امت مسلمہ کی حالت زار

عالمی ادارے دنیا میں تشدد اور تصادم روکنے میں ناکام ہو گئے ہیں

: فوٹو : فائل

KARACHI:
جمعیت علماء اسلام (ف) کے زیر اہتمام جمعیت العلمائے اسلام کے صد سالہ سہ روزہ تاسیسی اجتماع کا آغاز امام کعبہ شیخ محمد صالح بن ابراہیم نے نماز جمعہ کا خطبہ دیتے اور نماز پڑھاتے ہوئے کیا، امام کعبہ اجتماع گاہ میں جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن اور دیگر قائدین کے ہمراہ آئے ، لاکھوں کی تعداد میں لوگوں نے امام کعبہ کی اقامت میں نماز جمعہ ادا کی، امام کعبہ نے خطبہ کے دوران کہا کہ امت میں کبھی انتشار نہیں پیدا کرنا چاہیے جب کہ دین میں فرقہ واریت پیدا کرنیوالے کبھی فلاح نہیں پائیں گے۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ فروعی اختلافات میں نہ پڑیں۔

اجتماع سے سعودی عرب کے وزیر برائے مذہبی امور صالح بن عبدالعزیز نے بھی خطاب کیا اور کہا کہ سعودی عرب کی سربراہی میں اسلامی ممالک کا قائم ہونے والا اتحاد امت مسلمہ کے اتحاد کا مظہر ہے، ہم واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ اگر کسی نے اسلام یا مسلمانوں کی جانب میلی آنکھ سے دیکھا تو اس کی آنکھیں نکال دی جائیں گی کیونکہ مسلمان ملک یکجا ہو گئے ہیں۔

جمعیت کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ عالمی ادارے دنیا میں تشدد اور تصادم روکنے میں ناکام ہو گئے ہیں، جسکی وجہ سے مسلح بغاوتیں، انتہا پسندی اور دہشتگردی سامنے آئی، ہم عدم تشدد کی پالیسی پر گامزن ہیں، انھوںنے کہاکہ یہ عالمی اداروں کی کمزوری کی نشانی ہے کہ وہ فلسطین اورکشمیر جیسے مسائل کو حل نہیںکرا سکے اور الٹا عراق، شام اور دنیا کے کئی دیگر ممالک میں مسائل پیدا ہوئے کیونکہ عالمی نظام سے انصاف اور توازن کی کوئی امید نہیں۔


جمعیت علمائے اسلام کے صدسالہ تاسیسی اجتماع سے مقررین نے خطاب کرتے ہوئے جو باتیں کی ہیں وہ درست ہیں۔ بلاشبہ آج اگر امت مسلمہ پر نظر دوڑائیں تو وہ نظریاتی خلفشار اور خانہ جنگی کا شکار نظر آتی ہے۔ براعظم افریقہ میں صومالیہ، لیبیا، مالی اور سوڈان بدترین مسائل اور دہشتگردی کا شکار ہیں۔ براعظم ایشیا میں شام، عراق، یمن اور افغانستان تباہی کا شکار ہیں۔ ان مسائل اور مصائب کی بنیادی وجہ فرقہ پرستی، مفادات پرستی اور اقتدار پر قابض اشرافیہ کی کرپشن ہے۔ مسلم ممالک کی کئی تنظیمیں اور گروپ بھی قائم ہیں جن میں او آئی سی، عرب لیگ اور ایکو قابل ذکر ہیں لیکن یہ تنظیمی سوائے اجلاس کے کچھ نہیں کر سکیں اور مسلم ممالک بدستور تباہی سے دوچار ہیں۔

جے یو آئی کے اجتماع میں امام کعبہ، سعودی وزیر اور مولانا فضل الرحمن نے جو باتیں کیں وہ اپنی روح اور بنیاد میں سچائی پر مبنی ہیں لیکن ہمارے ان اکابرین اور مسلم ممالک کے سربراہان کو ان وجوہات کو ضرور تلاش کرنا چاہیے جن کی وجہ سے مسلم ممالک پسماندگی، خانہ جنگی اور دہشتگردی کا شکار ہیں کیونکہ وجوہات تلاش کیے بغیر ان کا حل نہیں نکالا جا سکتا۔

 
Load Next Story