پریمیئر لیگشرکت سے محرومی پر عمران نذیر کو دوہرا نقصان
عمران نذیر خطیررقم کے ساتھ پلیئرز کی ڈیل کرانے پرملنے والے کمیشن سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے
کئی پلیئرز کے معاہدے ضرور کرائے لیکن مقصد کمیشن کمانا نہیں بلکہ ساتھی کھلاڑیوں کی مدد کرنا تھا، عمران نذیر ۔ فوٹو : فائل
بنگلہ دیشں پریمیئر لیگ میں پاکستانی کھلاڑیوں کی شرکت سے محرومی پر عمران نذیر کو دوہرا نقصان اٹھانا پڑا۔
جارح مزاج اوپنر نہ صرف معاہدے کی خطیر رقم سے محروم ہوئے بلکہ کئی کرکٹرز کی ڈیل کرانے کی مد میں ملنے والے کمیشن سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے، اس حوالے سے وضاحت پیش کرتے ہوئے انھوں نے کہاکہ کنٹریکٹ ضرور کرائے لیکن اس کا مقصد مال بنانا نہیں بلکہ ساتھی پلیئرز کی مدد تھا۔ تفصیلات کے مطابق بنگلہ دیش بورڈ کی دورہ پاکستان کے حوالے سے بار بار وعدہ خلافیوں سے تنگ آکر پی سی بی نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے اپنے کھلاڑیوں کو لیگ میں شرکت کیلیے این او سی جاری نہیں کیے، ایونٹ کی مختلف فرنچائزز نے22 پلیئرز سے معاہدے کررکھے تھے۔
سب سے مہنگے کرکٹر عمران نذیر نے کئی ملکی پلیئرز کے لیگ کے ساتھ کنٹریکٹ کرانے میں بھی کلیدی کردار ادا کیا تھا، اطلاعات کے مطابق اس مد میں اوپنر کو کافی رقم ملنا تھی مگر عدم شرکت کی وجہ سے وہ دونوں معاوضوں سے محروم رہ گئے۔ اس حوالے سے ایک انٹرویو میں انھوں نے کہا کہ اللہ کا دیا بہت کچھ ہے۔
کئی پلیئرز کے معاہدے ضرور کرائے لیکن مقصد کمیشن کمانا نہیں بلکہ ساتھی کھلاڑیوں کی مدد کرنا تھا۔انھوں نے کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے جوبھی فیصلہ کیا ہر پلیئر کو منظور ہے، مالی نقصان ملکی عزت و وقار سے زیادہ اہم نہیں ہے۔ آل رائونڈ عبدالرزاق نے بھی بورڈ کے فیصلے کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ اپنے ملک کے مفادات سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں۔
بڑوں نے جو فیصلہ کیا وہ ٹھیک ہے جس پر کسی اعتراض کی گنجائش ہے نہ ضرورت۔ انھوں نے بتایا کہ انگلش کائونٹیز کی جانب سے پیشکش ہورہی ہیں، اگر مناسب معاوضہ دیا گیا تو ضرور کھیلوں گا۔ دورئہ جنوبی افریقہ کے لیے ٹیم کا حصہ بنائے جانے کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ سلیکشن کمیٹی بہتر جانتی ہے کہ انھیں کیا فیصلہ کرناہے، اگر موقع ملا تو بہترین پرفارم کروں گا۔
جارح مزاج اوپنر نہ صرف معاہدے کی خطیر رقم سے محروم ہوئے بلکہ کئی کرکٹرز کی ڈیل کرانے کی مد میں ملنے والے کمیشن سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے، اس حوالے سے وضاحت پیش کرتے ہوئے انھوں نے کہاکہ کنٹریکٹ ضرور کرائے لیکن اس کا مقصد مال بنانا نہیں بلکہ ساتھی پلیئرز کی مدد تھا۔ تفصیلات کے مطابق بنگلہ دیش بورڈ کی دورہ پاکستان کے حوالے سے بار بار وعدہ خلافیوں سے تنگ آکر پی سی بی نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے اپنے کھلاڑیوں کو لیگ میں شرکت کیلیے این او سی جاری نہیں کیے، ایونٹ کی مختلف فرنچائزز نے22 پلیئرز سے معاہدے کررکھے تھے۔
سب سے مہنگے کرکٹر عمران نذیر نے کئی ملکی پلیئرز کے لیگ کے ساتھ کنٹریکٹ کرانے میں بھی کلیدی کردار ادا کیا تھا، اطلاعات کے مطابق اس مد میں اوپنر کو کافی رقم ملنا تھی مگر عدم شرکت کی وجہ سے وہ دونوں معاوضوں سے محروم رہ گئے۔ اس حوالے سے ایک انٹرویو میں انھوں نے کہا کہ اللہ کا دیا بہت کچھ ہے۔
کئی پلیئرز کے معاہدے ضرور کرائے لیکن مقصد کمیشن کمانا نہیں بلکہ ساتھی کھلاڑیوں کی مدد کرنا تھا۔انھوں نے کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے جوبھی فیصلہ کیا ہر پلیئر کو منظور ہے، مالی نقصان ملکی عزت و وقار سے زیادہ اہم نہیں ہے۔ آل رائونڈ عبدالرزاق نے بھی بورڈ کے فیصلے کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ اپنے ملک کے مفادات سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں۔
بڑوں نے جو فیصلہ کیا وہ ٹھیک ہے جس پر کسی اعتراض کی گنجائش ہے نہ ضرورت۔ انھوں نے بتایا کہ انگلش کائونٹیز کی جانب سے پیشکش ہورہی ہیں، اگر مناسب معاوضہ دیا گیا تو ضرور کھیلوں گا۔ دورئہ جنوبی افریقہ کے لیے ٹیم کا حصہ بنائے جانے کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ سلیکشن کمیٹی بہتر جانتی ہے کہ انھیں کیا فیصلہ کرناہے، اگر موقع ملا تو بہترین پرفارم کروں گا۔