تقدیر بدل ووٹ کی ضرورت

ووٹ امانت ہے، قوم کی قسمت بدل سکتا ہے

 ۔ فوٹو: فائل

وزیراعظم نواز شریف نے جمعہ کو جیکب آباد کے جلسہ عام میں کہا کہ اب نعروں پر ووٹ نہیں ملے گا۔ یہ آئندہ انتخابات کے حوالہ سے بلیغ اشارہ تھا اور ساتھ ہی عوام کے لیے غور و فکر کا سامان بھی لیے ہوئے ہے کیونکہ رائے دہندگان سے زیادہ اور کون انتخابی جلسوں، دلفریب وعدوں اور پارٹی منشور سے انحراف کی ملکی تاریخ سے واقف ہوگا مگر کہتے ہیں کہ عوام کا حافظہ کمزور ہوتا ہے وہ نئے سیاسی منظرنامہ، الیکشن کے شور و ہنگاموں میں سیاسی جماعتوں کے حکومتی ماضی کو فراموش کر جاتے ہیں۔

مختلف حلقہ ہائے انتخاب میں ترقیاتی کاموں سے متعلق ٹھوس حکومتی کارکردگی اور منتخب نمائندوں کی الیکشن میں فتح کے بعد عدم دستیابی کا شکوہ ہی کرتے نظر آتے ہیں، مگر ہر الیکشن کے موقع پر خوشنما وعدوں کے سحر میں مبتلا ہو جاتے ہیں، پوری سیاسی تاریخ کھنگال لیجیے ووٹر جمہوری گلشن کا کاروبار چلانے کے لیے جلسوں میں جوق در جوق شرکت کرتے آئے ہیں، وزیراعظم نواز شریف نے جیکب آباد سے پہلے بھی کئی جلسے کیے، جلسوں کے انعقاد میں پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف بھی پیچھے نہیں رہی، ن لیگ کا یہ آخری سال ہے، کرکٹ کی اصطلاح میں ان کے مینڈیٹری اوورز چل رہے ہیں۔

عمران خان، آصف زرداری اور بلاول زرداری نے قابل ذکر عوامی اجتماعات سے خطاب کیا، قوم نے بنتی ٹوٹتی اسمبلیاں جب کہ جمہوریت کی بساط لپٹتے دیکھی، ووٹرز کی کسی نہ کسی سیاسی جماعت سے نظریاتی، سیاسی، مذہبی یا کسی اور فکری و مسلکی حوالہ سے وابستگی کا تسلسل جاری رہا، پارٹیاں جیتتی رہیں، وزراء آئے، حکومتی میعاد مکمل ہوئی، بس حکمرانوں کی زندگی ان کے لائف اسٹائل بدلے، اثاثے بنائے گئے، کرپشن نظام کی جڑوں میں اتر گیا جس نے رفتہ رفتہ ملکی سیاست کو اپنے سینگوں پر اٹھا لیا، نواز شریف نے جیکب آباد کے جلسہ میں 100 کروڑ کے ترقیاتی پیکیج، 100 ٹرانسفرز کا اعلان کیا۔

سی پیک منصوبہ کو اتحاد کی علامت قرار دیا، کہا کہ سندھ حکومت سے عوام مایوس ہو چکے ہیں، ترقی کا پہیہ چلنا چاہیے، ہم نے کراچی سمیت سندھ میں امن کرایا، انشا اﷲ وقت بدلے گا، اب صرف نعروں پر ووٹ نہیں ملے گا جو ترقی اسلام آباد، پنجاب اور بلوچستان میں ہو رہی ہے وہ سندھ اور کے پی کے میں بھی ہونی چاہیے، عوام کو پیپلزپارٹی اور نون لیگ کی خدمت کا فرق پتہ چل جائے گا، خالی جیب نہیں آیا، جیکب آباد کے لیے جیبیں بھر کر لایا ہوں۔

