کراچی میں دہشت گردوں کیخلاف کارروائی تیز کی جائے صدر کی ہدایت
نواز شریف کو فون، جمہوریت کے استحکام کیلیے مشرکہ کوششوں پر اتفاق، 21جنوری کو الیکشن کی تاریخ دینے کا وعدہ
کراچی:صدر آصف زرداری سے گورنر عشرت العباد اور وزیراعلیٰ قائم علی شاہ ملاقات کررہے ہیں۔ فوٹو: پی پی آئی
صدر آصف علی زرداری نے کراچی میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے حکومت سندھ کو ہدایت کی ہے کہ شہر میں ٹائونز کی سطح پر امن کمیٹیاں قائم کی جائیں جس میں قانون نافذ کرنے والے ادارے، سیاسی و مذہبی قیادت اور عمائدین علاقہ کو شامل کیا جائے۔
یہ کمیٹیاں شہر میں قیام امن اور بھائی چارگی کی فضا کو قائم کرنے کے لیے حکومت کے ساتھ مل کر اقدامات کریں۔ صدر نے کہا ہے کہ کراچی میں دہشتگردوں کے خلاف انتہائی سخت فوری ایکشن لیا جائے اور ٹارگٹڈ کارروائیوں کا سلسلہ مزید تیز کیا جائے ، کراچی میں قیام امن کیلیے حکومت ہر ممکن اقدامات کرے گی اور دہشتگردوں کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔ صدر نے کہا کہ آئندہ انتخابات میں پیپلز پارٹی اتحادی جماعتوں کے ساتھ مل کر حصہ لے گی۔
صدر نے حکومت سندھ کو ہدایت کی ہے کہ کراچی ڈولپمنٹ پیکیج، لیاری ڈولپمنٹ پیکیج اور دیہی علاقوں کی ترقی کیلیے فنڈز میںڈیڑھ ارب روپے کا فوری اضافہ کیا جائے تاکہ عوام کے مسائل حل ہوسکیں اور تمام ترقیاتی منصوبے بروقت مکمل کیے جائیں۔ وہ جمعرات کو صدارتی کیمپ آفس بلاول ہائوس میں گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان اور وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ سے ملاقات میں گفتگو کررہے تھے۔ ملاقات میں ملک کی سیاسی صورتحال، کراچی میں امن و امان، ڈاکٹر طاہر القادری کے اسلام آباد میں دھرنے، ترقیاتی منصوبوں اور دیگر امور پر غور کیا گیا۔ ارکان اسمبلی نے صدر کو کراچی میں ترقیاتی منصوبوں کے حوالے آگاہی فراہم کی اور اس کی راہ میں درپیش مسائل سے انہیں آگاہ کیا۔
صدر نے ہدایت کی کہ ملیر، گڈاپ، کیماڑی اور بن قاسم کے علاقوں میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے لیے 20 مقامات پر واٹر فلٹریشن پلانٹ نصب کئے جائیں اور کراچی کے دیہی علاقوں میں 4 پوسٹ گریجویٹ کالجز، 2 جنرل اسپتال،1 کارڈیک سینٹر اور 5 ووکیشنل ٹرینگ سینٹرز قائم کیے جائیں۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پیپلز پارٹی آئندہ انتخابات میں عوام کے ووٹوں سے بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کرے گی۔ رات گئے صدر نے کہا کہ حکومت تمام مسائل کو جمہوری طریقے اور مذاکرات سے حل کرنے پر یقین رکھتی ہے ،ملک میں جمہوریت کے تسلسل کیلیے تمام سیاسی قوتوں سے مشاورت کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا ۔
وہ جمعرات کو وزیراعظم راجا پرویزاشرف اور تحریک منہاج القرآن ڈاکٹر طاہرالقادری سے مذاکرات کیلیے تشکیل دی گئی ٹیم کے ارکان سے بذریعہ ٹیلی فونک گفتگو کررہے تھے۔ ذرائع کے مطابق صدرآصف علی زرداری مذاکرات کے دوران وزیر اعظم اور ٹیم کے ارکان سے مسلسل رابطے میں رہے ۔ صدر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ آئندہ انتخابات مقررہ وقت پر شفاف طریقے سے منعقد کرائے جائیں گے، عوام جس جماعت کو اپنے ووٹوں سے منتخب کرے گی ، اس کو اقتدار آئینی طریقے سے منتقل کردیا جائے گا ۔ صدر نے جمہوری انداز میں مسئلہ حل کرنے پر حکومتی ٹیم کی کارکردگی کو سراہا ۔
لاہور سے نمائندہ ایکسپریس کے مطابقصدر آصف زرداری نے گزشتہ روز مسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف سے فون پر انکے چھوٹے بھائی عباس شریف کی وفات پر تعزیت کی ہے تاہممسلم لیگ(ن) کے ترجمان ڈاکٹر آصف کرمانی نے کہا کہ صدر زرداری نے نواز شریف سے صرف تعزیت کی ہے، ملکی سیاسی صورتحال پر کوئی گفتگو نہیں ہوئی۔ کراچی سے سٹاف رپورٹر نے ذرائع سے بتایا ہے کہ دونوں رہنمائوں نے سیاسی صورتحال، آئندہ انتخابات، نگران حکومتوں کے قیام اور دیگرامور پر مختصراً تبادلہ خیال کیا اور اس بات پر اتفاق کیا کہ ملک میں جمہوریت کے استحکام کیلیے مشترکہ کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔
