شیخ حسینہ کا دورۂ بھارت
وزیراعظم شیخ حسینہ کا دورۂ بھارت ایک اعتبار سے کامیاب ہی رہا ہے
وزیراعظم شیخ حسینہ کا دورۂ بھارت ایک اعتبار سے کامیاب ہی رہا ہے۔ اس اعتبار سے تو دورے کو کامیاب ہی کہا جائے گا کیونکہ وہ 22 معاہدوں پر دستخط کرنے میں کامیاب ہو گئیں۔ ان میں سے ایک معاہدہ جوہری تنصیبات کے بارے میں بھی ہے۔ بہرحال بھارتی عوام کی طرف سے بنگلہ دیشی خاتون لیڈر کا ویسا پرجوش استقبال نہیں کیا گیا جس کی توقع تھی۔ اس کی ایک وجہ جو میرے ذہن میں آتی ہے وہ یہ ہے کہ حسینہ کے دورے میں تمام توجہ ان کی ذات پر دی گئی، بنگلہ دیش کی آزادی کی جدوجہد پر زیادہ فوکس نہیں کیا گیا۔
شیخ مجیب الرحمٰن کا نام بھارت میں ہر ایک کے ہونٹوں پر ہے کیونکہ انھوں نے 1930ء اور 1940ء کے عشروں میں برطانوی حکمرانوں کے خلاف جدوجہد کی تھی۔ یہ درست ہے کہ بنگلہ دیش کے ہائی کمیشن نے اپنی وزیراعظم کے اعزاز میں جو استقبالیہ دیا تھا اس میں بنگلہ دیش کی تحریک آزادی کو بطور خاص اہمیت دی گئی اور اس حوالے سے شیخ حسینہ کو بھی خراج تحسین پیش کیا گیا لیکن یہ ساری رسمی کارروائی لگتی تھی۔ البتہ شیخ حسینہ نے اس موقع پر 1971ء میں ہونے والی آزادی کی جدوجہد پر مؤثر انداز میں روشنی ڈالنے کا موقع کھو دیا۔ جب ملک کے اہل دانش کو چن چن کر ہلاک کیا جا رہا تھا۔
پاکستان کے اس وقت کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو شیخ مجیب الرحمٰن کی جان بچانے کا سہرا اپنے سر باندھتے تھے۔ جنرل یحییٰ خاں شیخ مجیب کو سزائے موت دینے پر تلے ہوئے تھے۔
جنرل یحییٰ شیخ مجیب کا قصہ پاک کرنا چاہتے تھے مگر بھٹواورایوب خان نے انھیں بچا لیا۔ لیکن بھٹو نے شیخ مجیب کو بچانے کا کریڈٹ لے لیا حالانکہ درحقیقت انھوں نے مجیب کو نہیں بچایا تھا۔ میں نے بعد ازاں ایوب خان کا انٹرویو کیا تھا تو ان کا کہنا تھا کہ انھیں مشرقی پاکستان میں رہنے والوں پر کبھی اعتبار نہ ہوا کیونکہ وہ چھپ کر وار کرتے تھے لیکن اس کے باوجود انھوں نے ڈھاکا میں پارلیمنٹ ہاؤس تعمیر کروایا۔ انھیں شروع ہی سے شک تھا کہ بنگالی جلد یا بدیر الگ ہو جائیں گے۔
پاکستان آج بھی ہندوستان پر الزام عائد کرتا ہے کہ اس نے بنگلہ دیش بنوایا اور یقیناً اس میں کوئی شک نہیں کہ اگر بھارت کی مسلح افواج مدد نہ کرتیں تو مشرقی پاکستان کبھی الگ نہ ہو سکتا تھا۔ لیکن ایک نہ ایک دن انھیں علیحدہ ہونا ہی تھا۔
مجھے بنگلہ دیش میں مکمل اپوزیشن دیکھ کر بہت حیرانی ہوئی ۔ بنگلہ دیشی پاکستان پر زیادتیوں کے الزامات بھی عائد کرتے ہیں۔ ان دنوں میں مجھے راولپنڈی جانے کا موقع بھی ملا جہاں دیواروں پر ایک ہی نعرہ لکھا تھا ''کرش انڈیا'' (بھارت کو کچل دو)۔ بنگلہ دیش میں چلنے والی باغیانہ تحریک کا بھارت ہی کو ذمے دار قرار دیا جا رہا تھا۔ اب بدقسمتی ہے کہ شیخ حسینہ نے مطلق العنان حکمران کا روپ اختیار کر لیا ہے۔ وہ اقتدار میں رہنے کی خاطر انتخابات میں بھی دھاندلیاں کراتی ہیں۔ ان کی سیاسی حریف بیگم خالدہ ضیاء کھلم کھلا کہتی ہیں کہ اگر بھارت شیخ حسینہ کی پشت پناہی نہ کرے تو اسے کبھی کا نکال باہر کیا جاتا۔ مجھے یاد ہے ایک مرتبہ میں ڈھاکا گیا جہاں قومی دن کی تقریبات کے سلسلے میں چائے کی ایک دعوت دی جا رہی تھی جس میں تمام سیاسی جماعتوں کے نمایندے موجود تھے۔
