اقتصادی ترقی کے حکومتی دعوے اور آئی ایم ایف کے انکشافات
پاکستان کی معاشی نمو کی شرح 5فیصد رہی جو حکومت کے اپنے طے کردہ ہدف 5.7فیصد سے کم ہے
۔ فوٹو: فائل
عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف کے پاکستان مشن کے سربراہ ہیرالڈفنگر نے انکشاف کیا ہے کہ مشکل سے مستحکم ہونے والی پاکستانی معیشت ابھی تک خطرات کی زد پر ہے اور یہ خطرات توانائی' مالیاتی اور بیرونی قرضوں کی ادائیگیوں کے شعبوں کو درپیش ہیں۔ ہیرالڈفنگر نے پاکستان میں معاشی احیاء کے حکومتی دعوؤں کے برعکس کہا کہ پاکستان کی معاشی نمو کی شرح 5فیصد رہی جو حکومت کے اپنے طے کردہ ہدف 5.7فیصد سے کم ہے' تخمینے سے زائد جاری حسابات کے خسارے کا مطلب یہ ہو گا کہ پاکستان کی فنانسنگ کی ضرورتیں پہلے سے بڑھ گئی ہیں جو اس امرکا اشارہ ہے کہ بیرون ملک سے پہلے سے زیادہ مہنگے قرضے لیے جائیں گے' مالیاتی سال کے پہلے نصف میں بجٹ خسارہ بھی تخمینے سے زیادہ رہا' بڑے پیمانے کی مینوفیکچرنگ کی نمو میں اضافہ توقع سے کم رہا جس کے باعث برآمدات بھی ایک سطح پر ٹھہری ہوئی ہیں جن سے نمو کے امکانات پر برے اثرات پڑ رہے ہیں۔
وزیر خزانہ اسحاق ڈار اور آئی ایم ایف مشن کے سربراہ ہیرالڈفنگر نے ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب بھی کیا۔ اسحاق ڈار نے دعویٰ کیا کہ مجموعی اقتصادی ماحول ساز گار ہے اور پاکستان کے غیرملکی زرمبادلہ کے ذخائر 22ارب ڈالر کے قریب ہیں جو جون 2017 تک 23ارب ڈالر تک پہنچ جائیں گے۔ حکومت اپنے آپ کو اقتصادی محاذ پر فاتح قرار دیتے ہوئے غیرملکی زرمبادلہ کے ذخائر بڑھنے کے دعوے تو کر رہی ہے لیکن وفاقی وزارت خزانہ کے ذرایع اس کے ان دعوؤں کی نفی کرتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ یہ سب کچھ مہنگے بیرونی قرضے لے کر کیا گیا اور اس کے علاوہ بجٹ خسارہ بجٹ کے باہر کے وسائل کو شامل کر کے کم کیا گیا۔
حکومت کے دعوؤں کے مطابق تو شاید مجموعی اقتصادی صورت حال بہتر ہو گئی اور معیشت خطرے سے باہر نکل آئی ہو لیکن عام آدمی کی زندگی میں بہتر تبدیلی نہ آنے کے تلخ حقائق کسی اور ہی بیانئے کے مظہر ہیں۔ غیرملکی قرضوں کے بل بوتے پر زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ترقی کی علامت نہیں۔ مہنگائی میں پہلے سے کئی گنا ہونے والی افزونی اور غربت کی لکیر سے نیچے جانے والوں کی تعداد میں تیزی سے ہوتا ہوا اضافہ معاشی ترقی کے دعوؤں کی نفی کر رہا ہے۔ برآمدات میں جمود اور روز گار کے مواقع میں کمی سے بیروزگاری کا گراف پہلے سے کہیں بلند ہو گیا۔ ایک مخصوص طبقے نے تو شاید ترقی کی منازل طے کی ہوں مگر یہ ترقی کہاں ہوئی عام آدمی حیرت سے اسے تلاش کر رہا ہے۔
وزیر خزانہ اسحاق ڈار اور آئی ایم ایف مشن کے سربراہ ہیرالڈفنگر نے ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب بھی کیا۔ اسحاق ڈار نے دعویٰ کیا کہ مجموعی اقتصادی ماحول ساز گار ہے اور پاکستان کے غیرملکی زرمبادلہ کے ذخائر 22ارب ڈالر کے قریب ہیں جو جون 2017 تک 23ارب ڈالر تک پہنچ جائیں گے۔ حکومت اپنے آپ کو اقتصادی محاذ پر فاتح قرار دیتے ہوئے غیرملکی زرمبادلہ کے ذخائر بڑھنے کے دعوے تو کر رہی ہے لیکن وفاقی وزارت خزانہ کے ذرایع اس کے ان دعوؤں کی نفی کرتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ یہ سب کچھ مہنگے بیرونی قرضے لے کر کیا گیا اور اس کے علاوہ بجٹ خسارہ بجٹ کے باہر کے وسائل کو شامل کر کے کم کیا گیا۔
حکومت کے دعوؤں کے مطابق تو شاید مجموعی اقتصادی صورت حال بہتر ہو گئی اور معیشت خطرے سے باہر نکل آئی ہو لیکن عام آدمی کی زندگی میں بہتر تبدیلی نہ آنے کے تلخ حقائق کسی اور ہی بیانئے کے مظہر ہیں۔ غیرملکی قرضوں کے بل بوتے پر زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ترقی کی علامت نہیں۔ مہنگائی میں پہلے سے کئی گنا ہونے والی افزونی اور غربت کی لکیر سے نیچے جانے والوں کی تعداد میں تیزی سے ہوتا ہوا اضافہ معاشی ترقی کے دعوؤں کی نفی کر رہا ہے۔ برآمدات میں جمود اور روز گار کے مواقع میں کمی سے بیروزگاری کا گراف پہلے سے کہیں بلند ہو گیا۔ ایک مخصوص طبقے نے تو شاید ترقی کی منازل طے کی ہوں مگر یہ ترقی کہاں ہوئی عام آدمی حیرت سے اسے تلاش کر رہا ہے۔