جامعہ اردو طلبا تنظیم کی ہنگامہ آرائیسیمسٹرامتحانات رکوادیے
شعبہ ابلاغ عامہ کے طلبانے احتجاجاً کراچی پریس کلب کے باہر اپنے پرچے حل کیے.
اردویونیورسٹی عبدالحق کیمپس میں طلبا تنظیم کی جانب سے امتحانی پرچے پھاڑنے کے بعد طلبااحتجاجاً پریس کلب کے سامنے پرچہ حل کررہے ہیں۔ فوٹو: ایکسپریس
وزیراعظم کو گرفتار کرنے کے سپریم کورٹ کے فیصلے کیخلاف بدھ کو اردو یونیورسٹی عبدالحق کیمپس میں ایک طلبا تنظیم کی جانب سے ہنگامہ آرائی کے دوران سیمسٹرامتحانات رکوادیے گئے۔
امتحانی پرچے اور کاپیاںپھاڑدی گئیں اور امتحان دینے والے طلبا کوزردوکوب اور طالبات سے بدتمیزی کی گئی، پرچے زبردستی ملتوی کرائے جانے پر شعبہ ابلاغ عامہ کے طلبا نے احتجاجاً کراچی پریس کلب کے باہر پرچے حل کیے تاہم یونیورسٹی انتظامیہ نے اس معاملے پرکسی کارروائی کے بجائے خاموش تماشائی کاکردار ادا کیا، گزشتہ روزجب وفاقی اردویونیورسٹی عبدالحق کیمپس میں سیمسٹرامتحانات کاآغاز ہواتو ایک طلباتنظیم نے وزیراعظم کے خلاف فیصلے پراحتجاج شروع کیا اوراحتجاج کادائرہ بڑھاتے ہوئے شعبہ جات میں جاکرامتحانات ملتوی کرانے شروع کردیے، طلبا تنظیم کے کچھ افراد شعبہ ایجوکیشن پہنچے اورزبردستی پرچہ ملتوی کرنے پر مزاحمت کرنے والے طلباکو تشددکانشانہ بنایا۔
طلبا نے جب اپنے بچائوکے لیے شعبہ ایجوکیشن کے پروفیسرخرم کے کمرے میں پناہ لینی چاہی توطلبا تنظیم کے افراد وہاں بھی گھس گئے اوروہاں بھی طلبا کو زردوکوب کیا، پروفیسرخرم کے مطابق طلبا کوزردوکوب کرنے کے دوران بعض طالبات بھی بالواسطہ اس تشدد کا نشانہ بن گئیں اور بھگدڑمیں کئی طالبات زمین پرگرگئیں، دوسری جانب اس معاملے پراحتجاج کرتے ہوئے شعبہ ابلاغ عامہ کے طلبا نے کراچی پریس کلب پہنچ کر شدید احتجاج کیا اور اپنے امتحانی پرچے بطور احتجاج پریس کلب کے سامنے حل کیے۔
امتحانی پرچے اور کاپیاںپھاڑدی گئیں اور امتحان دینے والے طلبا کوزردوکوب اور طالبات سے بدتمیزی کی گئی، پرچے زبردستی ملتوی کرائے جانے پر شعبہ ابلاغ عامہ کے طلبا نے احتجاجاً کراچی پریس کلب کے باہر پرچے حل کیے تاہم یونیورسٹی انتظامیہ نے اس معاملے پرکسی کارروائی کے بجائے خاموش تماشائی کاکردار ادا کیا، گزشتہ روزجب وفاقی اردویونیورسٹی عبدالحق کیمپس میں سیمسٹرامتحانات کاآغاز ہواتو ایک طلباتنظیم نے وزیراعظم کے خلاف فیصلے پراحتجاج شروع کیا اوراحتجاج کادائرہ بڑھاتے ہوئے شعبہ جات میں جاکرامتحانات ملتوی کرانے شروع کردیے، طلبا تنظیم کے کچھ افراد شعبہ ایجوکیشن پہنچے اورزبردستی پرچہ ملتوی کرنے پر مزاحمت کرنے والے طلباکو تشددکانشانہ بنایا۔
طلبا نے جب اپنے بچائوکے لیے شعبہ ایجوکیشن کے پروفیسرخرم کے کمرے میں پناہ لینی چاہی توطلبا تنظیم کے افراد وہاں بھی گھس گئے اوروہاں بھی طلبا کو زردوکوب کیا، پروفیسرخرم کے مطابق طلبا کوزردوکوب کرنے کے دوران بعض طالبات بھی بالواسطہ اس تشدد کا نشانہ بن گئیں اور بھگدڑمیں کئی طالبات زمین پرگرگئیں، دوسری جانب اس معاملے پراحتجاج کرتے ہوئے شعبہ ابلاغ عامہ کے طلبا نے کراچی پریس کلب پہنچ کر شدید احتجاج کیا اور اپنے امتحانی پرچے بطور احتجاج پریس کلب کے سامنے حل کیے۔