موروں کی نسل ناپید ہونے سے بچائی جائے
ضرورت اس امر کی ہے کہ باقی بچ جانے والے موروں کے تحفظ کے لیے فوری...
اب تک ایک سو سے زائد مور اس بیماری کے ہاتھوں لقمہ اجل بن چکے ہیں. فوٹو اختر خان، سجاد باجیر
خالق کائنات نے سرزمین پاکستان کو بے شمار نعمتوں سے نواز ہے دریا، پہاڑ اور صحرا یہاں سب کچھ موجود ہے۔ وادی مہران کا شمار دنیا کی قدیم ترین تہذیبوں میں ہوتا ہے' یہ خطہ قدرت کی صناعی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ بظاہر خشک و بیاباں' لق و دق نظر آنے والے صحرائے تھر کی خوبصورتی، رعنائی اور دلکشی کا راز یہاں کثرت سے پائے جانے والے مور ہیں۔
مور کے حسن و جمال میں ایک الگ نوعیت کی کشش ہے' یہی وجہ ہے کہ اردو سمیت تمام پاکستانی زبانوں کے ادب میں مور کے حسن و جمال کے تذکروں کے علاوہ روزمرہ بول چال کے محاورے اور ضرب الامثال بھی موجود ہیں۔ جمالیات کی دنیا کے پرستاروں سمیت ہر ذی شعور شخص تھرپارکر میں موروں کی رانی کھیت کی بیماری سے ہلاکتوں کی وجہ سے شدید فکرمند ہے
کیونکہ اب تک ایک سو سے زائد مور اس بیماری کے ہاتھوں لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ جنگلی حیات کے تحفظ کی ذمے داری محکمہ وائلڈ لائف پر عائد ہوتی ہے لیکن اس بیماری سے اتنے زیادہ موروں کی ہلاکت سے محسوس ہوتا ہے کہ یہ ذمے داری احسن طریقے سے پوری نہیں کی جا رہی ہے جس کی وجہ سے مور کی نادر و نایاب نسل کے ناپید ہونے کے خطرات منڈلانا شروع ہو چکے ہیں۔ ان حالات میں ضرورت اس امر کی ہے کہ باقی بچ جانے والے موروں کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات عمل میں لائے جائیں'
ان کو محفوظ جگہ پر منتقل کیا جائے اور ان کو لاحق بیماری کا علاج کیا جائے جب کہ بچ جانے والے موروں کی مناسب ویکسی نیشن کی جائے تاکہ ان کو بھی رانی کھیت لاحق نہ ہو جائے۔ یہ بات بھی علم میں آئی ہے کہ موروں کو تحفظ فراہم کرنے والے عملے کی تعداد نہایت محدود ہے' ضروری ہے کہ اس تعداد میں مناسب اضافہ کیا جائے۔ اگرچہ کافی نقصان ہو چکا ہے لیکن اب بھی وقت ہے کہ اس خوبصورت پرندے کی بقا و تحفظ کے لیے ٹھوس اقدامات کر لیے جائیں تاکہ اس حسین و جمیل پرندے کو ناپید ہونے سے بچایا جا سکے۔
مور کے حسن و جمال میں ایک الگ نوعیت کی کشش ہے' یہی وجہ ہے کہ اردو سمیت تمام پاکستانی زبانوں کے ادب میں مور کے حسن و جمال کے تذکروں کے علاوہ روزمرہ بول چال کے محاورے اور ضرب الامثال بھی موجود ہیں۔ جمالیات کی دنیا کے پرستاروں سمیت ہر ذی شعور شخص تھرپارکر میں موروں کی رانی کھیت کی بیماری سے ہلاکتوں کی وجہ سے شدید فکرمند ہے
کیونکہ اب تک ایک سو سے زائد مور اس بیماری کے ہاتھوں لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ جنگلی حیات کے تحفظ کی ذمے داری محکمہ وائلڈ لائف پر عائد ہوتی ہے لیکن اس بیماری سے اتنے زیادہ موروں کی ہلاکت سے محسوس ہوتا ہے کہ یہ ذمے داری احسن طریقے سے پوری نہیں کی جا رہی ہے جس کی وجہ سے مور کی نادر و نایاب نسل کے ناپید ہونے کے خطرات منڈلانا شروع ہو چکے ہیں۔ ان حالات میں ضرورت اس امر کی ہے کہ باقی بچ جانے والے موروں کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات عمل میں لائے جائیں'
ان کو محفوظ جگہ پر منتقل کیا جائے اور ان کو لاحق بیماری کا علاج کیا جائے جب کہ بچ جانے والے موروں کی مناسب ویکسی نیشن کی جائے تاکہ ان کو بھی رانی کھیت لاحق نہ ہو جائے۔ یہ بات بھی علم میں آئی ہے کہ موروں کو تحفظ فراہم کرنے والے عملے کی تعداد نہایت محدود ہے' ضروری ہے کہ اس تعداد میں مناسب اضافہ کیا جائے۔ اگرچہ کافی نقصان ہو چکا ہے لیکن اب بھی وقت ہے کہ اس خوبصورت پرندے کی بقا و تحفظ کے لیے ٹھوس اقدامات کر لیے جائیں تاکہ اس حسین و جمیل پرندے کو ناپید ہونے سے بچایا جا سکے۔