عشق کی خیال آرائیاں

موجودہ بیسٹ سیلر تصاویر میں کبھی کبھی ایسی تصاویر آجاتی ہیں جو ہمارے آرام و سکون کا بیڑہ غرق کر دیتی ہیں۔

barq@email.com

لگتا ہے آج کل ہمارے خلاف ایک سازش کر لی گئی ہو کہ روزانہ کچھ نہ کچھ ایسا بھی سامنے آ جاتا ہے' ہمارے دل پر آرے چلانے کے لیے کافی ہوتا ہے۔ ایسی خبروں، مضامین اور خاص طور پر تصاویر کو دیکھ کر :

آتی جاتی سانس کا عالم نہ پوچھ
جیسے دوہری دھار کا خنجر چلے

ایسا لگتا ہے کہ کسی کو یہ سن گن ملی ہو کہ سردست جو تصاویر وغیرہ وہ لانچ کر رہا ہے خاص طور پر شوبز کے متعلق ... تو اس سے ہمارا بیڑا پوری طرح غرق نہیں ہو رہا حالانکہ ایسا بالکل بھی نہیں۔ موجودہ بیسٹ سیلر تصاویر میں کبھی کبھی ایسی تصاویر آجاتی ہیں جو ہمارے آرام و سکون کا بیڑہ غرق کر دیتی ہیں مثلاً قریباً ایک برس ہونے کو ہے جب ہم نے ایک تصویر دیکھی تھی جس میں چند خواتین محو رقص تھیں اور ان میں ایک خاتون جین جیکٹ تھی' جس سے ہمارے دل کے سارے گھنگرو ٹوٹ گئے تھے۔ گویا

گنگناتی ہوئی آئی ہیں فلک سے بوندیں
کوئی بدلی تری پازیب سے ٹکرائی ہے

لیکن اس سے تسلی کہاں ہوتی ہے ہمارے دشمن تو چاہتے ہیں کہ ہمارا ککھ بھی نہ رہے، چنانچہ کچھ روز پہلے مدھو بالا کی تصاویر اور ایک مضمون نے وہ کسر بھی پوری کر دی اور ہمارے دل کے دور افتادہ کونے میں واقع ایک خاموش قبرستان میں ہل چل مچا دی اور سارے مردے اپنی قبروں سے نکل کر ہمارے گرد ناچنے لگے، پتہ چلا کہ مدھو بالا کا حسن اسکرین پر آدھا بھی دکھائی نہیں دیتا تھا اور ہم خدا کا شکر ادا کرنے لگے کہ اچھا ہوا ہم نے اس کا حسن پورے کا پورا نہیں دیکھا ہے ورنہ دلیپ کمار جواں مرگ ہو کر کبھی نوے سال تک نہ پہنچتا جو اکثر فلموں میں مدھو بالا سے شادی کر کے ہمارے دل کو خونا خون کرتا رہتا تھا اور وہ راج کپور ... بھی شاید اتنی مہلت نہ پایا کہ ڈبو وغیرہ کو جنم دیکر یہ کرشمے اور کرینے دکھاتا۔


آپ سے کیا پردہ ایک مرتبہ ہم نے انتہائی مشکل سے اور ماں باپ سے بے شمار جھوٹ بول کر دو روپے اس لیے جمع کیے تھے ہم نے ایک چھرا خریدنا تھا لیکن اس کم بخت نے دو روپے میں ہمیں ایک ''شل'' یعنی نیزے کا زنگ آلود پھل پکڑا دیا اور کہا کہ اگر اسے اچھی طرح تیز کر کے چمکا دیا جائے تو دو چھروں کا کام کرے گا۔

راج کپور کے قتل کرنے کا ارادہ ہمارے اندر اتنا مصمم تھا کہ بڑی مشکل سے وہ نیزے کا پھل اپنے نیفے میں اڑس کر پشاور شہر پہنچے اور ایک لوہار سے اس شل کو اچھی طرح تیز اور چمک دار کر کے لے آئے لیکن اس تیاری میں ہمارا سب کچھ خرچ ہو گیا اور بمبئی کا ٹکٹ خریدنے کے لیے کچھ بھی نہیں بچا ورنہ راج کپور کا راج پوری طرح کپورا ہو چکا ہوتا اور ہم علاقہ غیر میں بھیڑیں چراتے یا کسی جیل میں چکی پستے، جب ہمیں پتہ چلا کہ مدھو بالا کا باپ اس کا نام ہم بھول گئے لیکن اس زمانے میں اس سے اتنی نفرت کرتے تھے کہ اپنے گاؤں کے ایسے کئی آدمیوں سے ہمیں پرخاش ہو گئی جو مدھو بالا کے باپ کے ہم نام تھے۔

