ایک زبردست آئیڈیا اور مشورہ
آپ نے بھی ہمارے کالموں سے اندازہ تو لگا لیا ہو گا کہ آج کل ہمیں ’’آئیڈیئے‘‘ بڑے سوجھ رہے ہیں
barq@email.com
آپ نے بھی ہمارے کالموں سے اندازہ تو لگا لیا ہو گا کہ آج کل ہمیں ''آئیڈیئے'' بڑے سوجھ رہے ہیں، ان میں زیادہ تر آئیڈیئے جو سیاست دانوں اور اسلحہ جات اور قانون سے متعلق ہوتے ہیں ہم بیان بھی نہیں کر سکتے کیونکہ 302 کی دفعہ لاگو نہ ہو تو یقینا ہم پر لاگو ہو سکتی ہے، یعنی ایسا ارادہ قتل جو 302 تک نہ پہنچے، لیکن بے ضرر قسم کے آئیڈیئے تو ہم آپ کے ساتھ شیئر کر سکتے ہیں۔
سردست جو آئیڈیا ہم آپ کے ساتھ شیئر کرنے جا رہے ہیں اتنا زبردست ہے کہ یہ آئیڈیا ذہن میں آتے ہی ہم نے خود اپنی پیٹھ تھپتھپائی بلکہ دیر تک تھپتھپاتے رہے کہ ایں کار از تو آئید و مردان چنیں کنند ، دراصل یہ زبردست آئیڈیا ہمیں ایک خبر سے سوجھا ہے جس میں کسی سرکاری چیز کو لیز پر دینے کی بات تھی، چنانچہ اس ''لیز سسٹم'' کا تعاقب کرتے ہوئے آخر کار ہم ایک ایسے مقام پر پہنچے کہ اگر پورے ملک کو لیز پر دیا جائے تو کیسا رہے گا، ہم نے تو سوچا ہے آپ بھی سوچ لیں کہ اگر ایسا ہو گیا یعنی پورے ملک کو ''لیز'' پر دیا گیا تو نہ کوئی مسئلہ رہے گا اور نہ کوئی مسئلہ باز۔ بلکہ :
زمانے بھر کے غم اور اک تیرا غم
یہ غم ہو گا تو کتنے ''غم'' نہ ہوں گے
ذرا سوچئے خوب آگے پیچھے اوپر نیچے دائیں بائیں دیکھ کر سوچئے کہ کتنے غم ہیں جو ہمیں غمگین کر رہے ہیں بلکہ ایسا لگتا ہے کہ جیسے پورے ملک میں غموں کی فیکٹریاں کھلی ہوں، غموں کے کھیت لہلہا رہے ہوں، غموں کے چشمے پھوٹ رہے ہوں، جو کم از کم ''حیات'' میں تو پیچھا چھوڑنے والے نہیں لیکن مرشد نے کہا ہے کہ
''قید حیات'' و بند غم اصل میں دونوں ایک ہیں
موت سے پہلے آدمی غم سے نجات پائے کیوں
آپ ذرا ٹھنڈے دل و دماغ سے سوچئے کہ ہم کتنے بے غم ہو جائینگے اگر سارے غم کسی اور کے متھے مار دیں، ہمارا ایک جاننے والا ہے اس کے باپ نے بہت ساری جائیداد جمع کر کے بیٹے کے نام چھوڑی، بیٹے نے بیچنا شروع کر دی تو کچھ ہی عرصے میں ککھ بھی نہ رہا، ایک دن ہم نے اس سے پوچھا کم بخت یہ تو نے کیا کر دیا، بولا کیا کر دیا، غموں سے نجات پا لی ہے ہر وقت کوئی نہ کوئی غم رہتا تھا کہ یہ نہ ہو جائے وہ نہ ہو جائے، فصل بوتا تو یہ غم کہ ہو گی یا نہیں، آندھی ہوتی تو بھی غم، بارش نہ ہوتی تو بھی غم، ہوتی اور زیادہ غم، یہ بیچ یہ کھاد یہ ٹریکٹر یہ مرض یہ دوائی، نرخوں کی فکر الگ ... رات بھر کوئی نہ کوئی اندیشہ، غم اور ساتھ ہی اللہ اللہ خیرصلا، ان سب غموں سے میں نے نجات پا لی ہے اب آرام سے سوتا ہوں نہ کوئی مقدمہ، نہ پٹواری، نہ مالیہ نہ آبیانہ، نہ تحصیل نہ کچہری بے غمی ہی بے غمی، اس دنیا میں کتنا غم ہے، میرا غم پھر بھی کم ہے، ایک پشتو ٹپہ ہے کہ
