اداروں کی ناکامی کا ذمے دار بھی پختون

اب تو میلہ ہے اور میلے میں ہر کوئی اپنا ’’دارو‘‘ بیچتا ہے

barq@email.com

اب تو میلہ ہے اور میلے میں ہر کوئی اپنا ''دارو'' بیچتا ہے، چنانچہ پشتونوں پر یہ جو تازہ آفت نازل ہوئی ہے اور ان پر اس ملک کی سرزمین تنگ ہوئی ہے اس میں بھی تقریباً سارے ہی مداری اپنا اپنا مجمع سجائے، خاص طور پر جسے ''پختون لیڈر شپ'' کا زغم یا دعویٰ ہے اپنا اپنا سلاجیت، پتھر کی مومیائی اور کشتہ بیچ رہے ہیں اور بے چارہ پختون ۔ جو بدقمستی سے غربت کی وجہ سے وطن بدر بھی ہوا ہے اس کی حالت تو

شرح اسباب گرفتاریٔ خاطر مت پوچھ

اس قدر تنگ ہوا دل کہ میں زنداں سمجھا

عام طور پر تو اسے قومی یا لسانی تعصب کا ٹھپہ لگا کر بات ختم کر دی جاتی ہے لیکن اصل میں معاملہ کچھ اور ہے، نااہل ادارے، نااہل لوگ اور نااہل حکومتیں جب اپنی نااہلی کی وجہ سے کوئی مسئلہ حل نہیں کر پاتے تو یہ بڑا آسان ہے کہ کسی اور پر الزام تھوپ کر اپنی نااہلی چھپانے کی کوشش کی جاتی، اب کے بھی وہی بات ہے یہ اتنے بڑے ادارے اتنی بڑی بڑی تنخواہیں مراعات اور اختیارات لے کر کس لیے ہیں اور اب تو اس مسئلے کو لگ بھگ بیس تیس سال ہو گئے، قوم کے خون پسینے کی کمائی سے بے تحاشہ تنخواہیں مراعات اور انعامات لینے والوں کو اب اتنا تو ہونا چاہیے تھا کہ اس مرض کا کچھ علاج کچھ اپائے کر چکے ہوتے، سو دہشتگرد یا طالبان یا القاعدہ یا داعش یا یہود و ہنود تو باہر سے آ کر ہر رکاوٹ سے گزر کر طرح طرح کی چھلنیوں سے چھن کر اپنی کارروائیاں کر ڈالتے ہیں لیکن جن باوسائل، لمبے چوڑے بلکہ کئی کئی اداروں کو اس کی روک تھام پر مامور کیا جائے۔

ان کا ''ہوم گراؤنڈ'' بھی ہے مقابلتًا وسائل بھی زیادہ ہیں مراعات اختیارات اور کھلے عام سرگرمیوں کا ''پلس پوائنٹ'' بھی حاصل ہے طرح طرح کے ''ماہرین'' انتہائی بے پناہ معاوضہ بھی لیتے ہیں نقل و حرکت کی آزادی بالادستی اور تعاون بھی حاصل ہے اور اتنے لمبے عرصے کے تجربات بھی حاصل ہیں وہ کیا کر رہے ہیں۔ ہر بار، ہر جگہ وہی ہو جاتا ہے جسے نہیں ہونا چاہیے اور پھر اپنی نااہلی چھپانے کے لیے الل ٹپ پکڑ دھکڑ کے ذریعے بھوسے میں سوئی تلاش کی جاتی ہے، خلق خدا جو دشمن کی مار سے بھی نڈھال ہوتے ہیں انھیں مزید اٹھا پٹخ کا شکار بنایا جاتا ہے، بھوسے کو اوپر نیچے کیا جاتا ہے کچلا جاتا ہے خاک اور راکھ کیا جاتا ہے، اندھی ٹامک ٹوئیاں ماری جاتی ہیں جس سے کچھ حاصل تو نہیں ہوتا لیکن نفرتوں میں اضافہ ضرور ہوتا ہے اور پھر اس کا ایک اور بھیانک پہلو یہ ہے کہ دشمن کو باہم مصروف دیکھ کر مزید کارروائیوں اور ان نفرتوں سے فائدہ اٹھانے کا موقع ملتا ہے۔

نااہل اور کرپٹ اداروں اور کارکنوں کا ایک اور پہلو بھی تو ہے اور سب سے زیادہ نقصان دہ پہلو یہ ہی ہے کہ اوپر سے تو ''کریک ڈاؤن'' کا حکم نازل ہوتا ہے لیکن نیچے والوں کو موقع مل جاتا ہے کہ وہ جگہ جگہ اپنی اپنی ہانڈیاں چڑھانا شروع کر دیتے ہیں۔ ان کو موقع اور اختیارات مل جاتے ہیں تو کار سرکار کے بجائے اپنی کمائی کا سلسلہ شروع کر دیتے ہیں، کوئی مشکوک ہو نہ ہو ان کو کیا لینا دینا۔