آئی این پی نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ دونوں رہنماؤں نے طاہرالقادری کے لانگ مارچ پر بھی تبادلہ خیال کیا اور صدر نے جمہوریت کی حمایت سے متعلق اپوزیشن جماعتوں کے اجلاس کے اعلامیے کو سراہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن رہنماؤں نے جمہوریت کی حمایت کرکے سیاسی پختگی کا مظاہرہ کیا۔ صدر نے نواز شریف کو یقین دلایا کہ21 جنوری کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں آئندہ عام انتخابات کی تاریخوں کا اعلان کردیا جائیگا۔
یہ کمیٹیاں شہر میں قیام امن اور بھائی چارگی کی فضا کو قائم کرنے کے لیے حکومت کے ساتھ مل کر اقدامات کریں۔ صدر نے کہا ہے کہ کراچی میں دہشتگردوں کے خلاف انتہائی سخت فوری ایکشن لیا جائے اور ٹارگٹڈ کارروائیوں کا سلسلہ مزید تیز کیا جائے ، کراچی میں قیام امن کیلیے حکومت ہر ممکن اقدامات کرے گی اور دہشتگردوں کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔ صدر نے کہا کہ آئندہ انتخابات میں پیپلز پارٹی اتحادی جماعتوں کے ساتھ مل کر حصہ لے گی۔
صدر نے حکومت سندھ کو ہدایت کی ہے کہ کراچی ڈولپمنٹ پیکیج، لیاری ڈولپمنٹ پیکیج اور دیہی علاقوں کی ترقی کیلیے فنڈز میںڈیڑھ ارب روپے کا فوری اضافہ کیا جائے تاکہ عوام کے مسائل حل ہوسکیں اور تمام ترقیاتی منصوبے بروقت مکمل کیے جائیں۔ وہ جمعرات کو صدارتی کیمپ آفس بلاول ہائوس میں گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان اور وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ سے ملاقات میں گفتگو کررہے تھے۔ ملاقات میں ملک کی سیاسی صورتحال، کراچی میں امن و امان، ڈاکٹر طاہر القادری کے اسلام آباد میں دھرنے، ترقیاتی منصوبوں اور دیگر امور پر غور کیا گیا۔ ارکان اسمبلی نے صدر کو کراچی میں ترقیاتی منصوبوں کے حوالے آگاہی فراہم کی اور اس کی راہ میں درپیش مسائل سے انہیں آگاہ کیا۔
صدر نے ہدایت کی کہ ملیر، گڈاپ، کیماڑی اور بن قاسم کے علاقوں میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے لیے 20 مقامات پر واٹر فلٹریشن پلانٹ نصب کئے جائیں اور کراچی کے دیہی علاقوں میں 4 پوسٹ گریجویٹ کالجز، 2 جنرل اسپتال،1 کارڈیک سینٹر اور 5 ووکیشنل ٹرینگ سینٹرز قائم کیے جائیں۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پیپلز پارٹی آئندہ انتخابات میں عوام کے ووٹوں سے بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کرے گی۔ رات گئے صدر نے کہا کہ حکومت تمام مسائل کو جمہوری طریقے اور مذاکرات سے حل کرنے پر یقین رکھتی ہے ،ملک میں جمہوریت کے تسلسل کیلیے تمام سیاسی قوتوں سے مشاورت کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا ۔
وہ جمعرات کو وزیراعظم راجا پرویزاشرف اور تحریک منہاج القرآن ڈاکٹر طاہرالقادری سے مذاکرات کیلیے تشکیل دی گئی ٹیم کے ارکان سے بذریعہ ٹیلی فونک گفتگو کررہے تھے۔ ذرائع کے مطابق صدرآصف علی زرداری مذاکرات کے دوران وزیر اعظم اور ٹیم کے ارکان سے مسلسل رابطے میں رہے ۔ صدر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ آئندہ انتخابات مقررہ وقت پر شفاف طریقے سے منعقد کرائے جائیں گے، عوام جس جماعت کو اپنے ووٹوں سے منتخب کرے گی ، اس کو اقتدار آئینی طریقے سے منتقل کردیا جائے گا ۔ صدر نے جمہوری انداز میں مسئلہ حل کرنے پر حکومتی ٹیم کی کارکردگی کو سراہا ۔
لاہور سے نمائندہ ایکسپریس کے مطابقصدر آصف زرداری نے گزشتہ روز مسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف سے فون پر انکے چھوٹے بھائی عباس شریف کی وفات پر تعزیت کی ہے تاہممسلم لیگ(ن) کے ترجمان ڈاکٹر آصف کرمانی نے کہا کہ صدر زرداری نے نواز شریف سے صرف تعزیت کی ہے، ملکی سیاسی صورتحال پر کوئی گفتگو نہیں ہوئی۔ کراچی سے سٹاف رپورٹر نے ذرائع سے بتایا ہے کہ دونوں رہنمائوں نے سیاسی صورتحال، آئندہ انتخابات، نگران حکومتوں کے قیام اور دیگرامور پر مختصراً تبادلہ خیال کیا اور اس بات پر اتفاق کیا کہ ملک میں جمہوریت کے استحکام کیلیے مشترکہ کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔
آئی این پی نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ دونوں رہنماؤں نے طاہرالقادری کے لانگ مارچ پر بھی تبادلہ خیال کیا اور صدر نے جمہوریت کی حمایت سے متعلق اپوزیشن جماعتوں کے اجلاس کے اعلامیے کو سراہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن رہنماؤں نے جمہوریت کی حمایت کرکے سیاسی پختگی کا مظاہرہ کیا۔ صدر نے نواز شریف کو یقین دلایا کہ21 جنوری کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں آئندہ عام انتخابات کی تاریخوں کا اعلان کردیا جائیگا۔