سومرہ قلارہ قلاری شو
چہ لیونے جانان مے ورک د ملکہ شونہ
یعنی دیکھو کتنا سکون ہے کتنی خاموشی کتنا اطمینان ہے جب میرا پاگل محبوب گاؤں سے گم ہو کر چلا گیا، ذرا تصور کیجیے کہ اگر کسی کی بیوی دائم المرض بلکہ کثیر الامراض ہو جائے بلکہ تصور کرنے کی ضرورت ہی کیا ہے ایسے بے شمار لوگ ہیں جن کی بیویاں بچوں کی کم اور امراض کی مائیں زیادہ ہوتی ہیں نہ صرف رات بھر فریاد کر کے وہ آپ کو سونے نہیں دیتی بلکہ دن کو بھی آپ جہاں کہیں بھی ہوں اور کچھ بھی کر رہے ہوں یہ فکر لاحق رہتی ہے کہ وہ کیسی ہو گی، تکلیف ہو گی یا زیادہ ہو گی پھر دل کے ڈاکٹروں، گردے کے ڈاکٹروں، گھٹنوں اور کمر کے ڈاکٹروں، سینے اور پھپھڑے کے ڈاکٹروں، شوگر، بلڈ پریشر اور نہ جانے کیا کیا کے ڈاکٹروں کے پاس جانا اور خود کو لٹوانا، ایسے میں اچانک اگر وہ ام الامراض روٹھ کر میکے چلی جائے کسی کے ساتھ نہ سہی عزرائیل کے ساتھ بھاگ جائے تو؟ لیکن ایسی خوش نصیبی کسی کو کہاں ملتی ہے خود ہی کچھ کرنا پڑتا ہے جیسے اب ہمیں اپنے اس ام الامراض کے ساتھ کرنا پڑے گا، جس کا ہر محکمہ خسارے میں ہر ادارہ ایک درد بھرا پھوڑا ہے، ہر دفتر ایک غموں کی ایجنسی ہے، حکومت کا ہر قدم ایک نیا مرض، ہر اعلان ایک نیا زخم، ہر اقدام ایک نیا غم
عالم غبار وحشت مجنوں ہے سربسر
کب تک خیال طرہ لیلا کرے کوئی
پشتو میں ایک کہاوت نما شعر ہے پتہ نہیں کس کا ہے کچھ لوگ اسے رحمان بابا کا کہتے ہیں لیکن یقینی طور پر پتہ نہیں کس کا ہے لیکن شعر کے سیاق و سباق سے پتہ چلتا ہے کہ یقیناً کسی پاکستانی کا شعر ہے کیونکہ ایسا کوئی کسی اور ملک کا بندہ کہہ نہیں سکتا ... کہ
بدعملہ زوئے چہ مڑ شی پلار تر خلاص شی
لکہ غائیں چہ پہ ولیستو د دڑدہ خلاص شی
قافیہ کی غلطی تیاری ہے کہ کہنے والا شاعر نہیں بلکہ کوئی ''درد'' کا مارا ہے، مطلب شعر کا یہ ہے کہ بداعمال بیٹا اگر مر جائے تو باپ کو ویسے ہی آرام ملتا ہے جیسا کہ درد کرنیوالے دانت کے نکلوانے پر ہوتا ہے، ذرا دوبارہ غور کر کے شعر کا مفہوم اپنے اندر اتاریئے، بیٹا آخر بیٹا ہوتا ہے تکلیف تو اس کے مرنے پر ہو گی لیکن یہ ویسی ہی تکلیف ہوتی ہے جو دانت نکلوانے کے لیے سن کر دینے والے انجکشن سے ہوتی ہے اس کے بعد آرام ہی آرام، سکون ہی سکون اور بے غمی ہی بے غمی، اپنے ملک کو لیز پر دینے میں بھی تھوڑی سی تکلیف تو ہو گی لیکن ''وسیع تر مفاد'' کے لیے اسے برداشت کیا جا سکتا ہے پھر لیز والا جانے اور اس کا کام ...
