جدوجہد کی روشن مثال

سرور نسیم نے اساتذہ کے حالات کارکو بہتر بنانے کے لیے انتھک جدوجہد کی

tauceeph@gmail.com

نگہت سرورکا خاندان ہندوستان کی ریاست بہار سے ہجرت کرکے کراچی آیا۔ نگہت کے والد سید امان شیر چیف اکاؤنٹنٹ تھے۔ امان شیر کی کل تین بیٹیاں تھیں، نگہت سرور دوسرے نمبر پر ہیں۔ انھوں نے میٹر ک کا امتحان A گریڈ سے پاس کیا جس پر انھیں 2 سال تک وظیفہ بھی ملا۔ نگہت نے کراچی یونیورسٹی سے ابلاغ عامہ میںبی اے آنرزکی سند حاصل کی۔ نگہت کے والدین نے ان کی شادی کا فیصلہ کیا اورکراچی یونیورسٹی شعبہ ابلاغ عامہ کے پروفیسر سرور نسیم سے شادی ہوگئی۔ نگہت نے سرورنسیم کے ساتھ خوشگوار زندگی گزاری۔ سرور نسیم کراچی یونیورسٹی کے اساتذہ کی انجمن سے منسلک تھے۔

سرور نسیم نے اساتذہ کے حالات کارکو بہتر بنانے کے لیے انتھک جدوجہد کی۔انھیں احتجاج کے دوران پولیس کی مداخلت کا سامنا کرنا پڑا۔ نگہت اپنے شوہر کی ہمیشہ حوصلہ افزائی کرتیں اور ہر مشکل وقت کے لیے تیار رہتیں۔ نگہت سرور کے 6 بچے پیدا ہوئے جن میں 5 بیٹیاں اور ایک بیٹا شامل ہے۔ 15 فروری 2007ء کا دن تو زندگی کے دیگر دنوں کی طرح تھا۔ رات کو سرور پر دل کا دورہ پڑا اور انھیں اسپتال لے جایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے ان کی موت کی تصدیق کر دی۔ نگہت کی زندگی اجڑ گئی اور بچوں کے خواب اجڑنے کے خدشات پیدا ہوگئے۔ نگہت کے والد کا انتقال ہوگیا تھا۔

سسرال والے برطانیہ میں مقیم تھے۔ نگہت کی بڑی بیٹی ایمن کی عمر 16 سال تھی۔ نگہت کہتی ہیں کہ قریبی رشتے داروں نے مشورے دیے کہ ایمن کی شادی کردی جائے۔ ایمن اس وقت فرسٹ ایئر کی طالبہ تھی۔ ایمن نے اپنی ماں سے کہا کہ بابا مجھے پڑھانا چاہتے تھے۔ وہ آرکیٹیکٹ بنانے کی خواہش رکھتے تھے۔ مجھے آگے پڑھنا ہے تاکہ بابا کا خواب عملی شکل اختیار کرسکے۔ نگہت کا کہنا ہے کہ بیٹی کے اس جواب سے ان میں ایک نئی طاقت آگئی۔ انھوں نے فیصلہ کیا کہ وہ کام کریں گی۔

اپنے شوہر اور بچیوں کے خواب پورے کریں گی اور یوں نگہت ورکنگ لیڈی بن گئیں۔ اس زمانے میں معروف شاعر ڈاکٹر پیرزادہ قاسم صدیقی کراچی یونیورسٹی کے وائس چانسلر تھے۔ وائس چانسلر اور اساتذہ کو سرور نسیم کی خدمات کا ادراک تھا، یوں انھیں شعبہ ابلاغ عامہ میں ملازمت مل گئی۔ انتظامیہ نے کراچی یونیورسٹی اسٹاف ٹاؤن کا گھر انھیں الاٹ کردیا۔ نگہت کا کوئی بھائی نہیں تھا اس لیے ان کے والد نے ان کی تربیت بیٹے کی طرح کی تھی۔ نگہت گاڑی چلاتی تھیں۔ بینک اور خریداری کے معاملات طے کرتی تھیں، یوں انھیں کچھ تجربہ تھا۔

