معیشت کی ابتری ملک کے لیے نقصان دہ

ملک میں تیزی سے تبدیل ہوتی ہوئی سیاسی صورتحال نے بھی اقتصادی سرگرمیوں کا پہیہ جام کردیا ہے۔

منگل کےروزکراچی میں اسٹاک ایکس چینج کریش کر گئی اور انڈیکس 450پوائنٹس تک گرگیا۔ فوٹو: اے ایف پی/ فائل

پاکستان کی معیشت کی دگرگوں صورتحال میںجہاں توانائی کے بحران اور امن وامان کی بگڑتی ہوئی صورتحال کا عمل دخل ہے وہیں ملک میں تیزی سے تبدیل ہوتی ہوئی سیاسی صورتحال نے بھی اقتصادی سرگرمیوں کا پہیہ جام کردیا ہے۔گزشتہ روزکراچی میں اسٹاک ایکس چینج کریش کر گئی اور انڈیکس 450پوائنٹس تک گرگیا، ادھر منی مارکیٹ میں بھونچال آیا اور انٹربینک مارکیٹ میں تمام بینکوں نے ڈالرکی خریدوفروخت بند کردی۔ دم توڑتی معیشت پر یہ بڑی کاری ضرب لگی ہے ہر ذی شعور شخص پریشان ہے کہ اگر یہی صورتحال جاری رہی تو ملکی معیشت کو بھی سنگین خطرات لاحق ہوجائیں گے۔

دوسری جانب حکومت نے سپریم کورٹ کو آئین وقانون کے مطابق عام انتخابات کروانے کی یقین دہانی کروائی ہے ۔اس موقعے پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ الیکشن پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا کس کی کیا سرگرمی ہے عدالت کو اس سے غرض نہیں لیکن الیکشن وقت پر ہوں گے۔ حکومت کی یقین دہانی اور سپریم کورٹ کی رائے میں پاکستانی قوم کو امید کی کرن نظر آتی ہے۔ لانگ مارچ سے پیدا ہونے والی صورتحال سے اسلام آباد کے بڑے کاروباری مراکزاور ایف بی آر کے دفاتر بند ہونے سے اربوں روپے کی بزنس ٹرانزیکشن نہیں ہوسکی جس کے باعث تقریباً ایک ارب سے زائد کا نقصان ہوچکا ہے۔


کراچی،کوئٹہ سمیت صوبہ خیبر پختون خوا میں امن وامان کی بگڑتی ہوئی صورتحال نے معاشی اور اقتصادی سرگرمیوں کو بہت زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔ امن وامان تو اب خواب ہو چلا ہے ،پشاورہائیکورٹ کے چیف جسٹس کا یہ کہنا بالکل بجا ہے کہ شہریوںکو ہلاک کرکے ان کی لاشیں بوریوں میں بندکرنا شرمناک فعل اور ماورائے عدالت اقدام ہے جس کے باعث ملک میںانارکی پھیل رہی ہے ،یہ ریمارکس انھوں نے لاپتہ افراد کے بارے میں 180کے قریب درخواستوں اور بوری بندلاشوں سے متعلق لیے جانے والے سوموٹو نوٹس پرکارروائی کی سماعت کے دوران دیے۔ قانون کا احترام اگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار نہیں کریں گے اور خود کو قانون سے بالاتر سمجھیں گے تو عوام کا پرسان حال کون ہوگا؟ یہی طرز عمل قانون شکنی کا سبب بنتا ہے اور اس کے سماج پر انتہائی برے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

دوران سماعت پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس نے مزید کہا کہ کرپشن کے باعث لوگ تنگ آچکے ہیں۔ اب بھی اگر بیوروکریسی نے اپنی اصلاح نہ کی توحالات قابوسے باہر ہو جائیں گے۔ پورا سچ تو یہی ہے کہ کرپشن کی دیمک نے پاکستان کے تمام محکموں کی بنیادیں کھوکھلی کردی ہیں اور عوام کا کوئی پرسان حال نہیں ہے ۔عوام کے دکھوں کا مداوا اگر حکومت نہیں کرے گی تو پھر کوئی بھی اس صورتحال سے فائدہ اٹھا کر اپنے مقاصد کی تکمیل کے لیے استعمال کرے گا ۔لہٰذا امن وامان کی بحالی حکومت کی پہلی ترجیح ہونی چاہیے، کیونکہ سرمایہ کار بیرونی ممالک میں اپنا سرمایہ منتقل کر رہے ہیں ۔ اعدادوشمار کے مطابق کراچی میں امن وامان کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر کئی ہزار صنعتی یونٹ لاہور شفٹ کردیے گئے ہیں ۔ میگاسٹی میں بیروزگاری کا عفریت عوام کو نگل رہا ہے اور مہنگائی کے ہاتھوں پریشان حال عوام کی کمر ٹوٹ گئی ہے۔

معمولات زندگی آئے روز کی ہڑتالوں کے باعث بری طرح متاثر ہو رہے ہیں ۔ مہنگائی کا تو یہ عالم ہے کہ ملک سے مڈل کلاس طبقے کا بھی خاتمہ ہوتا جا رہا ہے اور وہ بھی غریب کلاس میں شامل ہوتے جا رہے ہیں۔ کتنے دکھ کی بات ہے کہ احتجاج ،ہڑتال اور دھرنے دینے والے یہ لمحہ بھر کو نہیں سوچتے کہ ان کے طرز عمل سے پاکستان کو معاشی واقتصادی طور پر اربوں روپے کا نقصان صرف ایک دن میں پہنچ جاتا ہے۔ ہمیں یہ بھی سوچنا چاہیے کہ معاشی و اقتصادی سرگرمیاں جب بحال ہوں گی تب ہی معیشت کا پہیہ چلے گا اور ملک میں خوشحالی کے دور کا آغاز ہوگا ۔ورنہ بعض غیرمعروف طاقتیں ملک کوکسی دوسری راہ پر لے جانے کے درپے ہیں۔فیصلہ ہمیں خودکرنا ہے کہ آیا ہم وطن عزیزکو ترقی کی راہ پر لے جانا چاہتے ہیں یا طالع آزمائوں کے ہاتھوں کھلونا بنانا چاہتے ہیں ۔
Load Next Story