رکن سندھ اسمبلی کی دردناک ہلاکت

طالبان کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اس قتل کے ساتھ ہی ایم کیو ایم کے خلاف کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

منظر امام کی ہلاکت کو فرقہ وارانہ ٹارگٹ کلنگ کا واقعہ قرار دیا جا رہا ہے۔ فوٹو: فائل

SWAT:
کراچی میں دہشت گردی کی ایک اور سنگین واردات کے بعد صورتحال سخت کشیدہ ہو گئی ہے۔ فائرنگ کے واقعے میں ایم کیو ایم کے رکنِ صوبائی اسمبلی منظر امام اپنے تین محافظوں سمیت جاں بحق ہو گئے۔ واقعہ جمعرات کی دوپہر اورنگی ٹاؤن کے علاقے میں پیش آیا۔ پولیس ترجمان کے مطابق پاکستان چوک بازار کے علاقے میں موٹر سائیکلوں پر سوار چار مسلح افراد نے سندھ اسمبلی کے رکن منظر امام کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کی۔ صدر آصف علی زرداری کہا ہے کہ کراچی میں دہشتگردوں کے خلاف انتہائی سخت فوری ایکشن لیا جائے اور ٹارگٹڈ آپریشن کا سلسلہ مزید تیز کیا جائے اور دہشت گردوں کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے۔

الطاف حسین نے منظر امام اور ان کے محافظوں کے بہیمانہ قتل کی شدید مذمت کرتے ہوئے اس واقعے کو بزدلانہ کارروائی اور شہر کا امن تباہ کرنے کی گھناؤنی سازش قرار دیا ہے، منظر امام کی ہلاکت کو فرقہ وارانہ ٹارگٹ کلنگ کا واقعہ قرار دیا جا رہا ہے جب کہ واردات کا تشویش ناک پہلو کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی طرف سے واقعے کی ذمے داری قبول کرنا ہے۔ طالبان کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اس قتل کے ساتھ ہی ایم کیو ایم کے خلاف کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ اپنے مضمرات اور کراچی میں امن و امان کی مخدوش صورتحال کے پیش نظر اس الٹی میٹم اور سنگین واردات میں ملوث عناصر کی تلاش میں ٹامک ٹوئیاں مارنے کی ضرورت نہیں بلکہ پولیس اور رینجرز کو انٹیلی جنس ایجنسیوں کے مکمل اشتراک سے کراچی میں طالبان نیٹ ورک اور ان کے ٹھکانوں کو تہس نہس کرنے اور واقعے میں ملوث دہشت گردوں کی فوری گرفتاری کے لیے عبرت انگیز کریک ڈائون کرنا چاہیے، لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنا مورال بلند رکھیں اور کسی قسم کی مصلحت اور دبائو کے بغیر شہر میں قانون شکن گروہوں اور گینگ وار سمیت تمام سیاسی جماعتوں کے عسکری ونگز اور مافیائی تنظیموں کا قلع قمع کریں۔


طالبان کی ایم کیو ایم کے خلاف کارروائی کی دھمکی عام شہریوں کے ساتھ ساتھ ملکی سالمیت سے منسلک ہے۔ کراچی میں ٹارگٹ کلنگ، اسٹریٹ کرائم، ذاتی انتقام اور کاروباری و خاندانی دشمنیوں کے نام پر قتل و غارت بھی ٹارگٹ کلنگ کے زمرے میں لائی جاتی ہے جس کی وجہ سے کراچی لاقانونیت کے ایک دہشت انگیز جنگل کا منظر پیش کر رہا ہے جہاں پُر تشدد وارداتوں میں ملوث عناصر وارداتوں کا تسلسل جاری رکھے ہوئے ہیں۔ عوام سکتے کے عالم میں ہیں۔ شہر بند پڑا ہے، قتل و غارت نے ایک دردناک کلچر کی شکل اختیار کر لی ہے، کاروبار ٹھپ جب کہ پبلک ٹرانسپورٹ بند، جامعہ کراچی، اردو یونیورسٹی، انٹر کے امتحانات ملتوی اور تدریسی عمل سب معطل ہیں۔ ووٹروں کی گھر گھر تصدیق کا کام متاثر ہو رہا ہے۔ غربت، بیروزگاری، بے یقینی اور بے قابو انارکی کے باعث لوگ نفسیاتی، ذہنی، اور اعصابی امراض کا شکار ہو چکے ہیں۔

لاکھوں اجرتی مزدور اور ان کے گھرانے نان شبینہ کو محتاج ہو رہے ہیں۔ آخر اس بے بسی اور قاتلوں کی سرکشی کے خاتمے کے لیے حکومت کب حرکت میں آئے گی؟ اب جب کہ دہشت گردوں نے کھلی دھمکی دے دی ہے اور یہ دھمکیاں خالی خولی بھی نہیں ہوتیں، اس لیے کراچی کو دہشت گردوں سے بچانے اور ملکی سالمیت اور جمہوریت کے چراغ کو جلائے رکھنے کی کوششیں مجرموں کے خلاف ڈائریکٹ ایکشن کی متقاضی ہیں۔ پولیس، رینجرز اور سراغ رساں ادارے نئی حکمت عملی وضع کریں۔ منظر امام حکومت میں ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنائے جانے والے ایم کیو ایم کے دوسرے رکنِ اسمبلی ہیں، اگست 2010ء میں رضا حیدر محافظ سمیت ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنے تھے، اس سے قبل گلشن اقبال میں موٹر سائیکل سواروں کی فائرنگ سے مدرسہ احسن العلوم کے 2 طالبعلم حارث اور اختر زمان زخمی جب کہ کورنگی صنعتی ایریا میں فائرنگ سے مدرسہ انوار العلوم کا ایک طالب علم جاں بحق، دوسرا شدید زخمی ہو گیا۔ تاہم یہ امر خوش آیند ہے کہ اے این پی اور متحدہ دہشت گردی کے خلاف مل کر کام کریں گی۔ جب کہ ضرورت دیگر اسٹیک ہولڈرز اور سول سوسائٹی کے متحرک ہونے کی بھی ہے۔ سب یک آواز ہو کر دہشت گردوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں۔
Load Next Story