لانگ مارچ کو تحفظ عدالت حکم دیتی تو عمل نہ ہوتا
شرکا کو بارش اور اذیت سے بچانا حکومت کی ذمے داری تھی، چیف جسٹس
شرکا کو بارش اور اذیت سے بچانا حکومت کی ذمے داری تھی، چیف جسٹس فوٹو : مریا اقبال
چیف جسٹس نے لانگ مارچ شرکا کے بارے میں خاتون وکیل کی استدعا پرآبزرویشن دی ہے لانگ مارچ کے شرکاء کو بارش اوراذیت سے بچانا اور انھیںسہولیات فراہم کرنا حکومت کی ذمے داری ہے۔
اگر عدالت اس بارے میںکوئی حکم جاری کرے گی تو عمل ہی نہیں ہوگا۔ خاتون وکیل افشاں غضنفر چیف جسٹس کے بینچ میں اچانک اٹھیں اور روسٹرم پر آکرکہا کہ لانگ مارچ میں عورتیں،بچے اور بوڑھے بھی ہیں جوکئی روز سے سخت سردی میں بیٹھے ہیںاور اس وقت بارش میں بھیگ رہے ہیں، ان کا کہنا تھا متعدد بیمار ہوکراسپتال پہنچ گئے ہیںاورحکومت کو ان پر رحم نہیں آتا ،انھوں نے عدالت سے آرڈر جاری کرنے کی استدعاکی۔
چیف جسٹس نے کہاکہ یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان کو تحفظ اور سہولیات فراہم کرے ،ہم کوئی آرڈرکیسے دے سکتے ہیں،شرکاء واپس چلے جائیں، اگر ہم نے کوئی حکم دے بھی دیا توعمل کس نے کرنا ہے ۔چیف جسٹس نے کہا بنیادی حقوق کا تحفظ حکومت کی ذمہ داری ہے ۔عدالت کے استفسار پر بتایا گیا 40ہزار کے قریب لوگ دھرنے میں شریک ہیں۔
اگر عدالت اس بارے میںکوئی حکم جاری کرے گی تو عمل ہی نہیں ہوگا۔ خاتون وکیل افشاں غضنفر چیف جسٹس کے بینچ میں اچانک اٹھیں اور روسٹرم پر آکرکہا کہ لانگ مارچ میں عورتیں،بچے اور بوڑھے بھی ہیں جوکئی روز سے سخت سردی میں بیٹھے ہیںاور اس وقت بارش میں بھیگ رہے ہیں، ان کا کہنا تھا متعدد بیمار ہوکراسپتال پہنچ گئے ہیںاورحکومت کو ان پر رحم نہیں آتا ،انھوں نے عدالت سے آرڈر جاری کرنے کی استدعاکی۔
چیف جسٹس نے کہاکہ یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان کو تحفظ اور سہولیات فراہم کرے ،ہم کوئی آرڈرکیسے دے سکتے ہیں،شرکاء واپس چلے جائیں، اگر ہم نے کوئی حکم دے بھی دیا توعمل کس نے کرنا ہے ۔چیف جسٹس نے کہا بنیادی حقوق کا تحفظ حکومت کی ذمہ داری ہے ۔عدالت کے استفسار پر بتایا گیا 40ہزار کے قریب لوگ دھرنے میں شریک ہیں۔