ہراساں کرنے کیخلاف درخواست پر ڈی آئی جی و دیگر پولیس افسران سے جواب طلبی

بینک کے ایک کھاتیدار سے ڈکیتی کے واقعے کے بعد ڈی ایس پی اور ایس ایچ او قاسم آباد بلا وجہ تنگ کرتے ہیں، درخواست گزار

ڈی آئی جی حیدرآباد کو حکم دیا جائے کہ ڈی ایس پی اور ایس ایچ او قاسم آباد کے خلاف محکمہ جاتی کاروائی کی جائے، درخواست گزار کا موقف

سندھ ہائی کورٹ حیدرآباد سرکٹ بنچ نے ایک نجی بینک کے زونل آفیسر عبدالعزیز اور قاسم آباد کے بینک مینیجر وقار علی کی پولیس کی جانب سے ہراساں کرنے کے خلاف دائر پٹیشن پر ڈی آئی جی، ایس ایس پی حیدرآباد، ڈی ایس پی اور ایس ایچ او قاسم آباد کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 21 جنوری کو جواب داخل کرنے کا حکم صادر کیا ہے۔

اس سلسلے میں داخل کی جانے والی پٹیشن میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ 9 جنوری 2013 کو بینک کا ایک کھاتیدارآصف ڈوگر 24 لاکھ روپے لیکر بینک سے نکلا،45 منٹ کے بعد آصف ڈوگر، ڈی ایس پی اور ایس ایچ او قاسم آباد کے ساتھ بینک آئے، سی سی ٹی وی فوٹیج طلب کی، ہراساں کیا اور قانونی کارروائی کرنے کے دھمکیاں دیں۔




پٹیشن میں عدالت عالیہ سے اپیل کی گئی ہے کہ ڈی آئی جی حیدرآباد کو حکم دیا جائے کہ ڈی ایس پی اور ایس ایچ او قاسم آباد کے خلاف محکمہ جاتی کاروائی کی جائے جبکہ ایس ایس پی حیدرآباد کوحکم دیا جائے کہ اس ڈکیتی کیس کی کسی ایماندار پولیس آفیسر سے تحقیقات کرائی جائے۔
Load Next Story