مردم شماری اور حلقہ بندیوں کی ڈیڈ لائن

الیکشن کمیشن آف پاکستان کا انتباہ درحقیقت خالص تکنیکی نوعیت کا ہے

فوٹو: فائل

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے فیصلہ کیا ہے کہ ملک بھر میں جاری مردم شماری اگر ماہ ستمبر سے پہلے مکمل کر لی گئی تو 2018ء عام انتخابات سے پہلے آبادی کے حساب سے قومی و صوبائی اسمبلی کی نشستوں کے لیے نئی حلقہ بندیاں کی جائیں گی ، تاہم اس بات کی وضاحت بھی کی گئی کہ اگر ملک میں جاری مردم شماری کا عمل ستمبر تک مکمل نہ ہوا تو آیندہ انتخابات موجودہ حلقہ بندیوں کے مطابق ہی ہوں گے۔

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے پارلیمانی امور کے اجلاس میں الیکشن کمیشن کے ایڈیشنل سیکریٹری برائے ٹریننگ، ریسرچ اینڈ ایوالیوشن ظفر اقبال نے کہا کہ اگر آیندہ انتخابات کے لیے حلقہ بندیاں کرانی ہیں تو مردم شماری کا عمل ستمبر میں مکمل ہونا چاہیے، ورنہ آیندہ انتخابات نئی حلقہ بندیوں پر نہیں ہو سکیں گے، لیکن اس کے ساتھ ہی الیکشن کمیشن نے نئی حلقہ بندیوں کے لیے اپنی طرف سے تیاری کا واضح عندیہ دیا ہے۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان کا انتباہ درحقیقت خالص تکنیکی نوعیت کا ہے، کیونکہ ملکی آبادی کے تناظر میں ووٹرز کی فہرستوں میں نئے ناموں کا اندراج ہو گا، جب کہ چھٹی مردم شماری سے یہ حقیقت بھی سامنے آئیگی کہ اتنے طویل عرصہ کے دوران ملکی آبادی منجمد نہیں رہی ہوگی، شرح آبادی کے تناسب سے نئے حلقہ ہائے انتخاب ناگزیر ہوںگے اور جمہوری عمل کے استحکام اور وفاق و صوبوں کے مابین نئے انتظامی یونٹوں کی تشکیل پر بھی سیر حاصل مکالمہ ہو سکتا ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ الیکشن کمیشن نے ستمبر کی ڈید لائن دے کر شفاف و بے داغ مردم شماری اور منصفانہ انتخابات کے درمیان ایک قریبی تعلق کی جمہوری ضرورت کا احساس دلایا ہے جب کہ نئے عددی حقائق کی روشنی میں آبادی کی تقسیم اور اس میں اضافہ کے جمع کردہ شواہد لازماً الیکشن کمیشن کے لیے از سر نو حلقہ بندیوں کے متقاضی ہوں گے۔ ملک گیر مردم شماری فیصلہ کن عمل ہے جس پر سیاسی و عسکری قیادت نے کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کرنے کے عزم کا اعلان کر کے سیاسی جماعتوں کو بھی یہ مثبت پیغام دیا ہے کہ وہ انتخابات کی تیاری پوری یکسوئی سے کر سکیں۔ واضح رہے کہ الیکشن کمیشن نے نئی حلقہ بندیوں کو قومی و صوبائی اسمبلی کی نشستوں کی تعداد کے ساتھ مشروط نہیں کیا اگر نئی حلقہ بندیاں کی گئیں تو ہر حلقے میں پولنگ اسٹیشنوں اور ووٹرز کی تعداد میں اضافہ ہو جائے گا جب کہ نشستوں کو بڑھانے کے لیے قانون سازی کی ضرورت درکار ہے۔


