سندھ میں رینجرز اختیارات کا مسئلہ

وزیر اعلی ہاؤس اور محکمہ داخلہ سندھ کی جانب سے وضاحتیں جاری کی گئی ہیں

وزیر اعلی ہاؤس اور محکمہ داخلہ سندھ کی جانب سے وضاحتیں جاری کی گئی ہیں ۔ فوٹو؛ فائل

سابق صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ رینجرز اختیارات کا معاملہ ''کچھ لو اور کچھ دو'' کی بنیاد پر طے ہوگا، جب کہ وزیر قانون سندھ ضیا الحسن لْنجار نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ رینجرز کو پنجاب کی طرز پر اختیارات دینے کا بھی جائزہ لیا جائے گا،90 روز تک تحویل کے اختیارات چند دن میں مشاورت کے بعد دیے جائیں گے ۔

بلاشبہ رینجرز کے اختیارات کا معاملہ ایک سنگین مضحکہ خیز رسہ کشی کے بعد یقیناً طے پا جائے گا تاہم ایک انتظامی معاملے کو بدستور لٹکائے رکھنا مناسب روایت نہیں ہے جب کہ شہر قائد اور اندرون سندھ شہروں کو درپیش ہمہ گیر انتظامی مسائل کے پیش نظرگڈ گورننس کی ضرورت ہے، اس نوعیت کے فیصلے مشاورت اور خیر سگالی کے ساتھ کیے جانے چاہئیں، ماضی میں بھی رینجرز کا انتظامی معاملہ حل ضرور ہوتا رہا مگر کافی لیت ولعل کے بعد حالانکہ کراچی آپریشن کے تسلسل ، مقامی حکومت کی فعالیت ، فنڈزکی عدم فراہمی اور میئر کے مطالبات سے جو نقشہ ابھرتا ہے وہ قابل رشک نہیں، ایک انتشار ، بے یقینی اور افراتفری ہے جس نے کراچی کو کچرے کا ڈھیر اور مسائل کی آماجگاہ بنا دیا ہے ۔


صاحب ادراک انتظامیہ کو معلوم ہے کہ بدامنی کسی کا انتظار نہیں کرتی، رینجرز نے شہر قائد اور سندھ کے شہری و دیہی علاقوں میں امن وامان کے قیام کے لیے نمایاں خدمات انجام دی ہیں ، شہر قائد کی رونقیں لوٹ آئی ہیں اور آج جو امن نظر آتا ہے اس میں رینجرز کے کردار کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، تاہم سندھ میں رینجرز کے اختیارات ختم ہوئے3روز ہوگئے مگر وزیراعلیٰ سندھ نے اب تک سمری پر دستخط نہیں کیے جب کہ رینجرز نے بھی اختیارات میں توسیع نہ ملنے پر کارروائیاں محدود کردی ہیں،ادھر ایک اعلامیہ میں بتایا گیا کہ رینجرز سندھ میں اختیارات ختم ہونے کے بعد آپریشن یا ضرورت کے تحت پولیس اور ضلعی حکام کی طرف سے ہنگامی طور پر بلائے جانے پر بیک اپ سپورٹ دے گی۔

وزیر اعلی ہاؤس اور محکمہ داخلہ سندھ کی جانب سے وضاحتیں جاری کی گئی ہیں ، ترجمان وزیر اعلیٰ ہاؤس کے مطابق رینجرز کو چیکنگ، گشت اور چوکیوں پر رہنے کے اختیارات تاحال حاصل ہیں، وضاحتی بیان میں کہا گیا کہ اختیارات 19 جولائی 2016 سے لے کر19جولائی 2017تک دیے گئے تھے، دوسری جانب محکمہ داخلہ سندھ نے کہا ہے کہ میڈیا میں حکومت سندھ کی جانب سے رینجرز سے ذمے داریاں واپس لینے کا تاثر درست نہیں ہے ۔ضرورت صوبہ کے اسٹیک ہولڈرز کی فوری مداخلت کی ہے، سندھ حکومت دانشمندانہ طریقہ سے رینجرز اختیارات مسئلہ کو حل کرنے کے لیے پیش رفت کرے ، کراچی کی صورتحال انتظامی فیصلوں میں کسی تاخیر کی متحمل نہیں ہوسکتی۔
Load Next Story