قبیلہ ’’ط‘‘ کے مقامی دانشور

اب ہم یہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ کنڈولیزا رائس نے شعر و ادب کے بارے میں یہ کہا ہے

barq@email.com

کافی احتیاط اور پھونک پھونک کر قدم رکھنے کے باوجود آخر کار ہم ایسی کسی نہ کسی تقریب میں گرفتار ہو ہی جاتے ہیں جس میں ''دانش'' بگھاری جا رہی ہو بلکہ اکثر تو جیسا کہا گیا ہے کہ ہوشیار پرندہ پھنستا نہیں لیکن جب پھنستا ہے تو دونوں پیروں سے پھنس جاتا ہے اور یہی ہمارے ساتھ ہوتا ہے۔ ''ہوشیار پرندے'' کا مطلب عقل مند پرندہ نہیں ہے بلکہ جتنا محتاط ہوتا ہے یا ڈرا ہوا ہوتا ہے دانہ و دام سے ... دونوں پیروں سے پھنس جانے کا مطلب غالباً یہ ہوتا ہے کہ صدر یا مہمان خصوصی بنا کر اڑنے یا بھاگنے کے امکانات بھی معدوم کر دیے جاتے ہیں۔

اس مرتبہ بھی یہی ہوا ۔ پھنس گئے اور بری طرح پھنس گئے، دھوکا ہم اس ''دانے'' سے کھا گئے جو خود کو ہمارا دوست کہتا ہے اور کام دشمنی کا کر گیا، ''دانے'' کے اوپر دام یہ بچھایا گیا تھا کہ ایک مرحوم بزرگ کو خراج تحسین پیش کرنے کا نام دیا گیا، اگرچہ موحوم بزرگ کے ساتھ ہمیں شرف ملاقات حاصل نہیں ہوا تھا، لیکن سوچا چلو ہم بھی ادھر ادھر کی ہانک کر جان چھڑا لیں گے لیکن وہاں تو معاملہ ہی دیگر تھا، نام بزرگ کا ضرور لیا جاتا تھا لیکن ہر کوئی اپنا اپنا ''مال'' بیچنے میں لگا ہوا تھا، مال بھی کچھ ایسا ویسا نہیں ''دانش'' کا مال جو اکثر مال مسروقہ ہوتا ہے۔

اب تو پھنس چکے تھے اس نائی کی طرح جو پڑوسی گاؤں میں ایک خان کے ساتھ فاتحہ پڑھنے چلا گیا تھا، ہوا یوں کہ خان نے نائی کو بلوا کر کہا کہ جلدی جلدی میری حجامت بنا دو پاس کے گاؤں میں ایک میت ہو گئی ہے وہاں فاتحہ پڑھنے جانا ہے۔ نائی بھی فارغ تھا بولا ، خان مجھے بھی ساتھ لے چلو۔ خان نے سوچا ایک سے بھلے دو، دراصل نائی سادہ سا تھا اور کبھی کسی فاتحے میں نہیں گیا تھا، گاؤں میں یہ کام اس کا باپ کرتا تھا جو اور کسی کام کا نہیں رہا تھا۔ راستے میں اس نے خان سے پوچھا کہ فاتحے میں کیا کرنا ہوتا ہے۔ خان نے کہا کچھ بھی نہیں بس ہاتھ اٹھا کر دل ہی دل میں مرحوم کی مغفرت کے لیے دعا کرتے ہیں اور آخر میں ہاتھ اپنے منہ پر پھیر کر مرحوم کی تعریف میں دوچار باتیں کر دیتے ہیں۔


وہاں پہنچے تو نائی کو بڑی جلدی تھی اس لیے خان سے بھی پہلے فاتحہ پڑھنا شروع کیا، آخر میں ہاتھ اپنے چہرے پر پھیرتے ہوئے بولاخدا بخشے مرحوم کے بال ریشم کی طرح نرم تھے، خان نے کہنی ماری اور سرگوشی کی، کم بخت میت ایک عورت کی ہے۔ نائی کو اپنی غلطی کا احساس ہوا۔ اب ہم بھی دانش مندوں اور دانشوروں میں ایسے ہی پھنس گئے تھے بلکہ اس سے کچھ زیادہ ... یوں کہیے کہ رضیہ غنڈوں میں پھنس گئی تھی لیکن کچھ نہ کچھ بولنا تو تھا، کافی سوچ بچار بلکہ منتشر سوچ بچار میں کچھ مرحوم بزرگ دانشوروں کو مدد کے لیے پکارا کیونکہ جو بات ہم نے خاص طور پر دانشورانہ مقالوں میں پائی تھی وہ یہ تھی ، ابتداء میں، درمیان میں اور پھر ہر ہر ممکن مقام پر کسی بزرگ کا حوالہ دینا ضروری ہو جاتا ہے اور اگر اس بزرگ کا تعلق جائز یا ناجائز طور پر کسی یورپی ملک یا یونان اور یا امریکا سے ہو تو مقالہ اور زیادہ بھاری بھرکم ہو جاتا ہے لیکن کوشش کے باوجود اس وقت ان ملکوں کے کسی بزرگ کا نام ذہن میں نہیں آرہا تھا، کچھ نام یاد آئے بھی تو کنڈولیزا رائس، انجلینا جولی، اسٹیفی گراف، ماریا شراپووا اور ولیم سسٹرز کے ۔

