لیزکی تجدید کاوقت گزرگیا محکمہ ریونیوکاجائیداد ضبط کرنے کا فیصلہ

ضلع جنوبی میں 1800سے زائد رہائشی،کمرشل اور تجارتی یونٹ کی لیز منسوخ ہوگئی۔

سندھ حکومت نے سرکاری اراضی کو طے شدہ مقاصد سے ہٹ کر استعمال کرنے والوں کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا ہے، سروے اوررپورٹ کی تیاری شروع. فوٹو: فائل

محکمہ ریونیو کی جائیداد کی لیزوں کیلیے تجدید کا وقت گزرگیا۔

لیز کی تجدید نہ کرانے پر جائیداد ضبط کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ،کسی بھی وقت کارروائی شروع ہونے کا امکان ہے جبکہ لیز کی تجدید کیلیے مہلت بڑھانے کیلیے وزیراعلیٰ سندھ سے بھی درخواست کی گئی ہے تا حال اس ضمن میں منظوری نہیں ملی ، ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ کراچی میں منسوخ شدہ لیزوں کی تجدید کیلیے دی گئی مہلت ختم ہونے کے بعد متعلقہ جائیداد کوضبط کرنے کے لیے تیاریاں شروع کردی گئی ہیں۔

ڈپٹی کمشنرز نے منسوخ شدہ لیز کے مالکان کی فہرستیں مرتب کرنے کی ہدایت کردی ہے جلد ہی کارروائی شروع کردی جائے گی، ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ برنس روڈ ،کلفٹن کوارٹر ،فریئر ٹاؤن ،آرٹلری میدان ، گارڈن ویسٹ ، سول لائن اور صدر سمیت مختلف علاقوں میںکمرشل اور رہائشی یونٹس کی لیز منسوخ ہونے کے باوجود مالکان نے تجدید نہیں کرائی جس کی وجہ سے سندھ حکومت کو کروڑوں روپے کا نقصان ہورہا ہے،معلوم ہوا ہے کہ صرف ضلع جنوبی میں 1800سے زائد رہائشی ، کمرشل اور تجارتی یونٹ ایسے ہیں جن کی لیز منسوخ ہوچکی ہے۔


 



متعدد بار متنبہ کرنے کے باوجود جائیداد کے مالکان نے لیز کی تجدید کرانے میں دلچسپی نہیں لی جس پر حکومت سندھ نے فیصلہ کیا ہے کہ ایسی جائیدادوں کو فوری طور پر ضبط کرکے اینٹی انکروچمنٹ ایکٹ کے تحت مالکان کے خلاف کارروائی کا آغاز کیا جائے، یاد رہے کہ اس سے قبل بھی بورڈ آف ریونیو نے منسوخ شدہ لیزوں کی تجدید کیلیے ایڈیشنل سیکریٹری کی سربراہی میں خصوصی سیل قائم کیا تھا تاہم کمشنری نظام کی بحالی کے بعد متعلقہ ڈپٹی کمشنرز کو منسوخ شدہ لیزوں کی تجدید کا اختیار دیا گیا۔

دوسری جانب سندھ حکومت نے سرکاری اراضی کو طے شدہ مقاصد سے ہٹ کر استعمال کرنے والوں کے خلاف بھی کارروائی کا فیصلہ کیا ہے اور اس ضمن میں متعلقہ حکام کو سروے کرکے رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے ،بتایا گیا ہے کہ رہائشی مقصد کے لیے حاصل کردہ اراضی پرکمرشل پلازہ ، پٹرول پمپس ، ہوٹلز اور دیگر تعمیرات کرلی گئی ہیں جس کی نہ تو سرکاری فیس ادا کی گئی اور نہ ہی مجاز اتھارٹی سے نقشے منظور کرائے گئے ہیں ،سروے کا کام مکمل ہونے کے بعد اس ضمن میں بھی کارروائی کا آغاز کیا جائے گا ۔
Load Next Story