حصص مارکیٹ تجارتی سرگرمیاں سست روی کا شکار

پانامہ کیس فیصلے میں تاخیرسے سرمایہ کارپریشان،اتارچڑھاؤ، انڈیکس 54پوائنٹس اضافے سے 47943ہوگیا

بیشترکمپنیوں کی قیمتیں گرنے کے باوجودمارکیٹ سرمایہ 4 ارب روپے بلند،کاروباری حجم14فیصد کم،13 کروڑ حصص کے سودے۔ فوٹو: آئی این پی/فائل

پاکستان اسٹاک ایکس چینج میں تجارتی سرگرمیاں سست روی کا شکار ہوگئیں تاہم پانامہ کیس فیصلہ کے اعلان میں تاخیر سے سرمایہ کاروں میں اضطراب کے باعث پیرکو قابل ذکرنوعیت کی تیزی رونما نہ ہوسکی۔

ماہرین اسٹاک کا کہنا تھا کہ سرمایہ کاری کے تمام شعبے پانامہ کیس کے فیصلے کے اعلان کے منتظر ہیں اوران شعبوں کی خواہش ہے کہ فیصلہ آنے کے بعد ہی وہ مارکیٹ میں اپنی نئی کاروباری ترجیحات کے ساتھ سرمایہ کاری پلان ترتیب دیں گے۔


ٹریڈنگ کے دوران ایک موقع پر157.53 پوائنٹس کی مندی بھی رونما ہوئی لیکن بعد ازاں انفرادی سرمایہ کاروں اور انشورنس کمپنیوں کی جانب سے ہونے والی بڑھتی ہوئی خریداری سرگرمیوں کے نتیجے میں مندی میں تیزی میں تبدیل ہوگئی جس سے ایک موقع پر206.19 پوائنٹس کی تیزی بھی رونما ہوئی لیکن اس دوران ڈے ٹریڈنگ کرنے والوں کی جانب سے فوری منافع کے حصول پر رحجان غالب ہوگیا۔ جس سے تیزی کی مذکورہ شرح میں کمی ہوئی۔

کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 53.58 پوائنٹس کے اضافے سے 47942.95 ہوگیا جبکہ کے ایس ای30 انڈیکس 80.89 پوائنٹس بڑھ کر 25499.10، کے ایم آئی30 انڈیکس65.65 پوائنٹس کے اضافے سے 82083.46 اور پی ایس ایکس کے ایم آئی انڈیکس 8.87 پوائنٹس بڑھ کر 23116.13 ہوگیا۔

کاروباری حجم گزشتہ جمعہ کی نسبت14.22 فیصد کم رہا اور مجموعی طور پر13 کروڑ 6 لاکھ99 ہزار540 حصص کے سودے ہوئے جبکہ کاروباری سرگرمیوں کا دائرہ کار 359 کمپنیوں کے حصص تک محدود رہا جن میں131 کے بھاؤ میں اضافہ، 210 کے داموں میں کمی اور18 کی قیمتوں میں استحکام رہا، جن کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ان میں سفائر فائیبرکے بھاؤ47 روپے بڑھ کر1129.50 روپے اور بھنیروٹیکسٹائل کے بھاؤ 38.26 روپے بڑھ کر803.52 روپے ہوگئے جبکہ باٹا پاکستان کے بھاؤ217.70 روپے کم ہوکر4136.30 روپے اور فلپس موریس پاکستان کے بھاؤ137 روپے کم ہوکر2613 روپے ہوگئے۔
Load Next Story