مصباح کا ستارہ عروج پر ڈومیسٹک ٹرافی بھی لے اڑے
کپتان کو پریذیڈنٹ ٹرافی فائنل کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا، سوئی ناردرن گیس نے ایچ بی ایل کو 75 رنز سے زیر کیا۔
سوئی ناردرن کے کپتان مصباح الحق پریذیڈنٹ ٹرافی تھامے مسکرارہے ہیں۔ (فوٹو :راشد اجمیری)
پاکستانی کپتان مصباح الحق کا ستارہ ان دنوں عروج پر ہے، بھارت کو اس کی سرزمین پر شکست دینے کے بعد انھوں نے ڈومیسٹک ٹورنامنٹ پریذیڈنٹ ٹرافی کے فائنل میں حصہ لیا تو اس میں بھی فاتح ٹرافی لے اُڑے۔
ان کی ٹیم سوئی ناردرن گیس نے ایچ بی ایل کو 75 رنز سے زیر کر کے ٹائٹل اپنے نام کیا،نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں فاتح ٹیم کو5 لاکھ روپے کا انعام بھی دیا گیا، حریف ٹیم کے قائد یونس خان نے رنر اپ ٹرافی اور ڈھائی لاکھ روپے وصول کیے،مصباح الحق کو مین آف دی میچ کے ساتھ50 ہزار روپے انعام بھی ملا، پی سی بی گورننگ باڈ ی کے رکن وزیر علی خوجہ تقریب تقسیم انعامات کے مہمان خصوصی تھے،ایونٹ میں 10 ڈپارٹمنٹل ٹیموں نے شرکت کی۔ 5 روزہ فائنل کے آخری روز ایچ بی ایل نے6وکٹ پر169 رنز سے نامکمل دوسری اننگز شروع کی۔
اسے کامیابی کیلیے160 اور سوئی نادرن گیس کو4 وکٹوں کی ضرورت تھی، اوپنر عمران فرحت22اور عبدالرحمان2 رنز کیساتھ بیٹنگ کیلیے آئے تاہم پوری ٹیم 80.1 اوورز میں253 پر آئوٹ ہو گئی،عمران نے کسی حد تک کریز پر قدم جمانے کی کوشش کی تاہم ایک رن کی کمی سے نصف سنچری مکمل نہ کر سکے، ان کے 49 رنز میں8 چوکے شامل تھے،فہد مسعود29،عمر گل12 اورعبدالرحمان 11 رنز بنانے میں کامیاب ہوئے،پہلی اننگز میں 4 کھلاڑیوں کو آئوٹ کرنے والے محمد حفیظ نے 67 رنز کے عوض3 کھلاڑیوں کو پویلین پہنچایا۔
انھوں نے میچ میں مجموعی طور پر 7 وکٹیں اپنے نام کیں،اسد علی،عمران خالد اور عمران علی کے حصہ میں 2، 2 وکٹیں آئیں۔ پورٹ قاسم کے عمر امین ٹورنامنٹ میں767 رنز اسکور کرکے بہترین بیٹسمین قرار پائے،انھیں50 ہزار روپے کا انعام دیا گیا۔
واپڈا کے ذوالفقار بابر 62 وکٹوں کے ساتھ بولرزمیں سرفہرست رہے، 18 کیچز تھامنے والے ایچ بی ایل کے احمد شہزاد نے بہترین فیلڈر کی حیثیت سے 50 ہزار روپے وصول کیے، دورئہ جنوبی افریقہ کیلیے قومی ٹیم میں شامل پی آئی اے کے سرفراز احمدنے بیسٹ وکٹ کیپر کا اعزاز حاصل کیا، انھوں نے36کیچز لیے اور14کھلاڑیوں کو اسٹمپڈ کیا۔
ان کی ٹیم سوئی ناردرن گیس نے ایچ بی ایل کو 75 رنز سے زیر کر کے ٹائٹل اپنے نام کیا،نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں فاتح ٹیم کو5 لاکھ روپے کا انعام بھی دیا گیا، حریف ٹیم کے قائد یونس خان نے رنر اپ ٹرافی اور ڈھائی لاکھ روپے وصول کیے،مصباح الحق کو مین آف دی میچ کے ساتھ50 ہزار روپے انعام بھی ملا، پی سی بی گورننگ باڈ ی کے رکن وزیر علی خوجہ تقریب تقسیم انعامات کے مہمان خصوصی تھے،ایونٹ میں 10 ڈپارٹمنٹل ٹیموں نے شرکت کی۔ 5 روزہ فائنل کے آخری روز ایچ بی ایل نے6وکٹ پر169 رنز سے نامکمل دوسری اننگز شروع کی۔
اسے کامیابی کیلیے160 اور سوئی نادرن گیس کو4 وکٹوں کی ضرورت تھی، اوپنر عمران فرحت22اور عبدالرحمان2 رنز کیساتھ بیٹنگ کیلیے آئے تاہم پوری ٹیم 80.1 اوورز میں253 پر آئوٹ ہو گئی،عمران نے کسی حد تک کریز پر قدم جمانے کی کوشش کی تاہم ایک رن کی کمی سے نصف سنچری مکمل نہ کر سکے، ان کے 49 رنز میں8 چوکے شامل تھے،فہد مسعود29،عمر گل12 اورعبدالرحمان 11 رنز بنانے میں کامیاب ہوئے،پہلی اننگز میں 4 کھلاڑیوں کو آئوٹ کرنے والے محمد حفیظ نے 67 رنز کے عوض3 کھلاڑیوں کو پویلین پہنچایا۔
انھوں نے میچ میں مجموعی طور پر 7 وکٹیں اپنے نام کیں،اسد علی،عمران خالد اور عمران علی کے حصہ میں 2، 2 وکٹیں آئیں۔ پورٹ قاسم کے عمر امین ٹورنامنٹ میں767 رنز اسکور کرکے بہترین بیٹسمین قرار پائے،انھیں50 ہزار روپے کا انعام دیا گیا۔
واپڈا کے ذوالفقار بابر 62 وکٹوں کے ساتھ بولرزمیں سرفہرست رہے، 18 کیچز تھامنے والے ایچ بی ایل کے احمد شہزاد نے بہترین فیلڈر کی حیثیت سے 50 ہزار روپے وصول کیے، دورئہ جنوبی افریقہ کیلیے قومی ٹیم میں شامل پی آئی اے کے سرفراز احمدنے بیسٹ وکٹ کیپر کا اعزاز حاصل کیا، انھوں نے36کیچز لیے اور14کھلاڑیوں کو اسٹمپڈ کیا۔