدینا کمیشن کے امور میں شامل ہوگا۔کیا



سرکاری اشتہارات کسی پالیسی کے تحت جاری ہوتے ہیں یا یک طرفہ فیصلوںکے ذریعے ،کیا وفاقی وصوبائی حکومتیں، ایجنسیاں اور ادارے اشتہارات جاری کرنے میں پیپرا رولزکا خیال رکھتے ہیں یا صوابدیدی اختیار استعمال ہوتا ہے۔ فیصلے میںکہا گیا ہے کہ کمیشن کو عدالتی اختیارات حاصل ہوںگے اور رجسٹرار سپریم کورٹ کراچی رجسٹری یا اسلام آباد میں دفترکی سہولت فراہم کرے گا۔وزارت اطلاعات کمیشن کا تمام خرچہ برداشت کرے گی اور سندھ ہائیکورٹ کو اگر کمیشن نے درخواست کی تو ہائیکورٹ کسی جوڈیشل افسرکوکمیشن کے سیکریٹری کے طور پر مقررکریگی۔

Recommended Stories

Load Next Story