کشیدگی نہیں مکالمے کی ضرورت

پاکستان کی نیک اور قابل عمل پیشکشوں کا بھارتی حکام جو جواب دے رہے ہیں وہ حد درجہ حیرت انگیز ہے

بھارت کو لائن آف کنٹرول کے معاملات طے شدہ میکانزم کے ذریعے حل کرنے کے لیے پاکستان سے مذاکرات میں دیر نہیں کرنی چاہیے۔ فوٹو : اے ایف پی/ فائل

بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ نے مقبوضہ کشمیر میں کنٹرول لائن پر ہونے والے واقعات سے متعلق اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ پاکستان کے ساتھ تعلقات اب پہلے جیسے نہیں رہ سکتے، جو لوگ اس کے ذمے دار ہیں انھیں انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے اورانھیں سخت سزا ملنی چاہیے، بھارتی ٹی وی کے مطابق منگل کو تقریب سے خطاب اور بعدازاں میڈیا سے گفتگو میں بھارتی وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت نے ملکی سلامتی و خود مختاری اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کا حلف اٹھایا ہے، ملک پرکوئی آنچ نہیںآنے دیں گے جب کہ ڈاکٹر منموہن کے ردعمل پر پاکستان نے کہا ہے کہ وہ بھارت کے ساتھ لائن آف کنٹرول کے معاملات طے شدہ میکانزم کے ذریعے حل کرنے کے لیے پر عزم ہے۔

بھارتی آرمی چیف کے حالیہ بیان پر ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان غیرذمے دارانہ بیانات کے ذریعے پہلے سے کشیدہ صورتحال مزید خراب نہیں کرنا چاہتا اور بھارت کے ساتھ جاری امن عمل کو خصوصی اہمیت دیتا ہے ۔انھوں نے ایل او سی کی حالیہ خلاف ورزیوں کی تحقیقات اقوام متحدہ کے مبصرین کے ذریعے کرانے کی پیشکش کو دہرایا۔دفترخارجہ نے مسلسل اور نتیجہ خیز مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا۔ یہ امر بلاشبہ افسوسناک ہے کہ وزیراعظم منموہن سنگھ نے کنٹرول لائن پر رونما ہونے والے واقعات کے بارے میں پاکستان کی طرف سے مہیا کیے جانے والے شواہد اور پیدا شدہ سرحدی صورتحال کا دوطرفہ بات چیت کے ذریعے کوئی حل نکالنے کے بجائے تعلقات جاری نہ رہنے کی بات کی جس سے امن و ترقی اور خیر سگالی کی کوششوں کو شدید دھچکا لگا ہے ۔

اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ پاکستان اور بھارت تین جنگیں لڑ چکے ہیں اور تاریخ ان جنگوں کی تباہ کاریوں کو اپنے اوراق سے مٹا نہیں سکتی جب کہ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ عسکری ، سیاسی،اقتصادی اور تذویراتی حقائق ، عالمی اقتصادی صورتحال اور دہشت گردی کے عفریت کو مد نظر رکھتے ہوئے سرحدوں پر کشیدگی نہ ہو ۔ بھارت کی عسکری قیادت اور ارباب اختیار کو جنگی جنون اور ہتھیاروں کی زبان میں بات کرنے کے بجائے براہ راست مکالمہ یا بیک ڈور چینل رابطوں کو بروئے کار لانے پر توجہ دینی چاہیے۔دو طرفہ امن مذاکرات اور مسائل کے حل کے لیے اشتراک عمل اور پرامن ڈپلومیسی ناگزیر ہے، مگر یہ اسی وقت ممکن ہے کہ وزیراعظم من موہن سمیت بھارتی جنگی لابی، آرمی چیف اور دیگر حکام پاکستان کی امن کی خواہش کو اس کی کمزوری نہ سمجھیں ۔

تاہم وزیراعظم من موہن کا یہ انداز نظر خوش آیند ہے کہ بھارت نے پاکستان کے خلاف کبھی جارحانہ عزائم نہیں رکھے اور نہ ہی پاکستان سے کشیدگی چاہتے ہیں۔ بھارت مستحکم پاکستان اور افغانستان کاخواہاں ہے،خطے میں ترقی کے لیے امن واستحکام لازمی ہے ، مگر کنٹرول لائن کی بھارت کی خود پیدا کردہ صورتحال پر اب ان کا لب و لہجہ بدل گیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کے ساتھ پہلے جیسے تعلقات نہیں رہ سکتے اور تجارتی تعلقات بھی مشکلات کا شکار ہو گئے ہیں، ادھر بھارتی فوج کے سربراہ جنرل وکرم سنگھ نے وزیراعظم منموہن کے آیندہ متوقع دورہ پاکستان کی مخالفت کی ہے اورانھیں دورہ پاکستان نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ یہ چانکیائی انداز سیاست ہے اور ایسا رویہ اختیار کرکے بھارت جنگی جنون کے ہاتھوں سخت نقصان اٹھا سکتا ہے۔ کشیدگی پر بات چیت ہونی چاہیے، جنگ کے شعلوں کو ہوا دینا مسئلے کا حل نہیں۔