ایک تاریخی حقیقہ ہے کہ جب مامون الرشید نے رومی شہنشاہ سے درخواست کی کہ اسے یونانی فلاسفہ کی کتائیں فراہم کی جائیں، یونان پر اس وقت رومی سلطنت کا قبضہ تھا، عیسائی پادریوں نے یونانی فلاسفہ کی کتابوں کو کفر قرار دیتے ہوئے تلف کیا تھا لیکن کوشش کرنے پر ایک تہہ خانے میں مطلوبہ کتابیں مل گئیں پھر مسئلہ یہ پیدا ہوا کہ دشمن مسلمانوں کو یہ کتابیں دی جائیں یا نہیں، آخر فیصلہ یہ ہوا کہ یہ مصیبت مسلمانوں ہی کو دی جائے یعنی اچھا ہے کہ مسلمان ان کفری کتابوں کا شکار ہو جائیں۔
ہمارا مسئلہ بھی تقریباً ویسا ہی ہے کہ اس دکھتے ہوئے دانت، رستے ہوئے پھوڑے، بدقماش بیٹے، دائم المریض بیوی اور پریشان کرنیوالی جائیداد کو کسی اور کے سر مڑھ دیا جائے ہاں البتہ یہ مسئلہ ہے کہ کوئی لیز پر لینے والا مل جائے گا یا نہیں، جہاں تک آئی ایم ایف اور امریکا کا تعلق ہے تو وہ بڑے کائیاں ہیں اتنا ''داغی مال'' ہر گز نہیں لیں گے لیکن اگر صحیح طریقے پر نہایت تدبر اور ہوشیاری سے ڈھونڈا جائے تو شاید کسی سے ڈیل ہو جائے بلکہ ہم ایک قیمتی مشورہ بھی دیئے دیتے ہیں اکثر بہت بیکار سی زمین بھی کچھ پڑوسی محض اس وجہ سے خرید لیتے ہیں کہ دوسروں کے لیے تو وہ زمین بیکار ہوتی ہے لیکن پڑوسی کے لیے فائدہ مند ہوتی ہے اس کا مکان یا کھیت وسیع ہو جاتا ہے یا ''راستے'' کی سہولت حاصل ہو جاتی ہے اسے ڈر ہوتا ہے کہ اگر کوئی اور بیچ میں آگیا تو میرا راستہ بند یا تنگ ہو جائے گا اس لیے قیمت یا نفع نقصان کی پروا کیے بغیر وہ خرید لیتا ہے، کیا خیال ہے ؟ آپ کا ڈن کرا دیں؟
سردست جو آئیڈیا ہم آپ کے ساتھ شیئر کرنے جا رہے ہیں اتنا زبردست ہے کہ یہ آئیڈیا ذہن میں آتے ہی ہم نے خود اپنی پیٹھ تھپتھپائی بلکہ دیر تک تھپتھپاتے رہے کہ ایں کار از تو آئید و مردان چنیں کنند ، دراصل یہ زبردست آئیڈیا ہمیں ایک خبر سے سوجھا ہے جس میں کسی سرکاری چیز کو لیز پر دینے کی بات تھی، چنانچہ اس ''لیز سسٹم'' کا تعاقب کرتے ہوئے آخر کار ہم ایک ایسے مقام پر پہنچے کہ اگر پورے ملک کو لیز پر دیا جائے تو کیسا رہے گا، ہم نے تو سوچا ہے آپ بھی سوچ لیں کہ اگر ایسا ہو گیا یعنی پورے ملک کو ''لیز'' پر دیا گیا تو نہ کوئی مسئلہ رہے گا اور نہ کوئی مسئلہ باز۔ بلکہ :
زمانے بھر کے غم اور اک تیرا غم
یہ غم ہو گا تو کتنے ''غم'' نہ ہوں گے
ذرا سوچئے خوب آگے پیچھے اوپر نیچے دائیں بائیں دیکھ کر سوچئے کہ کتنے غم ہیں جو ہمیں غمگین کر رہے ہیں بلکہ ایسا لگتا ہے کہ جیسے پورے ملک میں غموں کی فیکٹریاں کھلی ہوں، غموں کے کھیت لہلہا رہے ہوں، غموں کے چشمے پھوٹ رہے ہوں، جو کم از کم ''حیات'' میں تو پیچھا چھوڑنے والے نہیں لیکن مرشد نے کہا ہے کہ
