پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان لفظی گولہ باری جاری

پلیئرز سے براہ راست روابط کی بات غلط ہے، بنگلہ بورڈکا پی سی بی کے الزام پر جواب۔

پاکستانی کرکٹ حکام کی جانب سے احسان یاد دلانے پر اپنے اچھے کام بھی جتا دیے۔ فوٹو فائل

ISLAMABAD:
پاکستان اور بنگلہ دیش کے کرکٹ حکام میں لفظی گولہ باری کا سلسلہ جاری ہے۔

بنگلہ بورڈ صفائیاں پیش کرنے کے ساتھ بی پی ایل کے رنگ پھیکے پڑنے کا رونا بھی روتا نظر آرہا ہے، اس نے پی سی بی کو بالائے طاق رکھتے ہوئے کھلاڑیوں سے براہ راست روابط کی اطلاعات کو غلط قرار دیدیا۔


بی سی بی کا کہنا ہے کہ ایونٹ میں کرکٹرز کی شرکت کے سلسلے میں معاونت کیلیے آئی سی سی کے تمام فل ممبر ممالک کے بورڈز کو باضابطہ خطوط5 دسمبر کو ہی لکھ دیے گئے تھے تاکہ وہ اپنے معاملات اور قواعد ضوابط کو پیش نظر رکھتے ہوئے موقع آنے پر این او سی جاری کرسکیں، پاکستانی کھلاڑیوں کی بڑی تعدا د بولی کے بعد مختلف فرنچائزز میں شامل ہونے کی خبریں دنیا بھر کے میڈیا کی زینت بنیں،20 دسمبر کو نیلامی کے بعد پی سی بی اور بی سی بی مسلسل رابطے میں تھے مگر کسی بھی موقع پر پاکستان کی طرف سے این اوسی کا مسئلہ نہیں اٹھایا گیا۔



16 جنوری کو اچانک تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے ایونٹ شروع ہونے سے ایک روز قبل کھلاڑی بھیجنے سے انکار کردیا گیا، بنگلہ دیشی بورڈ کے مطابق پاکستانی کرکٹرز کی عین موقع پر دستبرداری سے ہمارے لیے انتہائی پریشان کن صورتحال پیدا ہوئی، بی سی بی نے پاکستان کے عدم تعاون کا شکوہ کرنے کے ساتھ اپنے ماضی کے احسان بھی یاد دلانے کی کوشش کی ہے، حکام نے کہا کہ 2008 میں آسٹریلیا نے پاکستان آنے سے انکار کردیا تو بنگلہ دیشی ٹیم 5 ون ڈے اور ایک ٹوئنٹی 20 میچ کھیلنے کیلیے گئی، مگر اب صورتحال ایسی نہیں کہ سیکیورٹی نظر انداز کرتے ہوئے کوئی فیصلہ کرسکتے۔
Load Next Story