معروف شاعر محسن بھوپالی کی آج چھٹی برسی منائی جائیگی
10 مجموعے تصنیف کیے، پہلا شعری مجموعہ شکست شب 1961 میں منظر عام پر آیا
ہائیکو میں طبع آزمائی،عبدالرب نشتر نے جلسے میں ان کا شعر نقل کیا جو زبان زد عام ہوگیا۔ فوٹو: فائل
معروف شاعر محسن بھوپالی کی آج چھٹی برسی منائی جائیگی محسن بھوپالی سن 1932ء کو ہندوستان میں پیدا ہوئے۔
قیام پاکستان کے بعد ان کا خاندان نقل مکانی کرکے لاڑکانہ منتقل ہوا کچھ عرصے حیدر آباد میں رہائش اختیار کی اور پھرکراچی منتقل ہوگئے، محسن بھوپالی پیشے کے اعتبار سے انجینئر تھے اور سندہ حکومت میں ایگزیکٹیو انجینئر کے عہدے سے 1991میں ریٹائرڈ ہوئے، محسن بھوپالی کی شہرت کی وجہ بہر حال انکی شاعری بنی، محسن بھوپالی 10 کتابوں کے مصنف تھے ان کا پہلا شعری مجموعہ ''شکست شب'' 1961میں منظرعام پر آیا دوسرا مجموعہ ''گردمصافت'' شائع ہوا اس کے علاوہ ''جستہ جستہ، نظمانے،اور ماجرہ'' انکے قابل ذکر مجموعے ہیں۔
1950کے عشرے میں انھیں اس وقت شہر ت ملی جب تحریک پاکستان کے رہنما سردار عبدالرب نشتر نے ایک جلسے میں انکا شعر ''نیرنگی سیاست دوراں تو دیکھیے...منزل انھیںملی جو شریک سفر نہ تھے'' پڑھا یہ شعر زباں زد عام ہوگیا اور محاورے کے طور پر استعمال کیا جانے لگا، محسن بھوپالی کی شاعری میں ادب اور معاشرے کے گہرے مطالعے کا عکس نظرآتا ہے انھوں نے جاپانی ادب کا اردو میں ترجمہ کیا اور ہائیکو میں بھی طبع آزمائی کی،1988میں وہ شدید بیمار ہوگئے اور اسی عرصے میں انکے گلے کے سرطان کا کامیاب آپریشن کیا گیا اسکے بعد انھیں بولنے میں دشواری ہوتی تھی مگر اس کے باوجود بھی انھوں نے زندگی کے معمولات کو جاری رکھا اور مشاعروں میں باقاعدہ شرکت کرتے رہے،18جنوری2007 کو نمونیا کی وجہ سے وہ کراچی میں انتقال کرگئے۔
قیام پاکستان کے بعد ان کا خاندان نقل مکانی کرکے لاڑکانہ منتقل ہوا کچھ عرصے حیدر آباد میں رہائش اختیار کی اور پھرکراچی منتقل ہوگئے، محسن بھوپالی پیشے کے اعتبار سے انجینئر تھے اور سندہ حکومت میں ایگزیکٹیو انجینئر کے عہدے سے 1991میں ریٹائرڈ ہوئے، محسن بھوپالی کی شہرت کی وجہ بہر حال انکی شاعری بنی، محسن بھوپالی 10 کتابوں کے مصنف تھے ان کا پہلا شعری مجموعہ ''شکست شب'' 1961میں منظرعام پر آیا دوسرا مجموعہ ''گردمصافت'' شائع ہوا اس کے علاوہ ''جستہ جستہ، نظمانے،اور ماجرہ'' انکے قابل ذکر مجموعے ہیں۔
1950کے عشرے میں انھیں اس وقت شہر ت ملی جب تحریک پاکستان کے رہنما سردار عبدالرب نشتر نے ایک جلسے میں انکا شعر ''نیرنگی سیاست دوراں تو دیکھیے...منزل انھیںملی جو شریک سفر نہ تھے'' پڑھا یہ شعر زباں زد عام ہوگیا اور محاورے کے طور پر استعمال کیا جانے لگا، محسن بھوپالی کی شاعری میں ادب اور معاشرے کے گہرے مطالعے کا عکس نظرآتا ہے انھوں نے جاپانی ادب کا اردو میں ترجمہ کیا اور ہائیکو میں بھی طبع آزمائی کی،1988میں وہ شدید بیمار ہوگئے اور اسی عرصے میں انکے گلے کے سرطان کا کامیاب آپریشن کیا گیا اسکے بعد انھیں بولنے میں دشواری ہوتی تھی مگر اس کے باوجود بھی انھوں نے زندگی کے معمولات کو جاری رکھا اور مشاعروں میں باقاعدہ شرکت کرتے رہے،18جنوری2007 کو نمونیا کی وجہ سے وہ کراچی میں انتقال کرگئے۔