دوسری جانب آج صورتحال اتنی گمبھیر ہے کہ پاناما لیکس ریاستی و حکومتی عروج و زوال اور کرپشن سے متعلق ''صدیوں یاد رہنے والے'' ایک تاریخ ساز عدالتی فیصلہ کے منتظر ہیں۔ سیاسی مبصرین، مورخ اور تجزیہ کاروں کا مشترکہ سوالنامہ موجودہ اور ماضی کی حکومتوں کے بارے میں جارحانہ ہے، میڈیا نے سیاسی نظام کے کہنہ استحصالی اور طبقاتی تضادات کو بے نقاب کر دیا ہے آج سیاست دان جوابدہی اور دہشتگرد آپریشن ''ردالفساد'' کے شکنجہ میں کسے جا چکے ہیں، دہشتگردی کے عفریت کو نکیل ڈالی جا رہی ہے جس کے بغیر ملک میں امن اور ترقی کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا مگر اس کے ساتھ ساتھ سیاست کو بھی شفافیت عطا کرنی ہو گی۔


اس فرسودہ، کرپٹ اور عوام سے لا تعلق طرز حکمرانی کا دی اینڈ آئندہ الیکشن میں ہونا لازم ہے۔ میڈیا اور عدلیہ کی آنکھوں کے سامنے حقیقت کھلتی جا رہی ہے، واقعی اب نعروں پر ووٹ نہیں ملیں گے، اور نہ ہی قبل از وقت انتخابی جلسوں میں بڑے بڑے منصوبوں کے اعلانات قوم کی تقدیر بدل سکیں گے، اس ایڈ ہاک ازم کی جگہ ایسا سیاسی اور جمہوری نظام عوام قبول کریں گے جس کی اساس ان کی امنگوں پر ہو اور جو نئی نسلوں کے دہشت و وحشت سے پاک و محفوظ مستقبل کی نوید دے۔

بلاشبہ سب کی کارکردگی انگلیوں پر گنی جا رہی ہے، بقول وزیراعظم وقت بدل رہا ہے، حقیقت یہ ہے کہ قوم جمہوریت کے حقیقی ثمرات سے محروم اور مسائل کے گرداب میں پھنسی ہوئی ہے۔ صرف اشرافیہ کے دن پھرے ہیں، غریب لوگ نان شبینہ کو محتاج ہیں۔

مہنگائی، لوڈ شیڈنگ، بیروزگاری نے ہر جگہ پنجے گاڑ رکھے ہیں، پنجاب میں 18 سے20 گھنٹے اور دیگر شہروں اور دیہات میں بھی شدت سے لوڈ شیڈنگ ہو رہی ہے، مافیائیں خطرہ بنی ہوئی ہیں، پیپلز پارٹی اور ن لیگ کو تین بار حکومت ملی۔ صوبہ سندھ اور اس کا سب سے بڑا شہر کچرے کا ڈھیر بن چکا ہے، شہری شفاف حکومتی میکنزم چاہتے ہیں، پی پی، ن لیگ، پی ٹی آئی اور دیگر سیاسی و مذہبی جماعتوں کے رہنما ملکی سیاسی حقائق سے واقف ہیں کہ ملک کا جمہوری مقدر آمریت سے ستیزہ کار رہتے ہوئے آج اس موڑ پر آیا ہے جہاں ہوش ربا چیلنجز کا ملک کو سامنا ہے، دہشتگردی ایسا ورثہ ہے جس کی پرورش وقت نے برسوں کی ہے۔

یہ ہماری ملکی سیاست کا المیہ ہے کہ کسی حکومت نے عوام دوست پالیسیوں اور ملک کے سیاسی و سماجی نظام میں ووٹ کے تقدس کا احساس نہیں کیا۔ ووٹ امانت ہے، قوم کی قسمت بدل سکتا ہے۔ مگر ملین ڈالر سوال ہے کہ الیکشنوں سے قوم کی قسمت آج تک کیوں نہیں بدلی؟ سلطانئی جمہور کا زمانہ کب آئے گا؟

 
Load Next Story