عمارت سےگرکرنوجوان کی ہلاکت کمیٹی 20جنوری کو رپورٹ ہائیکورٹ میں جمع کرائے گی

پولیس رپورٹ میں اسٹیٹ لائف بلڈنگ کی انتظامیہ،فائر بریگیڈ کا افسراور سیکیورٹی گارڈزذمے دارقراردیدیے گئے،تفتیشی ذرائع.

پولیس رپورٹ میں اسٹیٹ لائف بلڈنگ کی انتظامیہ ، فائر بریگیڈ کا افسراور سیکیورٹی گارڈزذمے دارقراردیدیے گئے،تفتیشی ذرائع. فوٹو: فائل

اسٹیٹ لائف بلڈنگ میں آتشزدگی کے دوران آٹھویں منزل سے گرکرجاں بحق ہونے والے نوجوان اویس بیگ کی ہلاکت کی تحقیقات کیلیے قائم کی جانے والی پولیس افسران پر مشتمل کمیٹی 20 جنوری کو رپورٹ سندھ ہائیکورٹ میں جمع کرائے گی۔

تحقیقاتی رپورٹ میںاسٹیٹ لائف بلڈنگ کی انتظامیہ ، فائر بریگیڈ آفیسر اور سیکیورٹی گارڈز کو ذمے دار قرار دیا گیا ہے،تفصیلات کے مطابق گلستان جوہر بلاک 13کا رہائشی اویس بیگ 28 نومبر2012کوعبداﷲ ہارون روڈ پر واقع اسٹیٹ لائف بلڈنگ نمبر 11 میں قائم کراچی الیکٹرک سپلائی کمپنی کے دفترمیں انٹرویو کیلیے آیا تھا، وہ آٹھویں منزل پر بیٹھا اپنی باری کا انتظار کررہا تھا کہ اس دوران عمارت میں آگ بھڑک اٹھی۔


دھواں تیزی سے اوپری منزل کی جانب پھیلنے لگا اس صورتحال سے گھبرا کر اویس بیگ جان بچانے کے لیے آٹھویں منزل کے ایک روشندان سے باہر نکل کرلٹک گیااور مدد کے لیے پکارتا رہا تاہم وہ اپنا توازن زیادہ دیر تک برقرار نہیں رکھ سکا اور بلندی سے گر کر جاں بحق ہوگیا ، اویس بیگ کی ہلاکت میں غفلت ، لاپروائی اور غیر ذمے داری کا تعین کرنے کے لیے قائم کی جانے والی تحقیقاتی کمیٹی نے رپورٹ مرتب کرنے کے دوران 45 سے زائد افراد کے بیانات قلمبند کیے جس میں اسٹیٹ لائف بلڈنگ کے سیکیورٹی گارڈز، قریبی مارکیٹ کے دکاندار،کے ای ایس سی ، فائر بریگیڈ اور سول ڈیفنس کا عملہ شامل ہے۔



ذرائع کا کہنا ہے کہ بجلی کے کیبلز میں آگ لگنے کے باعث پیدا ہونے والا دھواں انتہائی مہلک ہوتا ہے اور اس میں سانس لینا دشوار ہوجاتا ہے اور ایسی ہی صورتحال اویس بیگ کے ساتھ رونما ہوئی جو عمارت کی آٹھویں منزل پر دھواں بھر جانے کے باعث دم گھٹنے کی وجہ سے جان بچانے کے لیے روشندان سے باہر نکلا اور تقریباً چار منٹ تک لٹکا رہا ، اس دوران اس کی جان بچانے کے لیے عمارت کی انتظامیہ نے پیش رفت نہیں کی اور روشندان سے لٹکا اویس بیگ گر کر جاں بحق ہوگیا ، تفتیشی ذرائع کا کہنا ہے کہ گراؤنڈ فلور اسٹیٹ لائف جبکہ میزانائن اور فرسٹ فلور شیزان کمپنی کے زیر استعمال ہے، اوپر کے متعدد فلور پرکراچی الیکٹرک سپلائی کمپنی کے دفاتر قائم ہیں۔
Load Next Story