الیکشن کمیشن آف پاکستان اگر نئی حلقہ بندیوں کے ذریعے ہر حلقے میں نئے ووٹرزکا اندراج کرتا ہے تو 2018ء کے انتخابات میں مبصرین کے مطابق اصل مقابلہ مین اسٹریم جماعتوں میں ہو گا اور نئے ووٹرزکا ووٹ حاصل کرنے کے لیے ووٹرز کی توجہ حاصل کرنا ہی ایک اہم ٹاسک ہو گا۔ادھر الیکشن کمیشن نے انتخابی اصلاحات کا مسودہ قانون جلد منظورکرنے کے لیے اسپیکر قومی اسمبلی سے مدد مانگی ہے ، سیکریٹری الیکشن کمیشن کی طرف سے اسپیکر قومی اسمبلی کو لکھے گئے خط میںکہا گیا ہے کہ عام انتخابات2018ء قریب ہیں اور ابھی تک الیکشن ایکٹ منظور نہیں کیا جا سکا جسے جلد منظور کرایا جائے۔بدھ کو ترجمان الیکشن کمیشن کے مطابق سیکریٹری الیکشن کمیشن نے اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کے نام لکھے گئے خط میںکہا ہے کہ الیکشن کمیشن نے حلقہ بندیوں، ووٹر فہرستوں اور انتخابی عملہ کی تعیناتی کرنی ہے۔

اسپیکر قومی اسمبلی انتخابی اصلاحات کمیٹی کو الیکشن ایکٹ2017ء جلد منظور کرنے کے لیے ہدایات جاری کریں۔خط کے متن میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن انتخابی اصلاحات سے متعلق اپنا تمام کام مکمل کر چکا ہے،مگر انتخابی اصلاحات کا مسودہ کمیٹی میں تاخیر کا شکار ہے جب کہ اسمبلیوں کی مدت ختم ہونے سے چھ ماہ قبل انتخابات کا ایکشن پلان تیارکیا جانا ہے۔الیکشن ایکٹ کے اطلاق میں تاخیر سے الیکشن کمیشن کے لیے چیلنجزکھڑے ہو جائیںگے ۔

ایک بات اتو طے ہے کہ مردم شماری کے فیئر پلے عمل سے حاصل شدہ اعداد و شمار صورتحال اور سیاسی ساخت بدل سکتی ہے، اب ضرورت اس بات کی ہے کہ وہ سیاسی جماعتیں جو اپنے حلقوں میں آبادی کم ظاہر کرنے کے خدشات ظاہر کررہی ہیں ، وہ جمع خاطر رکھیں ، انھیں اطمینان دلانا حکومت اور محکمہ شماریات کا فرض ہے، بلاشبہ نئے پاپولیشن ڈیٹا کو ملکی آبادی کے اپ ٹو ڈیٹ شماریاتی رودڈ میپ کی حیثیت حاصل ہوگی ، مردم شماری کی تکمیل سے پرانا ڈیٹا نئے اعداد و شمار کے لیے جگہ خالی کریگا۔

اسی سے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی نشستوں میں اضافہ ہوگا، بڑی تعداد میں ووٹرزکا اندراج ہوگا، مردم شماری سے ملنے والی معلومات پر مبنی آبادی کے دیہات سے شہروں کی طرف مراجعت اور آبادی کی اربن ڈیموگرافی سے پرانے حلقوں میں آبادی یا ووٹرز کی نقل مکانی کی درست تصویر سامنے آئیگی اور شرح آبادی کی روشنی میں نہ صرف عوامی نمایندگی کا تناسب بڑھے گیا بلکہ جمہوری اداروں کے پھیلاؤ اور آبادی کے درست تعین سے قومی وسائل کی تقسیم اور عوامی کی زندگی میں بھی بنیادی تبدیلیوں کے امکانات روشن ہوسکتے ہیں، مردم شماری اور الیکشن میکنزم کے مابین کوئی کشمکش نہیں ہے بلکہ حکومت نے مردم شماری کرا کے سیاسی عمل کو نئی جہت عطا کی ہے، سیاست کے نئے افق مردم شماری سے مربوط ہونے چاہئیں، ایک نیا سیاسی کلچر ابھرنا ضروری ہے۔
Load Next Story