''قید حیات'' و بند غم اصل میں دونوں ایک ہیں
موت سے پہلے آدمی غم سے نجات پائے کیوں
آپ ذرا ٹھنڈے دل و دماغ سے سوچئے کہ ہم کتنے بے غم ہو جائینگے اگر سارے غم کسی اور کے متھے مار دیں، ہمارا ایک جاننے والا ہے اس کے باپ نے بہت ساری جائیداد جمع کر کے بیٹے کے نام چھوڑی، بیٹے نے بیچنا شروع کر دی تو کچھ ہی عرصے میں ککھ بھی نہ رہا، ایک دن ہم نے اس سے پوچھا کم بخت یہ تو نے کیا کر دیا، بولا کیا کر دیا، غموں سے نجات پا لی ہے ہر وقت کوئی نہ کوئی غم رہتا تھا کہ یہ نہ ہو جائے وہ نہ ہو جائے، فصل بوتا تو یہ غم کہ ہو گی یا نہیں، آندھی ہوتی تو بھی غم، بارش نہ ہوتی تو بھی غم، ہوتی اور زیادہ غم، یہ بیچ یہ کھاد یہ ٹریکٹر یہ مرض یہ دوائی، نرخوں کی فکر الگ ... رات بھر کوئی نہ کوئی اندیشہ، غم اور ساتھ ہی اللہ اللہ خیرصلا، ان سب غموں سے میں نے نجات پا لی ہے اب آرام سے سوتا ہوں نہ کوئی مقدمہ، نہ پٹواری، نہ مالیہ نہ آبیانہ، نہ تحصیل نہ کچہری بے غمی ہی بے غمی، اس دنیا میں کتنا غم ہے، میرا غم پھر بھی کم ہے، ایک پشتو ٹپہ ہے کہ
سومرہ قلارہ قلاری شو
چہ لیونے جانان مے ورک د ملکہ شونہ
یعنی دیکھو کتنا سکون ہے کتنی خاموشی کتنا اطمینان ہے جب میرا پاگل محبوب گاؤں سے گم ہو کر چلا گیا، ذرا تصور کیجیے کہ اگر کسی کی بیوی دائم المرض بلکہ کثیر الامراض ہو جائے بلکہ تصور کرنے کی ضرورت ہی کیا ہے ایسے بے شمار لوگ ہیں جن کی بیویاں بچوں کی کم اور امراض کی مائیں زیادہ ہوتی ہیں نہ صرف رات بھر فریاد کر کے وہ آپ کو سونے نہیں دیتی بلکہ دن کو بھی آپ جہاں کہیں بھی ہوں اور کچھ بھی کر رہے ہوں یہ فکر لاحق رہتی ہے کہ وہ کیسی ہو گی، تکلیف ہو گی یا زیادہ ہو گی پھر دل کے ڈاکٹروں، گردے کے ڈاکٹروں، گھٹنوں اور کمر کے ڈاکٹروں، سینے اور پھپھڑے کے ڈاکٹروں، شوگر، بلڈ پریشر اور نہ جانے کیا کیا کے ڈاکٹروں کے پاس جانا اور خود کو لٹوانا، ایسے میں اچانک اگر وہ ام الامراض روٹھ کر میکے چلی جائے کسی کے ساتھ نہ سہی عزرائیل کے ساتھ بھاگ جائے تو؟ لیکن ایسی خوش نصیبی کسی کو کہاں ملتی ہے خود ہی کچھ کرنا پڑتا ہے جیسے اب ہمیں اپنے اس ام الامراض کے ساتھ کرنا پڑے گا، جس کا ہر محکمہ خسارے میں ہر ادارہ ایک درد بھرا پھوڑا ہے، ہر دفتر ایک غموں کی ایجنسی ہے، حکومت کا ہر قدم ایک نیا مرض، ہر اعلان ایک نیا زخم، ہر اقدام ایک نیا غم
عالم غبار وحشت مجنوں ہے سربسر
کب تک خیال طرہ لیلا کرے کوئی