زندگی کا نئے زاویے سے آغاز ہورہا تھا، نگہت کو مختلف نوعیت کے کاموں کو ایک ساتھ نبھانا تھا، اگرچہ شعبہ ابلاغ عامہ کے اساتذہ،غیرتدریسی عملہ اور طالب علم سرور نسیم کی بناء پر ان کا بے حد احترام کرتے تھے مگر نگہت نے طے کیا کہ وہ پوری محنت کے ساتھ ملازمت کریں گی۔ نگہت نے ان کاموں کے ساتھ تعلیمی قابلیت بھی بڑھانے کا عہد کیا۔ انھوں نے شعبہ ابلاغ عامہ کے ایوننگ پروگرام میں داخلہ لے لیا۔ زندگی کے یہ پہلے دو سال بہت مشکل تھے۔ ملازمت کے ساتھ ساتھ بچوں کی تعلیم پر توجہ دی، والدہ کو اپنے ساتھ رکھا اور پھر امتیازی نمبروں کے ساتھ ایم اے کا امتحان پاس کرلیا۔ ایم اے کی سند ملنے پر انھیں وفاقی اردو یونیورسٹی کے شعبہ ابلاغ عامہ سے اعانتی استاد کی حیثیت سے کام کرنے کی پیشکش ہوئی۔


وفاقی اردو یونیورسٹی کا شعبہ ابلاغ عامہ عبدالحق کیمپس کا حصہ ہے جو سول اسپتال کے قریب واقعہ ہے۔ عبدالحق کیمپس اور ایم اے جناح روڈ کا خاصا طویل فاصلہ ہے۔ کراچی یونیورسٹی سے عبدالحق کیمپس تقریباً 16 میل دور ہے۔ شام کے اوقات میں ایم اے جناح روڈ پر ٹریفک کا سمندر ہوتا ہے۔ نگہت اپنی گاڑی میں طویل سفر کر کے شعبہ ابلاغ عامہ جاتیں، پھر رات گئے واپس پہنچ پاتیں۔ کراچی شہر میں ہونے والے ہنگاموں کی بناء پر ایک غیر یقینی صورتحال رہتی۔ بعض اوقات وہ گھر پہنچتیں تو چھوٹے بچے سو چکے ہوتے مگر نگہت نے اس وقت تک اردو یونیورسٹی میں کام کیا جب تک انھیں کراچی یونیورسٹی کے شعبہ ابلاغ عامہ نے شام کے پروگرام میں تدریس کی پیشکش نہ کی۔

پھر نگہت نے پی ایچ ڈی کرنے کا فیصلہ کیا۔ ڈاکٹر طاہر مسعود جیسے اصولی استاد ان کے نگراں مقرر ہوئے اور معروف ادیب ابن انشاء کے فکاہیہ کالمز پر تحقیق کا کام شروع ہوا۔ نگہت کے لیے پی ایچ ڈی ایک اور مشکل چیلنج تھا۔ ابن انشاء کے کالم مختلف اخبارات و رسائل میں شایع ہوتے تھے۔ اس موضوع پر کتابیں نایاب تھیں۔ اب نگہت کے ذمے اپنی ملازمت، بچوں کی دیکھ بھال اورگھریلو کاموں کے علاوہ اپنے موضوع پر مواد جمع کرنے کا کام بھی تھا۔ نگہت نے کراچی یونیورسٹی کی ڈاکٹر محمود لائبریری کے علاوہ شہر کی مختلف لائبریریوں کی خاک چھاننا شروع کردی۔ کچھ لائبریریاں صبح میں کھلتی تھیں اور دوپہرکو بند ہو جاتی تھیں جب کہ کچھ لائبریریوں کے اوقات شام کو تھے۔

پھر انھیں اخبارات کے آرکائیو سے بھی مواد حاصل کرنا تھا۔ اب نگہت کبھی اپنے کام پرجاتی پھر لائبریری میں بیٹھتی، کبھی بچوں کو اسکول چھوڑنے کے بعد لائبریری پہنچ جاتی۔ نگہت کو اس زمانے میں چھٹیاں بری لگتی تھیں۔ چھٹی والے دن لائبریری بند ہوجاتی تھی اورکراچی شہر میں امن و امان کی صورتحال سے وقت ضایع ہوتا۔ یہی وہ وقت تھا جب بڑی بیٹی این ای ڈی یونیورسٹی کے آرکیٹیکٹ کے شعبے میں داخل ہوگئیں اور محنت سے پڑھائی شروع کردی۔ اب ماں اور بچے سب تعلیم حاصل کررہے تھے۔ نگہت کے لیے موضوع کے مطابق مواد حاصل کرکے تحریر کرنا بھی ایک مشکل مرحلہ تھا۔ ان کے ریسرچ گائیڈ ڈاکٹر طاہر مسعود کی ہدایت تھی کہ تحقیق کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوسکتا۔