ایک تو بمبئی کے کرائے کا معاملہ تھا دوسرے پاکستان بھی بن گیا تھا، اس کے بعد ہم نے ساری رقابت کو خیالوں میں منتقل کر دیا اور دلیپ کمار کو کم از کم اتنی بار قتل کر ڈالا تھا جتنی بار اس نے مدھو بالا سے فلموں میں شادی کی تھی، ایسی ہر فلم دیکھ کر جب ہم باہر آتے تو وہ مخصوص ہتھیار جو ہم نے دو روپے کا زرکثیر خرچ کر کے خریدا تھا نکال کر کچا کچ کچا کچ اسے مارنے لگتے، حساب تو ہمیں یاد نہیں لیکن کم از کم پچیس تیس بار تو اسے ضرور استعمال کیا تھا۔

صرف آخر میں فلم مغل اعظم دیکھ کر ہمارا جی خوش ہوا تھا اور اسی وجہ سے اکبر پر ہمیں پیار آتا تھا کہ اس نے ان دونوں کی شادی نہیں ہونے دی ... حالانکہ انار کلی کی اصل کہانی میں اکبر کو ہم بہت برا سمجھے ہوئے تھے، لیکن خدا کے آصف کا بھلا کرے کہ اس نے تاریخ میں اصلاح کر کے مدھو بالا کو دیوار میں چنوانے سے بچا لیا تھا اور اکبر نے اس کی ماں کے ساتھ ایک پرانا وعدہ نبھاتے ہوئے انار کلی کو اس کے ساتھ کر دیا تھا اور اسے کہہ دیا کہ ہماری سلطنت سے باہر کسی ایسی جگہ چلی جاؤ جہاں سے تمہاری ہوا بھی نہ آئے۔

ہمیں یقین تھا کہ ایسی جگہ ہمارا علاقہ غیر ہی ہو سکتا ہے اور ہم ایک عرصے سے علاقہ غیر میں کھوج بھی کرتے رہے لیکن بعد میں کسی نے بتایا کہ اس کی ماں اسے ایران لے گئی ہے، اور اب ہمارے مندمل شدہ زخموں کو کرید کرید کر نمک پاشی کرنے والے نے یہ شوشہ چھوڑ دیا ہے کہ اسکرین پر مدھو بالا کا آدھا حسن بھی نظر نہیں آتا تھا، وہ تو اچھا ہے کہ اب ہم عمر کے اس مرحلے میں ہیں جہاں انسان صابرین و شاکرین میں سے ہو جاتا ہے ورنہ یہ پتہ اگر ہمیں اس زمانے میں لگتا جب آتش جوان ہوا کرتا تھا کہ اسکرین پر مدھو بالا کا صرف آدھا حسن دکھائی دیتا ہے اور وہ الگ باندھ کے رکھا ہے جو مال اچھا ہے تو ہم شاید ڈاکہ ڈال کر بھی بمبئی کے ٹکٹ کا انتظام کر لیتے یا بے ٹکٹ ہی گاڑی میں سوار ہو جاتے۔

ٹھیک ہے اس وقت ہماری عمر کچھ زیادہ نہیں آٹھ دس سال رہی ہو گی لیکن عشق کا تعلق نہ عمر سے ہوتا ہے نہ ذات اور نہ فاصلوں سے وہ تو بس ہو جاتا ہے، اب آپ یہ بھی نہیں مانیں گے کہ ایک دور میں ہم ایک بادشاہ کی بیٹی پر بری طرح مر مٹے تھے حالانکہ اسے گزرے ہوئے ایک زمانہ ہو گیا تھا لیکن ہم اسے ہمیشہ اپنے سامنے جیتا جاگتا ہوا پاتے، اور بے چاری کسی ڈری ہوئی ہرنی کی طرح اپنی بڑی بڑی آنکھوں سے دیکھتی ہوئی کہ کہیں اس کا وہ ظالم سماج ٹائپ کا باپ اسے دیکھ نہ لے جس پر جب ایک خاص موڈ طاری ہوتا تو رشتے ناطے سارے بھول جاتا تھا۔

ہم نے کہیں پڑھا تھا کہ شہزادی ایک شخص سے پیار کرتی تھی اور ایک دن وہ جب اسے ملنے آیا تو اوپر سے ''ظالم سماج'' آگیا، بے چارا عاشق ایک چولہا چڑھی ہوئی خالی دیگ میں چھپ گیا۔ ظالم سماج نے اس دیگ کے نیچے آگ جلوائی اور بے چارے عاشق کو ابال دیا، اس صدمے سے شہزادی کو ایسا صدمہ ہوا کہ چپ چپ سی رہنے لگی' صرف شعر کہتی تھی اور آہیں بھرتی تھی، کاش اس وقت ہم ہوتے اور ہمارے ہاتھ میں بھرا ہوا کلاشن کوف ہوتا تو ظالم سماج کے چیتھڑے اڑا کر رکھ دیتے... لیکن یہ تو ہمارے بس میں تھا کہ جب بھی جی چاہتا گردن جھکا کر شہزادی کے سوگوار حسن کا درشن کر لیتے تھے۔
Load Next Story