فٹبال رینکنگ میں پاکستان کی تنزلی فکر انگیز
شائقین فٹبال کے لیے اس کھیل کی اتنی زیادہ تنزلی یقیناً مایوسی کا باعث بنی ہے۔
کراچی میں صرف لیاری کے پسماندہ علاقے سے فٹبال کے باصلاحیت کھلاڑی سامنے آئے۔ فوٹو: فائل
پاکستان میں کرکٹ کے علاوہ قومی کھیل سمیت دیگر گیمز سے بے اعتناعی اور حکومتی سطح پر لاپرواہی کے باعث ہر کھیل زوال کا شکار ہے، ایک وقت میں کئی کئی گیمز کا عالمی چیمپئن رہنے والا پاکستان آج کھیلوں کی دنیا میں اپنی بقا کی جنگ لڑ رہا ہے۔
حالیہ اطلاعات کے مطابق عالمی فٹ بال رینکنگ میں بھی پاکستان تین درجے تنزلی کے باعث ٹاپ 200 ٹیموں سے بھی باہر ہو گیا ہے۔ 206 ممالک کی فہرست میں 201 نمبر پر ہونا اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ پاکستان میں فٹبال سے کس حد تک بے اعتناعی برتی جا رہی ہے جبکہ اس امر میں کوئی کلام نہیں کہ پاکستان میں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں، کراچی میں صرف لیاری کے پسماندہ علاقے سے فٹبال کے وہ باصلاحیت کھلاڑی سامنے آئے جنھیں اگر صحیح رہنمائی اور موافق ماحول عطا کر دیا جائے تو عالمی اسٹارز کا مقابلہ کر سکتے ہیں لیکن کارپوریٹ کلچر اور کھیلوں کو بھی کاروبار کی شکل دینے والے اذہان حقیقی معنوں میں کھیلوں کی افادیت سمجھنے سے قاصر ہیں، اس لیے ملک میں قومی کھیل ہاکی بھی زوال کا شکار ہے جب کہ فٹ بال پوری دنیا میں پسندیدہ ترین کھیل ہونے کے باوجود پاکستان میں مقبولیت کی سند حاصل نہیں کر سکا۔
شائقین فٹبال کے لیے اس کھیل کی اتنی زیادہ تنزلی یقیناً مایوسی کا باعث بنی ہے۔ قابل افسوس مقام ہے کہ بھارت جس سے ہم ہر میدان میں اپنا موازنہ کرتے ہیں وہ ہم سے پورے 100پائیدان اوپر ہے۔ امید کی جانی چاہیے کہ فٹبال رینکنگ میں تنزلی پر حکومتی زعما کی آنکھیں کھل جائیں اور وہ دیگر گیمز کے ساتھ فٹبال کی بحالی کے لیے بھی راست اقدامات کریں۔
حالیہ اطلاعات کے مطابق عالمی فٹ بال رینکنگ میں بھی پاکستان تین درجے تنزلی کے باعث ٹاپ 200 ٹیموں سے بھی باہر ہو گیا ہے۔ 206 ممالک کی فہرست میں 201 نمبر پر ہونا اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ پاکستان میں فٹبال سے کس حد تک بے اعتناعی برتی جا رہی ہے جبکہ اس امر میں کوئی کلام نہیں کہ پاکستان میں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں، کراچی میں صرف لیاری کے پسماندہ علاقے سے فٹبال کے وہ باصلاحیت کھلاڑی سامنے آئے جنھیں اگر صحیح رہنمائی اور موافق ماحول عطا کر دیا جائے تو عالمی اسٹارز کا مقابلہ کر سکتے ہیں لیکن کارپوریٹ کلچر اور کھیلوں کو بھی کاروبار کی شکل دینے والے اذہان حقیقی معنوں میں کھیلوں کی افادیت سمجھنے سے قاصر ہیں، اس لیے ملک میں قومی کھیل ہاکی بھی زوال کا شکار ہے جب کہ فٹ بال پوری دنیا میں پسندیدہ ترین کھیل ہونے کے باوجود پاکستان میں مقبولیت کی سند حاصل نہیں کر سکا۔
شائقین فٹبال کے لیے اس کھیل کی اتنی زیادہ تنزلی یقیناً مایوسی کا باعث بنی ہے۔ قابل افسوس مقام ہے کہ بھارت جس سے ہم ہر میدان میں اپنا موازنہ کرتے ہیں وہ ہم سے پورے 100پائیدان اوپر ہے۔ امید کی جانی چاہیے کہ فٹبال رینکنگ میں تنزلی پر حکومتی زعما کی آنکھیں کھل جائیں اور وہ دیگر گیمز کے ساتھ فٹبال کی بحالی کے لیے بھی راست اقدامات کریں۔