حکومت عوام کیلیے کچھ نہیں کررہی پشاور ہائیکورٹ

صوبائی اسمبلی اورجیل کے سامنے فلائی اوور ہائی رسک بن سکتاہے، دوست محمد خان۔

خصوصی کمیٹی قائم کرنے کی ہدایت،فیول ایڈجسٹمنٹ سرچارج بڑھانے پرجواب طلب۔ فوٹو: فائل

KARACHI:
چیف جسٹس پشاورہائی کورٹ جسٹس دوست محمدخان نے کہاہے کہ حکومت عوام کے لیے کچھ بھی نہیں کررہی ہے جس کے با عث آج عوام اسلام آباد کی سڑکوں پردھرنا دیے ہوئے ہیں۔

دنیا بھر میں فلائی اوور شہروںسے باہرہیںجبکہ یہاں ہائی کورٹ،صوبائی اسمبلی اور جیل کے سامنے فلائی اوورتعمیرکیاجارہاہے جوسب کیلیے ہائی رسک بن سکتاہے،یونیورسٹی روڈکے انڈرپاسزکی تعمیربھی عوام کیلیے وبال جان بنی ہوئی ہے لیکن ہمارے ہاں ایک شہر میں کئی فلائی اووربنادیے گئے ہیںجنکی تعمیرکیلیے کسی غیرملکی کمپنی سے مشاورت کی گئی اورنہ ہی ادارہ تحفظ ماحولیات سے مشورہ مانگاگیاجس کے باعث پشاورمیںآج بھی ٹریفک اور آلودگی کامسئلہ جوں کا توں ہے ،یہ ریمارکس انھوںنے صوبائی دارالحکومت میں گرین بیلٹس ختم کرکے فلائی اوورز تعمیرکرنے کے خلاف دائردرخواست کی سماعت کے دوران دیے۔




فاضل بنچ نے ادارہ تحفظ ماحولیات کے ڈائریکٹرجنرل کی سربراہی میںخصوصی کمیٹی قائم کرنے کی ہدایت کی اوراحکامات جاری کیے کہ مذکورہ کمیٹی ان پودوںکامعائنہ کر کے جامع رپورٹ مرتب کرکے رجسٹرار کے پاس جمع کرائے فاضل بنچ نے بعد ازاںرٹ پٹیشن نمٹا دی۔ادھرپشاورہائی کورٹ نے فیول ایڈجسٹمنٹ سرچارج کی مد میںاضافے پرچیئرمین نیپرا اوروفاقی سیکریٹری واٹر اینڈ پاورکی جانب سے عدالتی احکامات کے مطابق جواب جمع نہ کرنے پر عدالت سے معافی کے بعد ان کیخلاف دائر توہین عدالت کا مقدمہ واپس لے لیاجبکہ ایک ماہ کے اندر فیول ایڈجسٹمنٹ سرچارج کی مد میںعدالتی احکامات کے باوجوداضافے پر جواب طلب کرلیاہے۔
Load Next Story