اپوزیشن لیڈر مودود احمد کو اسی پارٹی سے گرفتار کر لیا گیا اور اسے طویل عرصہ جیل میں گزارنا پڑا۔ بیگم خالدہ ضیاء نے شیخ حسینہ کے بارے میں جو بات کہی ہے اس سے ثابت ہوتا ہے کہ حسینہ عمر بھر برسراقتدار رہنا چاہتی ہیں۔ بنگلہ دیش نیشنل پارٹی (بی این پی) نے شیخ حسینہ کے بھارت کے ساتھ دفاعی معاہدہ کرنے کو بنگلہ دیشی عوام کے ساتھ غداری کے مترادف قرار دیا ہے۔
ان کا مؤقف ہے کہ اس طرح بنگلہ دیش کا سیکیورٹی نظام کی حساسیت بھارت کے لیے بے نقاب ہو جائے گی۔ اس سے قبل چین نے بھی بنگلہ دیش کے ساتھ دفاعی معاہدے کی پیشکش کی تھی جسے مسترد کر دیا گیا تھا حالانکہ اس کی طرف سے ملک کو بے شمار مراعات کی پیش کش کی گئی تھی۔بنگلہ دیش دریائے تیستا کے پانی پر بھی معاہدہ کرنا چاہتا تھا مگر مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ ممتا بینرجی کی مخالفت کی وجہ سے یہ معاہدہ نہ ہو سکا۔ ممتا بینرجی کا مؤقف ہے کہ دریائے تیستا کا پانی ویسے ہی بہت کم ہے جس کو بنگلہ دیش کے ساتھ تقسیم نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے حسینہ کو یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ اس مسئلہ کا حل نکالنے میں مدد کریں گے اور یہ مسئلہ حل کر دیں گے۔
نئی دہلی حکومت بنگلہ دیشی مطالبات کے حوالے سے بہت فراخدل ہے بلکہ یہ اکیلا ہی اس کا دوست ملک ہے۔ ہم نے پاکستان، نیپال اور سری لنکا کو پہلے ہی اپنے سے دور کر دیا ہے اور اب چین موقع سے فائدہ اٹھا کر قریب آنے کی کوشش کر رہا ہے اور طویل مدتی قرضے دینے کی پیشکش بھی کر رہا ہے۔ چین نے متذکرہ تمام ممالک کو فوجی امداد بھی دی ہے۔ البتہ بھارت کو علیحدہ کر دیا ہے کیونکہ اس کی چین کے ساتھ مخالفت جاری ہے۔ نیز دلائی لامہ کے ارونچل پردیش کے حالیہ دورے نے چین کو اور زیادہ مشتعل کر دیا ہے۔ اس نے کہا ہے کہ بھارت کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔ دلائی لامہ نے کہا ہے کہ تبت خود مختاری چاہتا ہے اور چین کی بالادستی سے آزاد ہونا چاہتا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ارونچل پردیش کا ان کا دورہ خالصتاً مذہبی نوعیت کا تھا۔ اس دورے کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
شیخ حسینہ کو بنگلہ دیش میںحزب اختلاف کو برداشت کرنا چاہیے کیونکہ جمہوریت اسی کا نام ہے جس میں اختلاف رائے کو برداشت کیا جاتا ہے۔ لیکن شیخ حسینہ کا طرز حکمرانی جابرانہ اور آمرانہ ہے جس کی جمہوریت میں کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔ حسینہ کو چاہیے کہ وہ سب لوگوں کو ساتھ لے کر چلیں۔ لیکن بدقسمتی سے بنگلہ دیش میں حکومت کے طرز عمل سے زیادہ لوگ گھٹن محسوس کرتے ہیں۔