پشتو میں ایک کہاوت نما شعر ہے پتہ نہیں کس کا ہے کچھ لوگ اسے رحمان بابا کا کہتے ہیں لیکن یقینی طور پر پتہ نہیں کس کا ہے لیکن شعر کے سیاق و سباق سے پتہ چلتا ہے کہ یقیناً کسی پاکستانی کا شعر ہے کیونکہ ایسا کوئی کسی اور ملک کا بندہ کہہ نہیں سکتا ... کہ
بدعملہ زوئے چہ مڑ شی پلار تر خلاص شی
لکہ غائیں چہ پہ ولیستو د دڑدہ خلاص شی
قافیہ کی غلطی تیاری ہے کہ کہنے والا شاعر نہیں بلکہ کوئی ''درد'' کا مارا ہے، مطلب شعر کا یہ ہے کہ بداعمال بیٹا اگر مر جائے تو باپ کو ویسے ہی آرام ملتا ہے جیسا کہ درد کرنیوالے دانت کے نکلوانے پر ہوتا ہے، ذرا دوبارہ غور کر کے شعر کا مفہوم اپنے اندر اتاریئے، بیٹا آخر بیٹا ہوتا ہے تکلیف تو اس کے مرنے پر ہو گی لیکن یہ ویسی ہی تکلیف ہوتی ہے جو دانت نکلوانے کے لیے سن کر دینے والے انجکشن سے ہوتی ہے اس کے بعد آرام ہی آرام، سکون ہی سکون اور بے غمی ہی بے غمی، اپنے ملک کو لیز پر دینے میں بھی تھوڑی سی تکلیف تو ہو گی لیکن ''وسیع تر مفاد'' کے لیے اسے برداشت کیا جا سکتا ہے پھر لیز والا جانے اور اس کا کام ...
ایک تاریخی حقیقہ ہے کہ جب مامون الرشید نے رومی شہنشاہ سے درخواست کی کہ اسے یونانی فلاسفہ کی کتائیں فراہم کی جائیں، یونان پر اس وقت رومی سلطنت کا قبضہ تھا، عیسائی پادریوں نے یونانی فلاسفہ کی کتابوں کو کفر قرار دیتے ہوئے تلف کیا تھا لیکن کوشش کرنے پر ایک تہہ خانے میں مطلوبہ کتابیں مل گئیں پھر مسئلہ یہ پیدا ہوا کہ دشمن مسلمانوں کو یہ کتابیں دی جائیں یا نہیں، آخر فیصلہ یہ ہوا کہ یہ مصیبت مسلمانوں ہی کو دی جائے یعنی اچھا ہے کہ مسلمان ان کفری کتابوں کا شکار ہو جائیں۔
ہمارا مسئلہ بھی تقریباً ویسا ہی ہے کہ اس دکھتے ہوئے دانت، رستے ہوئے پھوڑے، بدقماش بیٹے، دائم المریض بیوی اور پریشان کرنیوالی جائیداد کو کسی اور کے سر مڑھ دیا جائے ہاں البتہ یہ مسئلہ ہے کہ کوئی لیز پر لینے والا مل جائے گا یا نہیں، جہاں تک آئی ایم ایف اور امریکا کا تعلق ہے تو وہ بڑے کائیاں ہیں اتنا ''داغی مال'' ہر گز نہیں لیں گے لیکن اگر صحیح طریقے پر نہایت تدبر اور ہوشیاری سے ڈھونڈا جائے تو شاید کسی سے ڈیل ہو جائے بلکہ ہم ایک قیمتی مشورہ بھی دیئے دیتے ہیں اکثر بہت بیکار سی زمین بھی کچھ پڑوسی محض اس وجہ سے خرید لیتے ہیں کہ دوسروں کے لیے تو وہ زمین بیکار ہوتی ہے لیکن پڑوسی کے لیے فائدہ مند ہوتی ہے اس کا مکان یا کھیت وسیع ہو جاتا ہے یا ''راستے'' کی سہولت حاصل ہو جاتی ہے اسے ڈر ہوتا ہے کہ اگر کوئی اور بیچ میں آگیا تو میرا راستہ بند یا تنگ ہو جائے گا اس لیے قیمت یا نفع نقصان کی پروا کیے بغیر وہ خرید لیتا ہے، کیا خیال ہے ؟ آپ کا ڈن کرا دیں؟