ان کو تو ''نچوڑنے'' کا موقع ملا ہے تو پھر کیوں نہ نچوڑیں کہ اس ملک میں ویسے بھی ''نچوڑنا'' ایک مصروف کاروبار ہے، ہر تھانے والے نکل پڑتے ہیں کسی کو بھی پکڑ کر، دھو کر اور نچوڑ کر اپنا نجی کاروبار چالو کر دیتے ہیں، ہم نے خود دیکھا ہے بلکہ بھگتا ہے کہ جب بھی ایسا کوئی سلسلہ ہوتا ہے تو عام سپاہی بھی لوگوں کو پکڑ پکڑ کر دانہ پانی کر لیتے ہیں کیونکہ اداروں کا نہ تو کوئی مستقل اور موثر طریقہ کار ہوتا ہے نہ پوچھ کا کوئی کلچر ہے اور کیوں ہو۔ دراصل یہ دہشتگردی نام کی گائے ''مکس نسل'' کی ہے، امریکی گائے کی طرح دودھ بھی زیادہ دیتی ہے اور مقامی ''اچئی'' نسل کی طرح جب کسی کا دل چاہے اس کا دودھ دوہ سکتا ہے۔

''اچئی'' ایک مقامی نسل کی بھورے نگ کی چھوٹی سی گائے ہوتی ہے جسے لوگ آج کل ''فریج'' بھی کہتے ہیں کہ جب بھی ضرورت ہو نیچے بیٹھ کر دودھ حاصل کیا جا سکتا ہے چنانچہ مکس نسل کی یہ گائے زبردستی پختونوں کے نام لکھ دی گئی ہے حالانکہ نہ پختونوں نے کسی سے استدعا کی تھی کہ افغانستان میں روس کے خلاف ''جہاد'' کرو نہ ''طالبان'' کی تعمیر کا کام پختونوں نے کیا ہے نہ القاعدہ پختونوں کی فرمائش پر بنائی گئی تھی نہ ہی امریکیوں سے پختونوں کا جائز یا ناجائز کوئی رشتہ تھا نہ ہی طالبان یا امریکا کو پختونوں نے بلایا تھا اور نہ ہی ضیاء الحق سے پختونوں نے درخواست کی تھی کہ ہمیں ''انصار'' بنا دیا جائے اور نہ ہی ہمیں کوئی ایسی ایپل یا درخواست یا استدعا یاد ہے ۔

جس میں پشتونوں نے خواہش ظاہر کی ہو کہ آؤ اور ہماری سرزمین کو اپنے قدوم میمنت لزوم سے شرف یاب کرو نہ ہی دہشتگرد یا جہادی پشتونوں اور غیر پشتونوں کو مارنے میں کوئی فرق کرتے ہیں تو آخر کس بنیاد پر پختونوں کو من الحیثیت القوم دہشتگرد قرار دے کر ان نااہل اور کرپٹ مشینری میں ڈال کر قیمہ بنایا جاتا ہے۔ جو پختون اس وقت سندھ اور پنجاب کے شہروں میں پائے جاتے ہیں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ''شفاف'' اور بے مثل کارروائیوں کا نشانہ بنے ہوئے ہیں وہ تو دوہری مار کھا رہے ہیں۔ پہلے تو ان کی اپنی سرزمین کو دوزخ بنایا جاتا رہا ہے اور جب وہاں رہ کر زندہ رہنا ان کے لیے ناممکن ہو جاتا ہے اور بے چارے بھاگ کر ''قوت لایموت''کے لیے اپنے پیارے پیارے پاکستان اور دوسرے ''بھائیوں'' کے ہاں ذلیل سے ذلیل کام کرنے پر مجبور ہو گئے تو اب ان کو پردیس میں بھی تختہ مشق بنایا جارہا ہے اور انتہائی نااہل کرپٹ ترین ناکام ترین ''ادارے'' اپنی ناکامی چھپانے اور کمائی کے لیے نشانہ بنائے ہوئے ہیں۔

پہلے رگ رگ سے میری خون نچوڑا اس نے

اب وہ کہتے ہیں کہ رنگت تری کیوں پیلی ہے

سچی بات یہ ہے کہ اس ملک میں اقتدار اعلیٰ سے لے کر اہلکار ادنیٰ تک کوئی بھی اپنا فرض تو نبھا نہیں رہا ہے اور ناکامی چھپانے کے لیے ادھر ادھر اندھیرے میں تیر چلائے جارہے ہیں۔ کوئی نہیں پوچھتا کہ اتنا سارا مرغن مال جو ہڑپ کر رہے ہیں وہ اگر اپنا کام نہیں کر رہے ہیں تو اس کی سزا کس کو ملنی چاہیے؟۔
Load Next Story