مردان یونیورسٹی میں افسوسناک واقعہ

مردان کی عبدالولی خان یونیورسٹی میں جو کچھ ہوا، اس سے ہم بخوبی اندازہ کر سکتے ہیں کہ ہمارا مستقبل کیا ہو گا۔

مردان کی عبدالولی خان یونیورسٹی میں جو کچھ ہوا، اس سے ہم بخوبی اندازہ کر سکتے ہیں کہ ہمارا مستقبل کیا ہو گا۔ فوٹو: فائل

خیبرپختونخوا کے شہر مردان کی عبدالولی خان یونیورسٹی میں ایک طالب علم کو جس سفاکی اور درندگی کے ساتھ قتل کیا گیا، وہ خیبرپختونخوا کی حکومت اور انتظامیہ کی ہی نہیں بلکہ وفاقی حکومت، ریاستی اداروں، تمام سیاسی ودینی جماعتوں اور ہمارے معاشرے کے فہمیدہ اور قانون پسند شہریوں کی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہے۔

پہلے اس قسم کے واقعات پسماندہ دیہی علاقوں یا شہروں کی سڑکوں اور چوراہوں پر ہوتے تھے، لیکن یونیورسٹیوں میں اس قسم کے واقعے کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ یونیورسٹیوں اور کالجوں میں طالب علموں کے درمیان لڑائی جھگڑے کے واقعات ہوتے رہتے ہیں لیکن ایسا واقعہ شاید پہلی بار ہوا ہے۔ مردان یونیورسٹی میں جو سانحہ رونما ہوا اس کی اصل وجوہات کا پتہ تو تحقیقات کے بعد ہی چلے گا لیکن جو منظر معاشرے کے سامنے آیا وہ انتہائی افسوسناک ہے۔

کسی شخص کا جرم خواہ کتنا ہی سنگین کیوں نہ ہو، ریاست اور قانون کسی فرد یا گروہ کو یہ اجازت نہیں دیتا کہ وہ قانون ہاتھ میں لے۔ اگر کسی نے کوئی قابل تعزیر کام کیا ہے تو اس کے خلاف آئین اور قانون میں درج طریقہ کار کے تحت اقدامات کیے جانے چاہئیں۔ مہذب معاشروں میں ایسا ہی ہوتا ہے۔ پاکستان میں ریاستی اور حکومتی رٹ کے زوال کی کئی مثالیں موجود ہیں۔

مردان یونیورسٹی کا واقعہ بھی اس کی ایک مثال ہے۔ ملک کے ریاستی اداروں کے افسران، حکمران اور سیاسی قیادت نے اس زوال کو دیکھنے کی کبھی زحمت گوارا نہیں کی۔ اگر وہ سنجیدگی سے ریاستی رٹ کے زوال کو دیکھتے اور اس کی وجوہات کو تلاش کر کے انھیں دور کرنے کی کوشش کرتے تو آج پاکستان کی یہ حالت نہ ہوتی۔ پالیسی سازوں کی مصلحت اندیشی اور مفاد پرستی نے پاکستان کو عدم برداشت اور انتہاپسندی کی دلدل میں پھنسا دیا ہے۔ اسکول، کالج اور یونیورسٹیاں وہ جگہیں ہیں جہاں کسی قوم کا مستقبل پرورش پاتا ہے۔


مردان کی عبدالولی خان یونیورسٹی میں جو کچھ ہوا، اس سے ہم بخوبی اندازہ کر سکتے ہیں کہ ہمارا مستقبل کیا ہو گا اور ہمارے نوجوان طلباء علم اور شعور کی کس منزل پر ہیں۔ اخباری اطلاعات کے مطابق مردان کی عبدالولی خان یونیورسٹی کو غیرمعینہ مدت کے لیے بند کرنے کا اعلان کیا گیا ہے جب کہ ہوسٹل بھی خالی کرا لیے گئے ہیں۔ اس سانحہ کی ایف آئی آر بھی درج کر لی گئی ہے اور 9 افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ اس سانحے کی سوشل میڈیا پر ویڈیو بھی وائرل ہو گئی ہے۔ اس ویڈیو سے خیبرپختونخوا، مردان یونیورسٹی کے ماحول اور طلباء کے بارے میں دنیا بھر میں کیا پیغام جائے گا، اسے سمجھنا کوئی مشکل کام نہیں ہے۔

طالب علموں کے روپ میں شرپسندوں نے پورے پاکستان کو دنیا بھر میں بدنام کرنے کے لیے کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ جس طالب علم کو قتل کیا گیا اس کے بارے میں میڈیا کی اطلاع یہ ہے کہ وہ بی ایس جرنلزم پروگرام کے چھٹے سمسٹر میں تھا۔ جس ہجوم نے اسے قتل کیا ان میں بھی یقینا طالب علم بھی شامل ہوں گے، اس سے تشدد میں شریک طلباء کی ذہنی ساخت اور نظریاتی تربیت کا بخوبی اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ کبھی وہ دور تھا جب یونیورسٹیوں اور کالجوں میں زیرتعلیم طلباء معاشرے کے لیے تہذیب وتمدن کی مثال بنتے تھے، طالب علموں کی شرارتوں اور بعض اوقات تجاوز کو بھی معاشرہ خوش دلی سے یہ کہہ کر نظرانداز کر دیتا تھا کہ یہ ہمارا مستقبل ہے، ان کی معصومانہ شرارت قابل معافی ہے۔ لیکن آج صورت حال مختلف ہو گئی ہے۔

تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے اس سانحہ پر بڑا جرأت مندانہ بیان جاری کیا ہے۔ انھوں نے اپنے ٹویٹ میں دوٹوک انداز میں کہا ہے کہ جنگل کا قانون نہیں چلے گا، اس سانحہ کے ذمے داروں کے خلاف کارروائی ہو گی۔ وزیراعظم میاں نواز شریف، آصف علی زرداری، اسفند یار ولی اور ملک کی ساری سیاسی قیادت، اہل علم اور علمائے کرام اور مشائخ عظام کو بھی جرأت مندی سے اس سانحہ پر عمران خان جیسا جرأت مندانہ مؤقف دینا چاہیے۔ آج ہم جس عدم برداشت اور پرتشدد ذہنیت کے ماحول میں رہ رہے ہیں، یہ ماحول بنانے میں ہماری سیاسی قیادت اور ریاستی اداروں کی کمزوری، مصلحت اندیشی اور مفاد پرستی کا بڑا ہاتھ ہے۔

اگر ریاست اور حکومتی رٹ کا خوف ہوتا تو مردان کی عبدالولی خان یونیورسٹی میں کسی کی جرأت نہ ہوتی کہ وہ قانون ہاتھ میں لیتا۔ جن معاشروں میں ریاست اور حکومت کی رٹ ختم ہو جاتی ہے وہاں جنگل کا قانون خودبخود جگہ بنا لیتا ہے۔ آج پاکستان میں بعض گروہ نفرت کا کاروبار کھلے عام کر رہے ہیں۔ لوگوں کو قتل کیا جا رہا ہے اور بلیک میلنگ کی جا رہی ہے لیکن ریاستی ادارے ایسے عناصر پر گرفت کرنے سے گھبراتے ہیں۔ جب ریاست اور حکومتی ادارے بھی کسی شرپسند گروہ یا فرد پر ہاتھ ڈالنے سے گھبرائیں گے تو پھر قانون کی حکمرانی زوال پذیر ہو جائے گی۔

 
Load Next Story