کلبھوشن ایشو پاک بھارت کشیدگی میں اضافہ
بھارت نے ایک جانب کشمیر پر غاصبانہ قبضہ کر رکھا ہے اور دوسری جانب وہ پاکستان میں دہشت گردی کو سپورٹ کر رہا ہے
فوٹو : فائل
بھارت نے کلبھوشن یادیو کی سزائے موت کو آڑ بناتے ہوئے پاکستان کے ساتھ میری ٹائم مذاکرات معطل کر دیئے ہیں، اس کے ساتھ بھارت نے کلبھوشن یادیو تک قونصلر رسائی مانگ لی ہے۔ پاکستان میں بھارت کے ہائی کمشنر گوتم بمبانوالہ نے گزشتہ روز اسلام آباد میں سیکریٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ سے ملاقات کی اور کلبھوشن تک قونصلر رسائی کا مطالبہ کیا۔
بھارتی ہائی کمشنر نے کلبھوشن کی سزائے موت کے خلاف اپیل کرنے کی بات بھی کی۔ بھارتی ہائی کمشنر نے نیپال سے لاپتہ ہونے والے پاکستانی کے بارے میں معلومات نہ ہونے کی بات کی۔ بہرحال بھارت کلبھوشن یادیو کی سزائے موت کے معاملے میں مسلسل جارحانہ بیان بازی کر رہا ہے حالانکہ بھارتی پالیسی سازوں کو بخوبی علم ہے کہ کلبھوشن پاکستان میں جاسوسی کا نیٹ ورک چلاتا تھا، اسے پاکستان میں قانون کے مطابق سزا دی گئی ہے جب کہ بھارتی حکام نیپال سے لاپتہ ہونے والے پاکستانی کے بارے میں لاعلمی کا اظہار کر رہے ہیں۔
بہرحال گزشتہ روز مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے بھی خبردار کیا ہے کہ کلبھوشن کے معاملے پر اشتعال انگیز بیان بازی سے دونوں ممالک کے عوام کے درمیان دشمنی مزید بڑھے گی۔ انھوں نے کہا کہ پاک بھارت تعلقات میں بڑھتے ہوئے بحران کے خاتمے کے لیے فعال سفارت کاری کی ضرورت ہے۔ بھارت نے پاکستان کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ معطل کر رکھا ہے۔ میری ٹائم اور پانی کے تنازعات کے بارے میں مذاکرات سے علیحدگی اختیار کرنے کا مقصد بھی پاکستان پر دباؤ بڑھانا ہے۔ بھارت کو اپنے رویے پر نظرثانی کرنی چاہیے اور زمینی حقائق کو سامنے رکھنا چاہیے۔
بھارت نے ایک جانب کشمیر پر غاصبانہ قبضہ کر رکھا ہے اور دوسری جانب وہ پاکستان میں دہشت گردی کو سپورٹ کر رہا ہے۔ ایسی صورت میں پاکستان کیسے بھارت کے ساتھ دوستی کا ہاتھ بڑھا سکتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ جنوبی ایشیا میں دیرپا امن اور ترقی کے لیے پاکستان اور بھارت کو دوستانہ تعلقات قائم کرنے چاہئیں لیکن اس کے لیے ضروری یہ ہے کہ دونوں ملکوں کی قیادت اپنے اپنے رویوں اور پالیسیوں پر غور کرے اور جہاں جہاں جس کی خامی ہے اسے تسلیم کرے۔ اسی صورت میں باہمی مذاکرات کی راہ ہموار ہوتی ہے۔
بھارتی ہائی کمشنر نے کلبھوشن کی سزائے موت کے خلاف اپیل کرنے کی بات بھی کی۔ بھارتی ہائی کمشنر نے نیپال سے لاپتہ ہونے والے پاکستانی کے بارے میں معلومات نہ ہونے کی بات کی۔ بہرحال بھارت کلبھوشن یادیو کی سزائے موت کے معاملے میں مسلسل جارحانہ بیان بازی کر رہا ہے حالانکہ بھارتی پالیسی سازوں کو بخوبی علم ہے کہ کلبھوشن پاکستان میں جاسوسی کا نیٹ ورک چلاتا تھا، اسے پاکستان میں قانون کے مطابق سزا دی گئی ہے جب کہ بھارتی حکام نیپال سے لاپتہ ہونے والے پاکستانی کے بارے میں لاعلمی کا اظہار کر رہے ہیں۔
بہرحال گزشتہ روز مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے بھی خبردار کیا ہے کہ کلبھوشن کے معاملے پر اشتعال انگیز بیان بازی سے دونوں ممالک کے عوام کے درمیان دشمنی مزید بڑھے گی۔ انھوں نے کہا کہ پاک بھارت تعلقات میں بڑھتے ہوئے بحران کے خاتمے کے لیے فعال سفارت کاری کی ضرورت ہے۔ بھارت نے پاکستان کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ معطل کر رکھا ہے۔ میری ٹائم اور پانی کے تنازعات کے بارے میں مذاکرات سے علیحدگی اختیار کرنے کا مقصد بھی پاکستان پر دباؤ بڑھانا ہے۔ بھارت کو اپنے رویے پر نظرثانی کرنی چاہیے اور زمینی حقائق کو سامنے رکھنا چاہیے۔
بھارت نے ایک جانب کشمیر پر غاصبانہ قبضہ کر رکھا ہے اور دوسری جانب وہ پاکستان میں دہشت گردی کو سپورٹ کر رہا ہے۔ ایسی صورت میں پاکستان کیسے بھارت کے ساتھ دوستی کا ہاتھ بڑھا سکتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ جنوبی ایشیا میں دیرپا امن اور ترقی کے لیے پاکستان اور بھارت کو دوستانہ تعلقات قائم کرنے چاہئیں لیکن اس کے لیے ضروری یہ ہے کہ دونوں ملکوں کی قیادت اپنے اپنے رویوں اور پالیسیوں پر غور کرے اور جہاں جہاں جس کی خامی ہے اسے تسلیم کرے۔ اسی صورت میں باہمی مذاکرات کی راہ ہموار ہوتی ہے۔