جہاں تک نئی دہلی کا تعلق ہے تو اس نے اپنے تمام انڈے حسینہ کی ٹوکری میں ڈال دیے ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ ہی بھارت پر یہ الزام بھی لگ رہا ہے کہ وہ بنگلہ دیش میں میں جمہوریت کے فروغ کے لیے کچھ نہیں کر رہا۔ وزیراعظم مودی کی حکومت جمہوری ہے لیکن یہ بھی ''ون مین شو'' ہے۔ بنگلہ دیش کے عوام کو جبر کی حکومت میں نہیں رہنا چاہیے۔ جس طرح کی بھارت میں مودی سے پہلے حکومت تھی۔
(ترجمہ: مظہر منہاس)
شیخ مجیب الرحمٰن کا نام بھارت میں ہر ایک کے ہونٹوں پر ہے کیونکہ انھوں نے 1930ء اور 1940ء کے عشروں میں برطانوی حکمرانوں کے خلاف جدوجہد کی تھی۔ یہ درست ہے کہ بنگلہ دیش کے ہائی کمیشن نے اپنی وزیراعظم کے اعزاز میں جو استقبالیہ دیا تھا اس میں بنگلہ دیش کی تحریک آزادی کو بطور خاص اہمیت دی گئی اور اس حوالے سے شیخ حسینہ کو بھی خراج تحسین پیش کیا گیا لیکن یہ ساری رسمی کارروائی لگتی تھی۔ البتہ شیخ حسینہ نے اس موقع پر 1971ء میں ہونے والی آزادی کی جدوجہد پر مؤثر انداز میں روشنی ڈالنے کا موقع کھو دیا۔ جب ملک کے اہل دانش کو چن چن کر ہلاک کیا جا رہا تھا۔
پاکستان کے اس وقت کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو شیخ مجیب الرحمٰن کی جان بچانے کا سہرا اپنے سر باندھتے تھے۔ جنرل یحییٰ خاں شیخ مجیب کو سزائے موت دینے پر تلے ہوئے تھے۔
جنرل یحییٰ شیخ مجیب کا قصہ پاک کرنا چاہتے تھے مگر بھٹواورایوب خان نے انھیں بچا لیا۔ لیکن بھٹو نے شیخ مجیب کو بچانے کا کریڈٹ لے لیا حالانکہ درحقیقت انھوں نے مجیب کو نہیں بچایا تھا۔ میں نے بعد ازاں ایوب خان کا انٹرویو کیا تھا تو ان کا کہنا تھا کہ انھیں مشرقی پاکستان میں رہنے والوں پر کبھی اعتبار نہ ہوا کیونکہ وہ چھپ کر وار کرتے تھے لیکن اس کے باوجود انھوں نے ڈھاکا میں پارلیمنٹ ہاؤس تعمیر کروایا۔ انھیں شروع ہی سے شک تھا کہ بنگالی جلد یا بدیر الگ ہو جائیں گے۔
پاکستان آج بھی ہندوستان پر الزام عائد کرتا ہے کہ اس نے بنگلہ دیش بنوایا اور یقیناً اس میں کوئی شک نہیں کہ اگر بھارت کی مسلح افواج مدد نہ کرتیں تو مشرقی پاکستان کبھی الگ نہ ہو سکتا تھا۔ لیکن ایک نہ ایک دن انھیں علیحدہ ہونا ہی تھا۔
مجھے بنگلہ دیش میں مکمل اپوزیشن دیکھ کر بہت حیرانی ہوئی ۔ بنگلہ دیشی پاکستان پر زیادتیوں کے الزامات بھی عائد کرتے ہیں۔ ان دنوں میں مجھے راولپنڈی جانے کا موقع بھی ملا جہاں دیواروں پر ایک ہی نعرہ لکھا تھا ''کرش انڈیا'' (بھارت کو کچل دو)۔ بنگلہ دیش میں چلنے والی باغیانہ تحریک کا بھارت ہی کو ذمے دار قرار دیا جا رہا تھا۔ اب بدقسمتی ہے کہ شیخ حسینہ نے مطلق العنان حکمران کا روپ اختیار کر لیا ہے۔ وہ اقتدار میں رہنے کی خاطر انتخابات میں بھی دھاندلیاں کراتی ہیں۔ ان کی سیاسی حریف بیگم خالدہ ضیاء کھلم کھلا کہتی ہیں کہ اگر بھارت شیخ حسینہ کی پشت پناہی نہ کرے تو اسے کبھی کا نکال باہر کیا جاتا۔ مجھے یاد ہے ایک مرتبہ میں ڈھاکا گیا جہاں قومی دن کی تقریبات کے سلسلے میں چائے کی ایک دعوت دی جا رہی تھی جس میں تمام سیاسی جماعتوں کے نمایندے موجود تھے۔
