نیشنل گیمز بائیکاٹ کرنے والوں کا کیس ڈسپلنری کمیٹی کے سپرد
پاکستان اسپورٹس بورڈ کی جانب سے مقابلوں کے دوبارہ انعقاد کا اعلان مسترد۔
پاکستان اسپورٹس بورڈ کے اجلاس میں چند فیڈریشنز نے شرکت کی جن کی اکثریت پی او اے سے الحاق نہیں رکھتی، سید عارف حسن فوٹو فائل
پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن نے قومی کھیلوں کا بائیکاٹ کرنے والے یونٹس کے خلاف کارروائی کے لیے کیس ڈسپلنری کمیٹی کے سپرد کردیا۔
صدر جنرل(ر) سید عارف حسن نے اولمپک ہائوس لاہور میں ایڈوائزری کمیٹی میٹنگ کے بعد میڈیا سے بات چیت میں کہا کہ جن یونٹس نے 32 ویں قومی گیمز میں شرکت نہیں کی ان کا کیس ڈسپلنری کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا جو آئین و قانون کے مطابق سفارشات پیش کرے گی۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان اسپورٹس بورڈ کے اجلاس میں چند فیڈریشنز نے شرکت کی جن کی اکثریت پی او اے سے الحاق نہیں رکھتی، آئندہ ماہ جنرل کونسل کے اجلاس میں ایک بار پھر اپنی اکثریت ثابت کریں گے۔
سید عارف حسن نے کہا کہ اجلاس میں قومی گیمز کے آرگنائزنگ سیکریٹری ادریس حیدر خواجہ نے اپنی رپورٹ پیش کی، مشکل حالات کے باوجود گیمز کے انعقاد پر شرکا نے پنجاب اولمپک ایسوسی ایشن کو خراج تحسین پیش کیا،پاکستان اسپورٹس بورڈ کی جانب سے کھیلوں کے دوبارہ انعقاد کے اعلان کو مسترد کرتے ہوئے متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا کہ پی ایس بی کے زیر اہتمام یونٹس قومی سطح پرہونے والے ایونٹ میں ضرور حصہ لیں گے۔
انھوں نے کہا کہ انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی نے پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے معاملات میں حکومتی مداخلت پرمیڈیا رپورٹس کا جائزہ لینے کے بعد ہم سے رابطہ کیا تھا، انھیں تفصیلات سے آگاہ کرنے کیلیے 15 فروری کورپورٹ پیش کی جائے گی، ہم پہلے بھی پی او اے کی معطلی کے خلاف تھے اور اب بھی آخری حد تک کوشش ہوگی کہ پاکستان کے خلاف سخت ایکشن نہ لیا جائے۔انھوں نے کہا کہ میری خواہش ہے کہ آئی او سی حکومتی نمائندوں کو بھی اس خصوصی اجلاس میں طلب کرے تاکہ دونوں فریقین کا موقف معلوم کیا جاسکے ، ہم معاملے کو آئی او سی چارٹر اور مروجہ قوانین کے مطابق افہام و تفہیم سے حل کرنا چاہتے ہیںکیونکہ موجودہ صورتحال میں کھلاڑیوں کا نقصان ہو رہا ہے۔
ایک سوال پر انھوں نے کہا کہ ہمیں تاحال پی ایس بی کی میٹنگ کے منٹس نہ ہی لاہور ہائیکورٹ کا تفصیلی فیصلہ ملااس لیے کوئی رائے نہیں دے سکتا۔ عارف حسن نے کہا کہ پی ایس بی کے عہدیداراسپورٹس پالیسی میں شامل اپنے مطلب کی شقوں پر تو عملدرآمدکرانا چاہتے ہیں لیکن ایسی کسی شق پرعمل نہیں کرتے جس سے کسی اورکے موقف کی تائید ہو۔
صدر جنرل(ر) سید عارف حسن نے اولمپک ہائوس لاہور میں ایڈوائزری کمیٹی میٹنگ کے بعد میڈیا سے بات چیت میں کہا کہ جن یونٹس نے 32 ویں قومی گیمز میں شرکت نہیں کی ان کا کیس ڈسپلنری کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا جو آئین و قانون کے مطابق سفارشات پیش کرے گی۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان اسپورٹس بورڈ کے اجلاس میں چند فیڈریشنز نے شرکت کی جن کی اکثریت پی او اے سے الحاق نہیں رکھتی، آئندہ ماہ جنرل کونسل کے اجلاس میں ایک بار پھر اپنی اکثریت ثابت کریں گے۔
سید عارف حسن نے کہا کہ اجلاس میں قومی گیمز کے آرگنائزنگ سیکریٹری ادریس حیدر خواجہ نے اپنی رپورٹ پیش کی، مشکل حالات کے باوجود گیمز کے انعقاد پر شرکا نے پنجاب اولمپک ایسوسی ایشن کو خراج تحسین پیش کیا،پاکستان اسپورٹس بورڈ کی جانب سے کھیلوں کے دوبارہ انعقاد کے اعلان کو مسترد کرتے ہوئے متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا کہ پی ایس بی کے زیر اہتمام یونٹس قومی سطح پرہونے والے ایونٹ میں ضرور حصہ لیں گے۔
انھوں نے کہا کہ انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی نے پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے معاملات میں حکومتی مداخلت پرمیڈیا رپورٹس کا جائزہ لینے کے بعد ہم سے رابطہ کیا تھا، انھیں تفصیلات سے آگاہ کرنے کیلیے 15 فروری کورپورٹ پیش کی جائے گی، ہم پہلے بھی پی او اے کی معطلی کے خلاف تھے اور اب بھی آخری حد تک کوشش ہوگی کہ پاکستان کے خلاف سخت ایکشن نہ لیا جائے۔انھوں نے کہا کہ میری خواہش ہے کہ آئی او سی حکومتی نمائندوں کو بھی اس خصوصی اجلاس میں طلب کرے تاکہ دونوں فریقین کا موقف معلوم کیا جاسکے ، ہم معاملے کو آئی او سی چارٹر اور مروجہ قوانین کے مطابق افہام و تفہیم سے حل کرنا چاہتے ہیںکیونکہ موجودہ صورتحال میں کھلاڑیوں کا نقصان ہو رہا ہے۔
ایک سوال پر انھوں نے کہا کہ ہمیں تاحال پی ایس بی کی میٹنگ کے منٹس نہ ہی لاہور ہائیکورٹ کا تفصیلی فیصلہ ملااس لیے کوئی رائے نہیں دے سکتا۔ عارف حسن نے کہا کہ پی ایس بی کے عہدیداراسپورٹس پالیسی میں شامل اپنے مطلب کی شقوں پر تو عملدرآمدکرانا چاہتے ہیں لیکن ایسی کسی شق پرعمل نہیں کرتے جس سے کسی اورکے موقف کی تائید ہو۔