بھارتی ایٹمی ڈاکٹرائن…فریب کاری ہے

بھارت کی پاکستان کے اندر دہشت گردی کی کارروائیوں کی حمایت عیاں ہو چکی ہے

: فوٹو: فائل

بھارت کے جنگی عزائم خطے کی سلامتی کے لیے مسلسل خطرہ بنتے جا رہے ہیں' وہ بڑی طاقت بننے کے جنون میں ایٹمی ہتھیاروں کے انبار لگا رہا ہے اور اب ایسی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں کہ وہ باقاعدہ نیوکلیئر سٹی تعمیر کر رہا ہے۔ بھارت دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکتے ہوئے یہ پروپیگنڈا کر رہا ہے کہ وہ ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال میں پہل نہیں کرے گا لیکن بھارت کا بڑھتا ہوا جنگی جنون اور خطے میں بالادستی کی خواہش کو دیکھتے ہوئے پاکستان نے بھارت کے ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال میں پہل نہ کرنے کے ڈاکٹرائن کو جھوٹ پر مبنی قرار دیا ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ نفیس زکریا نے جمعرات کو اپنی ہفتہ وار بریفنگ میں کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال میں پہل نہ کرنیکی بات کی کیونکہ ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال میں پہل کرنے کے خوفناک نتائج ہو سکتے ہیں' پاکستان کی تجویز کردہ اسٹرٹیجک ریسٹرین ریجیم ایٹمی تصادم سے بچنے کی بہترین حکمت عملی ہے' ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال میں پہل کرنے کی جنگی حکمت عملی کے خوفناک نتائج ہو سکتے ہیں' بھارت کی منفی حکمت عملی بقائے باہمی اصولوں کے خلاف ہے' ہم ہمسایہ ممالک سمیت پوری دنیا کے ساتھ دوستانہ تعلقات چاہتے ہیں۔

بھارت ایک عرصے سے ایٹمی ہتھیاروں کے فروغ میں مصروف ہے حیرت انگیز امر ہے کہ اقوام متحدہ اور عالمی طاقتیں اسے اس خوفناک عمل سے روکنے کے بجائے مکمل خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ امریکا چین کی بڑھتی ہوئی قوت کے خدشے کے پیش نظر بھارت کو خطے میں اس کے مدمقابل ایک بڑی طاقت بننے کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کر رہا ہے۔ سابق امریکی صدر اوباما نے بھارت کے ساتھ بڑے پیمانے پر فوجی معاہدے کیے۔


اب کچھ عرصے سے ایسی اطلاعات منظرعام پر آ رہی ہیں کہ بھارت ایٹمی ہتھیاروں کو ترقی دینے کے لیے باقاعدہ طور پر ایک ایٹمی شہر تعمیر کر رہا ہے' بھارت کا بڑھتا ہوا یہ جنگی جنون پاکستان سمیت پورے خطے کی سلامتی کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے جس کا بروقت ادراک کرتے ہوئے پاکستان عالمی طاقتوں کی توجہ اس جانب دلا رہا ہے کہ اگر انھوں نے بھارت کے بڑھتے ہوئے جنگی جنون کی راہ نہ روکی تو اس سے پورا خطہ تباہی کی نذر ہو سکتا ہے۔ بھارت کے جارحانہ عزائم بھی کسی سے ڈھکے چھپے نہیں یہی وجہ ہے کہ پاکستان نے بھارت کی جانب سے ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال میں پہل نہ کرنے کے ڈاکٹرائن کو جھوٹ پر مبنی قرار دیا ہے۔

بھارت کی پاکستان کے اندر دہشت گردی کی کارروائیوں کی حمایت عیاں ہو چکی ہے، کلبھوشن یادیو سمیت کئی دیگر واقعات میں بھارتی مداخلت کے ٹھوس ثبوت ملے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر کے اندر بھارتی فوج کے ظلم و ستم کے باوجود کشمیریوں کی تحریک آزادی کو تقویت مل رہی ہے۔ پاکستان کو ایک جانب بھارت کی طرف سے خطرہ ہے تو شمال مغربی سرحد پر افغانستان کی طرف سے ہونے والی دہشت گردی نے اس کے مسائل میں خاطر خواہ اضافہ کر دیا ہے یہی وجہ ہے کہ پاکستان دہشت گردوں کی دراندازی روکنے کے لیے افغانستان کی سرحد کے ساتھ ساتھ باڑ لگا رہا ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ پاکستان باڑ لگانے کے مسئلے پر افغانستان کو اپنے تحفظات سے آگاہ کر چکا ہے' وہ افغانستان میں کسی قسم کی پراکسی وار کے خلاف ہے، تجارتی اور دیگر قانونی مقاصد کے لیے ویزہ رکھنے والے افغان شہریوں کو پاکستان آنے کی اجازت ہے۔ پاکستان سرحد پر جو حفاظتی اقدامات کر رہا ہے اس سے دہشت گردی کی وارداتوں میں کمی آنے سے اس کا فائدہ افغانستان کو بھی پہنچے گا۔پاکستان دہشت گردی کے خاتمے کے لیے بڑے پیمانے پر جنگ لڑ رہا اور اس جنگ میں اس نے بے مثال قربانیاں دی ہیں' اس جنگ میں ہونے والی کامیابیوں کی پوری دنیا معترف ہے۔

پاکستان بارہا یہ واضح کر چکا ہے کہ وہ اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات چاہتا ہے اور باہمی اختلافات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کا خواہاں ہے۔اس نے بھارت کو بارہا مذاکرات کی دعوت دی مگر وہ دہشت گردی کی آڑ میں مذاکرات سے مسلسل راہ فرار اختیار کر رہا ہے۔ وہ پاکستان کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کے بجائے سرحدوں پر فائرنگ اور گولہ باری کرکے ماحول کو کشیدہ کرنے سے بھی نہیں چونکتا۔ پاکستان اقوام متحدہ کے مبصرین کی توجہ بھارت کی بڑھتی ہوئی جارحیت کی جانب دلاتا چلا آ رہا ہے مگر اقوام متحدہ نے بھارتی جارحیت کی نہ کی اور نہ اسے روکنے کے لیے کوئی قدم اٹھایا۔ امریکا خطے میں پاک بھارت امن مذاکرات کے لیے بطور ثالث اپنا کردار ادا کرنے کے لیے پیشکش کر چکا ہے جس کا پاکستان نے خیرمقدم کیا مگر بھارت اس پیشکش کو بھی ٹھکرا چکا ہے۔ خطے کا امن اسی میں مضمر ہے کہ پاکستان اور بھارت مذاکرات کا راستہ اپنائیں۔
Load Next Story