اپوزیشن لیڈر مودود احمد کو اسی پارٹی سے گرفتار کر لیا گیا اور اسے طویل عرصہ جیل میں گزارنا پڑا۔ بیگم خالدہ ضیاء نے شیخ حسینہ کے بارے میں جو بات کہی ہے اس سے ثابت ہوتا ہے کہ حسینہ عمر بھر برسراقتدار رہنا چاہتی ہیں۔ بنگلہ دیش نیشنل پارٹی (بی این پی) نے شیخ حسینہ کے بھارت کے ساتھ دفاعی معاہدہ کرنے کو بنگلہ دیشی عوام کے ساتھ غداری کے مترادف قرار دیا ہے۔
ان کا مؤقف ہے کہ اس طرح بنگلہ دیش کا سیکیورٹی نظام کی حساسیت بھارت کے لیے بے نقاب ہو جائے گی۔ اس سے قبل چین نے بھی بنگلہ دیش کے ساتھ دفاعی معاہدے کی پیشکش کی تھی جسے مسترد کر دیا گیا تھا حالانکہ اس کی طرف سے ملک کو بے شمار مراعات کی پیش کش کی گئی تھی۔بنگلہ دیش دریائے تیستا کے پانی پر بھی معاہدہ کرنا چاہتا تھا مگر مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ ممتا بینرجی کی مخالفت کی وجہ سے یہ معاہدہ نہ ہو سکا۔ ممتا بینرجی کا مؤقف ہے کہ دریائے تیستا کا پانی ویسے ہی بہت کم ہے جس کو بنگلہ دیش کے ساتھ تقسیم نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے حسینہ کو یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ اس مسئلہ کا حل نکالنے میں مدد کریں گے اور یہ مسئلہ حل کر دیں گے۔
نئی دہلی حکومت بنگلہ دیشی مطالبات کے حوالے سے بہت فراخدل ہے بلکہ یہ اکیلا ہی اس کا دوست ملک ہے۔ ہم نے پاکستان، نیپال اور سری لنکا کو پہلے ہی اپنے سے دور کر دیا ہے اور اب چین موقع سے فائدہ اٹھا کر قریب آنے کی کوشش کر رہا ہے اور طویل مدتی قرضے دینے کی پیشکش بھی کر رہا ہے۔ چین نے متذکرہ تمام ممالک کو فوجی امداد بھی دی ہے۔ البتہ بھارت کو علیحدہ کر دیا ہے کیونکہ اس کی چین کے ساتھ مخالفت جاری ہے۔ نیز دلائی لامہ کے ارونچل پردیش کے حالیہ دورے نے چین کو اور زیادہ مشتعل کر دیا ہے۔ اس نے کہا ہے کہ بھارت کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔ دلائی لامہ نے کہا ہے کہ تبت خود مختاری چاہتا ہے اور چین کی بالادستی سے آزاد ہونا چاہتا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ارونچل پردیش کا ان کا دورہ خالصتاً مذہبی نوعیت کا تھا۔ اس دورے کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
شیخ حسینہ کو بنگلہ دیش میںحزب اختلاف کو برداشت کرنا چاہیے کیونکہ جمہوریت اسی کا نام ہے جس میں اختلاف رائے کو برداشت کیا جاتا ہے۔ لیکن شیخ حسینہ کا طرز حکمرانی جابرانہ اور آمرانہ ہے جس کی جمہوریت میں کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔ حسینہ کو چاہیے کہ وہ سب لوگوں کو ساتھ لے کر چلیں۔ لیکن بدقسمتی سے بنگلہ دیش میں حکومت کے طرز عمل سے زیادہ لوگ گھٹن محسوس کرتے ہیں۔
جہاں تک نئی دہلی کا تعلق ہے تو اس نے اپنے تمام انڈے حسینہ کی ٹوکری میں ڈال دیے ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ ہی بھارت پر یہ الزام بھی لگ رہا ہے کہ وہ بنگلہ دیش میں میں جمہوریت کے فروغ کے لیے کچھ نہیں کر رہا۔ وزیراعظم مودی کی حکومت جمہوری ہے لیکن یہ بھی ''ون مین شو'' ہے۔ بنگلہ دیش کے عوام کو جبر کی حکومت میں نہیں رہنا چاہیے۔ جس طرح کی بھارت میں مودی سے پہلے حکومت تھی۔
(ترجمہ: مظہر منہاس)