امریکا نے کہا ہے کہ وہ پاک بھارت مذاکرات کی حوصلہ افزائی جاری رکھے گا۔ محکمۂ خارجہ کی ترجمان وکٹوریا نولینڈ نے ایک پریس بریفنگ میں کہا کہ امریکا لائن آف کنٹرول پر فائرنگ سے پیدا ہونے والی کشیدگی کے خاتمے کے لیے اعلیٰ سطح کے مذاکرات کی حمایت جاری رکھے گا تاکہ حالات دوبارہ معمول پر آسکیں۔ کنٹرول لائن پرکشیدگی کسی کے مفاد میں نہیں، اس لیے بھارت کو لائن آف کنٹرول کے معاملات طے شدہ میکانزم کے ذریعے حل کرنے کے لیے پر عزم پاکستان سے مذاکرات میں دیر نہیں کرنی چاہیے۔ اس عزم کا اظہار بھارتی آرمی چیف کے حالیہ بیان پر ترجمان دفتر خارجہ کے بیان سے بھی ہوتا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان غیر ذمے دارانہ بیانات کے ذریعے پہلے سے کشیدہ صورتحال مزید خراب نہیں کرنا چاہتا اور بھارت کے ساتھ جاری امن عمل کو خصوصی اہمیت دیتا ہے ۔

انھوں نے ایل او سی کی حالیہ خلاف ورزیوں کی تحقیقات اقوام متحدہ کے مبصرین کے ذریعے کرانے کی پیشکش کو دہرایا۔ترجمان نے بھارتی وزیر خارجہ کے بیان کو سراہا، جس میں انھوں نے مذاکراتی عمل پٹڑی سے نہ اترنے دینے کے عزم کا اظہار کیا۔یہ بات بھی اہم ہے کہ دونوں ممالک نے پر امن ماحول قائم کرنے کے لیے مشترکہ کوششوں کو نقصان پہنچانے سے گریز کیا ہے ۔تاہم پاکستان کی ان نیک اور قابل عمل پیشکشوں کا بھارتی حکام جو جواب دے رہے ہیں وہ حد درجہ حیرت ناک ہے کیونکہ تتہ پانی اور جند روٹ سیکٹروں میں بھارتی فوج کی پھر بلااشتعال گولہ باری سے پاک فوج کا ایک نائیک شہید ہوگیا۔ ادھر پاکستان اور بھارت کے درمیان بزرگ شہریوں کو سرحد پر ویزے دینے کی پالیسی پر عملدرآمد شروع نہیں ہوسکا۔

واہگہ پر بھارتی امیگریشن حکام نے 2 پاکستانی بزرگ شہریوں کو سرحد سے واپس بھجوا دیا ۔ بزرگ شہریوں کے لیے ویزے پالیسی کی معطلی نے ٹورسٹ اور تاجر ویزوں کے اجراء کی پالیسی پر بھی سوالیہ نشان لگا دیا ہے ۔ بھارت نے حال میں ہوئے ویزے میں نرمی کے معاہدے پر عمل درآمد موخر کر دیا ہے، مزید برآں پاکستانی فنکار اور بالی ووڈ اسٹار علی ظفر کو کنٹرول لائن پر کشیدگی کے باعث پونے میں ہونے والے میوزیکل شو میں شرکت سے روک دیا گیا ہے، آرگنائزرز کو شیوسینا کی طرف سے ہفتہ کو ہونے والے شو کو منسوخ کرنے کے لیے دبائو ڈالا گیا۔ دوسرا واقعہ پاکستانی کلاسیکی گلوکار جاوید بشیر کے ساتھ پیش آیا، ان کی بھی پیر کی پرفارمنس منسوخ کردی گئی ہے جب کہ شیوسینا کے گڑھ ممبئی سے خبروں کے مطابق ہاکی میچز کھیلنے کے لیے بھارت گئے ہوئے پاکستانی کھلاڑیوں کو واپس بھیجنے کے لیے انتظامیہ کو کہا گیا ہے۔ اس قسم کے واقعات ، اور رد عمل کا یہ معیار ہو تو پاکستان کی وزیر خارجہ حنا ربانی کھر کے اس استدلال کو جھٹلانا آسان نہیں ہوگا کہ بھارت جنگی جنون کو برقرار رکھنا چاہتا ہے ، انھوں نے کہا کہ جنوبی ایشیا اور پاک بھارت تعلقات میں جو بہتری آرہی ہے وہ جنگجویانہ بیانات اور کشیدگی کے متحمل نہیں ہوسکتے بلکہ مذاکرات تسلسل کے ساتھ ہونے چاہئیں۔

حنا ربانی کھر نے دو بھارتی فوجیوں کی سر بریدہ اور مسخ شدہ لاشوں کے الزام کے بارے میں واضح کیا کہ اس ضمن میں مکمل تحقیقات کی گئی مگر اس کے ٹھوس شواہد نہیں ملے۔انھوں نے کہا کہ ماضی کی طرح روایتی پاکستانی حکومت ہوتی تو اینٹ کا جواب پتھر سے دینے کی بات کرتی لیکن میری حکومت امن، جنگ سے گریز،اور بات چیت پر زور دیتی ہے۔ٹائمز آف انڈیا نے اپنے ایک تبصرہ میں کہا ہے کہ جنگ کی باتیں کرنا اور کشیدگی کو پھیلانا خطے کے مفاد میں نہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ بھارت اور اس کی عسکری قیادت کو امن کے ایجنڈا کو فروغ دینا چاہیے ، بھارت چین سے اپنے تلخ ماضی پر نظر ثانی کرچکا ہے تواب اسے پاکستان سے بھی امن پر مکالمہ کے لیے میز پر آنا ہوگا۔
Load Next Story