کراچی آپریشن اور زمینی حقائق

کراچی آپریشن طلسم ہوشربا نہیں ، ابھی شہر قائد کے مستقبل کا سیاسی فیصلہ ہونا باقی ہے

، فوٹو؛ فائل

گورنر سندھ محمد زبیر نے کہا ہے کراچی آپریشن کا صد فی صد کریڈٹ وزیراعظم میاںنواز شریف کو جاتا ہے، انھوں نے کہا کہ پاناما کیس کا فیصلہ جتنی جلدی آئے گا اچھا ہوگا کیونکہ اس فیصلہ کے انتظار کی وجہ سے اسٹاک ایکسچینج کی حالت بری ہے ، انھوں نے یہ باتیں اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہیں۔ گورنر سندھ محمد زبیر نے کہا کہ کراچی کو اب معاشی ترقی دینا ہے کیونکہ یہ شہر ترقی کرے گا تو پاکستان ترقی کرے گا۔

کراچی آپریشن کے حوالہ سے گورنر سندھ کے انداز نظر پر بحث یا ان کے خیالات سے اختلاف ہر جمہوری سوچ رکھنے والے شہری کا حق ہے بلکہ حمایت کرنے والے بھی بہت ہوں گے جمہوریت اس لیے آمریت سے الگ تشخص رکھتی ہے کہ اس میں اختلاف رائے کے حق کے لیے لڑنے والوں نے رواداری اور تحمل کو جمہوری اقدار کے نظام کی بنیاد قرار دیا ہے، جب کہ حقیقت تو یہ ہے کہ پوری سول سوسائٹی کو کراچی آپریشن کے فوائد ،اس کے اثرات و مضمرات اور ملکی معیشت سے جڑے مثبت سوالات کے جواب سیاسی اور دیگر حلقوں کی طرف سے استدلال اور حقائق کی شکل میں ہمہ وقت ملنے چاہئیں، بات کریڈٹ کی نہیں، گورنر سندھ کا اس ضمن میں بیانیہ حرف آخر نہیں اس سے اختلاف رائے کا روادارانہ کلچر فروغ پائے گا۔


اس لیے اپوزیشن رہنماؤں کی طرف سے رد عمل غیر فطری بات نہیں، ایک نکتہ نظر کا دوسری جانب سے مدلل اور غیر جذباتی و منطقی جواب احسن ہو سکتا ہے، کراچی آپریشن پر صوبہ کے ایک ذمے دار شخص نے کوئی بات کی ہے تو اس کے حسن و قبح پر سنجیدہ سیاسی پیرائے میں مکالمہ کی بہت گنجائش ہے، مگر دو بنیادی سوالوں کو پیش نظر رکھنا اشد ضروری ہے کہ کراچی ''آپریشن'' کی ضرورت کیوں پیش آئی اور یہ چیلنج کس نے قبول کیا؟ ہاں البتہ بحث کا نقطہ آغاز اگر گورنر سندھ کی معروضات کی معقولیت اور معروضیت پر غیر معمولی بحث سے شروع ہوئی ہے تو جو جمہوری روایات ہیں ان کی پاسداری کرتے ہوئے حقائق کا غیر جانبدارانہ جائزہ لینا صائب ہوگا۔

گورنر سندھ کے مطابق کراچی میں امن وامان کی بدترین صورتحال ورثے میں ملی، شہرمیں پولیس و رینجرز پہلے بھی تھی لیکن امن قائم نہیں ہوا، وزیراعظم نوازشریف نے رینجرزکو کام کرنے کی اجازت دی جس سے کراچی کا 80 فیصد امن بحال کردیا گیا ہے، کراچی آپریشن پر وزیراعظم نوازشریف نے سب کو ساتھ لیا اور مشاورت سے یہ آپریشن شروع کیا گیا۔ گورنر کی باتوں سے سیاسی جماعتوں، اسٹیک ہولڈرز اور کراچی کا مینڈیٹ رکھنے والی سیاسی قوتوں کو اگر اختلاف ہے تو جمہوری اسپرٹ کے ساتھ کراچی کا مقدمہ لڑنے کا وہ بھی حق رکھتی ہیں۔

کراچی آپریشن طلسم ہوشربا نہیں ، ابھی شہر قائد کے مستقبل کا سیاسی فیصلہ ہونا باقی ہے۔ اس کے پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی بہنا ہے، کراچی کی ایک کھردری، تلخ اور ناقابل یقین سیاسی بیانیے سے جڑی ہوئی درد انگیز کہانی ہے۔ شہر قائد کے اجڑنے اور جولائی 2013ء کے فیصلہ کن آپریشن کے نتیجہ میں صورتحال کتنی حوصلہ افزا اور امن کے قیام میں کس قدر کامیابی ہوئی ہے اس کا کریڈٹ شخصی نہیں ادارہ جاتی اشتراک عمل کا مرہون منت ہے۔ آج ریاستی ادارے، حکمراں اور جمہوریت پسند قوتیں اس امر کی پابند ہیں کہ پاناما کیس کے فیصلہ سے اپنا قبلہ درست کریں، ملک میں امن ، انصاف، مساوات اور معاشی آسودگی ناگزیر ہے، سب کو زندگی کا تحفظ حاصل ہونا شرط ہے، کراچی کے عوام کو کریڈٹ دیں کہ جبر و ستم اور ظلمت آرائی کے باوجود جمہوریت سے کمٹمنٹ کی اہل کراچی نے لاج رکھی ہے۔
Load Next Story