جدید کرکٹ کی جانب پاکستانی سفر سست روی کا شکار
پاکستان کو اننگز ٹکڑوں میں تقسیم کرتے ہوئے رن ریٹ کا تعین کرنے کی حکمت عملی اپنانا ہوگی، سابق کرکٹر
پاکستان کو اننگز ٹکڑوں میں تقسیم کرتے ہوئے رن ریٹ کا تعین کرنے کی حکمت عملی اپنانا ہوگی، سابق کرکٹر۔ فوٹو: فائل
پاکستان کا جدید کرکٹ کی جانب سفر سست روی کا شکار ہے۔
ہیڈ کوچ مکی آرتھر اور چیف سلیکٹر انضمام الحق ہمیشہ محدود اوورز کی کرکٹ میں پاکستان کرکٹ کو جدید خطوط پر استوار کرتے ہوئے جارحانہ انداز دینے کی بات کرتے ہیں،مگر اس ضمن میں پیش رفت انتہائی سست دکھائی دیتی ہے، کمزور ویسٹ انڈین ٹیم کیخلاف ٹوئنٹی20 سیریز جیتنے کے بعد ان دنوں ون ڈے میں مقابلہ جاری ہے، پہلے میچ میں پاکستان نے 140گیندوں پر کوئی رن نہیں بنایا،دوسرے میں 143بالز بیکار گئیں، مجموعی طور پر 283ڈاٹ گیندیں کھیلیں گئیں۔ اس کا مطلب ہوا کہ مجموعی طور پر دونوں میچز کے 100اوورز میں سے 47.1ضائع کردیے گئے۔
اس ضمن میں محمد حفیظ خاص طور پر قصوروار تھے،انھوں نے دونوں اننگز میں 142گیندیں کھیلتے ہوئے 70پر اسکوررکو زحمت دینے کی ضرورت محسوس نہیں کی،سابق کپتان نے مجموعی طور پر 120رنز بنائے، پہلے میچ میں ان کو فارم میں واپسی کا موقع دینے کیلیے بابر اعظم کی جگہ تیسری پوزیشن پر بھیجا گیا۔
اس فیصلے سے نوجوان بیٹسمین کی کارکردگی اور رنز کی رفتار دونوں متاثر ہوئیں۔اس حوالے سے گفتگوکرتے ہوئے سابق ٹیسٹ کرکٹر شعیب اختر نے کہا کہ محمد حفیظ بیٹسمین سے زیادہ بطور بولر زیادہ آزمائے جارہے ہیں۔ ٹاپ آرڈر میں کھیلتے ہوئے وہ اپنی کارکردگی کیلیے زیادہ فکر مند ہونے کی وجہ سے نیچرل کھیل کا مظاہرہ نہیں کرپاتے، اسٹروک میکر ہونے کے باوجود سنگلزکیلیے انھوں نے عجیب سا انداز بھی اختیار کیا، ایسے میں کپتان سرفراز احمد خود اوپر کے نمبرز پر بیٹنگ کیلیے آئیں، محمد حفیظ کو چھٹے یا ساتویں نمبر پر بھیجا جائے تو ہم بڑے اسکور کی امید کرسکتے ہیں۔
شعیب اختر نے کہا کہ دوسرے ون ڈے میں وکٹ ناہموار تھی لیکن موقع کے مطابق رن ریٹ نہیں بڑھایا جا سکا، آخر میں بابر اعظم اور عماد وسیم ہمت نہ دکھاتے تو مجموعہ بہت کم رہ جاتا، یہ بھی اس لیے ممکن ہوا کہ مقابل سائیڈ ویسٹ انڈیز تھی، کسی بڑی ٹیم کے پیسرز آسانی سے مار نہیں کھائیں گے، پاکستان کو اننگز ٹکڑوں میں تقسیم کرتے ہوئے رن ریٹ کا تعین کرنے کی حکمت عملی اپنانا ہوگی۔
ہیڈ کوچ مکی آرتھر اور چیف سلیکٹر انضمام الحق ہمیشہ محدود اوورز کی کرکٹ میں پاکستان کرکٹ کو جدید خطوط پر استوار کرتے ہوئے جارحانہ انداز دینے کی بات کرتے ہیں،مگر اس ضمن میں پیش رفت انتہائی سست دکھائی دیتی ہے، کمزور ویسٹ انڈین ٹیم کیخلاف ٹوئنٹی20 سیریز جیتنے کے بعد ان دنوں ون ڈے میں مقابلہ جاری ہے، پہلے میچ میں پاکستان نے 140گیندوں پر کوئی رن نہیں بنایا،دوسرے میں 143بالز بیکار گئیں، مجموعی طور پر 283ڈاٹ گیندیں کھیلیں گئیں۔ اس کا مطلب ہوا کہ مجموعی طور پر دونوں میچز کے 100اوورز میں سے 47.1ضائع کردیے گئے۔
اس ضمن میں محمد حفیظ خاص طور پر قصوروار تھے،انھوں نے دونوں اننگز میں 142گیندیں کھیلتے ہوئے 70پر اسکوررکو زحمت دینے کی ضرورت محسوس نہیں کی،سابق کپتان نے مجموعی طور پر 120رنز بنائے، پہلے میچ میں ان کو فارم میں واپسی کا موقع دینے کیلیے بابر اعظم کی جگہ تیسری پوزیشن پر بھیجا گیا۔
اس فیصلے سے نوجوان بیٹسمین کی کارکردگی اور رنز کی رفتار دونوں متاثر ہوئیں۔اس حوالے سے گفتگوکرتے ہوئے سابق ٹیسٹ کرکٹر شعیب اختر نے کہا کہ محمد حفیظ بیٹسمین سے زیادہ بطور بولر زیادہ آزمائے جارہے ہیں۔ ٹاپ آرڈر میں کھیلتے ہوئے وہ اپنی کارکردگی کیلیے زیادہ فکر مند ہونے کی وجہ سے نیچرل کھیل کا مظاہرہ نہیں کرپاتے، اسٹروک میکر ہونے کے باوجود سنگلزکیلیے انھوں نے عجیب سا انداز بھی اختیار کیا، ایسے میں کپتان سرفراز احمد خود اوپر کے نمبرز پر بیٹنگ کیلیے آئیں، محمد حفیظ کو چھٹے یا ساتویں نمبر پر بھیجا جائے تو ہم بڑے اسکور کی امید کرسکتے ہیں۔
شعیب اختر نے کہا کہ دوسرے ون ڈے میں وکٹ ناہموار تھی لیکن موقع کے مطابق رن ریٹ نہیں بڑھایا جا سکا، آخر میں بابر اعظم اور عماد وسیم ہمت نہ دکھاتے تو مجموعہ بہت کم رہ جاتا، یہ بھی اس لیے ممکن ہوا کہ مقابل سائیڈ ویسٹ انڈیز تھی، کسی بڑی ٹیم کے پیسرز آسانی سے مار نہیں کھائیں گے، پاکستان کو اننگز ٹکڑوں میں تقسیم کرتے ہوئے رن ریٹ کا تعین کرنے کی حکمت عملی اپنانا ہوگی۔