اس بناء پر نگہت کو زیادہ محنت کرنی پڑی۔ نگہت کا پی ایچ ڈی کا کام جاری تھا کہ بڑی بیٹی ایمن نے بی ای کی ڈگری حاصل کرلی اور وہ پروفیشنل آرکیٹیکٹ بن گئیں۔ نگہت نے ان کی شادی کردی۔ دوسری نمبر کی بیٹی ماہا نے کراچی یونیورسٹی K.U.B.S سے بی ایس کیا جس کے بعد نگہت نے ان کی شادی خاندان میں ہی کردی۔ ماہا نے ماں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے شادی کے بعد M.S میں داخلہ لیا اور وہ اب شوہر اور بچی کے ساتھ تعلیم مکمل کررہی ہیں۔ دونوں بچیوں کی شادیاں انھوں نے پی ایچ ڈی کی تحقیق کے دوران کیں۔ تیسری بیٹی ابیہا فارمیسی میں دوسرے سال کی طالبہ ہیں۔

سرور کی سب سے چہیتی بیٹی جو ان کے انتقال کے وقت 10 سال کی تھی باپ کی طرح صحافی بننا چاہتی ہے اور ماں کی Ph.D کی خوشی میں دن رات Blog لکھتی رہتی ہے۔ چوتھی بیٹی فائزہ کراچی یونیورسٹی میں Visual Studio کے پہلے سال میں ہے۔ ماں باپ سے ملی پڑھائی کی لگن اس کو آگے بڑھا رہی ہے۔ پانچویں بیٹی میشہ فرسٹ ایئر میں ہے اور کومکس کالج گلستان جوہر میں زیرِ تعلیم ہے۔ سب سے چھوٹا بیٹا بیکن ہاؤس میں چھٹی جماعت کا طالب علم ہے۔ یہ وہ بچہ ہے جس نے اپنے باپ کو نہیں دیکھا۔ اس کی یادداشت میں صرف ماں ہے۔ نگہت نے اپنے بچے کو باپ کی بہت اچھی یادیں دی ہیں اور اس بات کو کوشش کی ہے کہ باپ کا تصور ذہن سے محو نہ ہو۔ نگہت نے پانچ سال کی سخت مشقت کے بعد اپنا مقالہ جمع کرایا۔ ان کے مقالے کو دومختلف ممالک کے ابلاغیات کے ماہرین کے پاس جانچ پڑتال کے لیے بھیجا گیا۔ معروف محقق ڈاکٹر معین الدین عقیل نے ان کا زبانی امتحان لیا۔

ممتحن نے نگہت کے مقالے کو اعلیٰ معیار کا قرار دیا اور پی ایچ ڈی کی ڈگری دینے کی سفارش کی۔ کراچی یونیورسٹی کے اعلیٰ تعلیم کی کونسل نے 9 مارچ 2016ء کو انھیں پی ایچ ڈی کی ڈگری دینے کی منظوری دے دی۔ اب نگہت اپنے مقالے کو کتابی شکل دینے کے کام میں مصروف ہیں۔ نگہت کا کہنا ہے کہ ان کے پی ایچ ڈی کرنے کی زیادہ خوشی ان کے بچوں کو ہوئی اور بچوں کے تعاون کی بناء پر ہی وہ اپنا مشکل کام مکمل کرپائیں۔ نگہت ایک گھریلو خاتون تھیں، شوہر کے اچانک انتقال سے اگرچہ ان کی زندگی اجڑ گئی تھی مگر نگہت نے تعلیم حاصل کرنے اور مردوں کے شانہ بشانہ عملی زندگی میں جدوجہد کرنے کا فیصلہ کیا۔ نگہت کو ہر سطح پر مختلف نوعیت کی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا مگر نگہت کے عزائم ان رکاوٹوں کو عبورکر گئے۔ نگہت خواتین کی آزادی، مردوں کے شانہ بشانہ جدوجہد اور تعلیم کے ذریعے زندگیاں تبدیل کرنے کی روشن مثال ہیں۔
Load Next Story