اب ہم یہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ کنڈولیزا رائس نے شعر و ادب کے بارے میں یہ کہا ہے اور انجلینا جولی کا مزاحمتی ادب کے بارے میں یہ کہنا ہے لیکن خدا بھلا کرے ترکیہ والوں کا ، وہاں کے خواجہ نصیر الدین عین وقت پر دستگیری فرما گئے، چنانچہ ہم نے بھی دم لیے بغیر اسٹارٹ لے لیا، خواجہ نصیر الدین ایک مرتبہ انتہائی مفلس ہو گئے بالکل ہماری طرح... تو کسی گاؤں میں وارد ہو گئے اور ایک لاوارث سی مسجد میں پیش امام کا عہدہ سنبھال لیا، وضع قطع تو موصوف کی اچھی شرعی تھی جیسے ہم سفید بالوں کی وجہ سے بزرگ یا دانش ور دکھائی دیتے ہیں اس بے چارے کو تو کچھ عرصہ قرض خواہوں سے چھپنا اور کھانے پینے کی سبیل پیدا کرنا تھی لیکن یہ خیال بالکل نہیں آیا تھا کہ ایک روز جمعہ بھی آنے والا ہے جیسے ہمیں پتہ نہیں تھا کہ دانش بھی بگھارنا پڑے گی۔

جمعہ کا دن آیا تو بے چارے کو بڑی فکر ہوئی کیونکہ اسے یہ تو معلوم تھا کہ جمعے کو خطبہ بھی دینا ہوتا ہے لیکن یہ پتہ بالکل بھی نہیں تھا کہ خطبہ میں کیا کچھ بولنا پڑے گا ۔ خطبہ پڑھنے کو اٹھے تو کھنکار کر بولے ، تم کو پتہ ہے آج میں کیا کہنے والا ہوں۔ مقتدیوں نے کہا ہمیں کیا معلوم کہ آپ کیا ارشاد فرمانے والے ہیں۔ خواجہ ایک دم جلال میں آتے ہوئے بولے ، جب تم کچھ جانتے ہی نہیں تو ایسے جاہلوں سے کوئی کیا کہے اور منبر سے اتر گئے۔ دوسرے جمعے کو اس کے اس سوال پر کہ کیا تم جانتے ہو کہ آج میں کیا کہوں گا چنانچہ مقتدیوں نے یک زبان ہو کہا ہاں ہم جانتے ہیں۔ اس پر بولے جب تم خود جانتے ہو مجھے کہنے کی کیا ضرورت ہے۔ تیسرے جمعے کو مقتدیوں نے باقاعدہ ایکا کر کے اسٹرٹیجی بنائی تھی جب اس نے سوال کیا ، تو آدھے لوگوں نے ہاتھ کھڑا کر کے بتایا کہ ہم جانتے ہیں اور آدھے لوگوں نے کہا کہ ہم نہیں جانتے۔

خواجہ مسکرائے بولے تو پھر ٹھیک ہے جو جانتے ہیں وہ ان لوگوں کو بتائیں جو نہیں جانتے۔ اس تمہید کے بعد ہم نے بھی کہہ دیا کہ ہم خواجہ نصیر الدین کی طرح تین دن کا انتظار نہیں کریں گے، کیوں کہ ہم جانتے ہیں کہ آپ سب کچھ جانتے ہیں۔ یہ جو یہاں کہا گیا یعنی دانش برسائی گئی وہ بھی اور جو نہیں برسائی گئی وہ بھی کیوں کہ لنکا میں کوئی بھی باون گز سے کم نہیں ہوتا۔ دانش وروں، سیاسی لیڈروں، اینکروں اور ریٹائرڈ تھنکروں کے اس ملک میں ایسا کوئی بندہ ہو ہی نہیں سکتا جو سب کچھ نہ جانتا ہو، ایسا کوئی سادہ دل بندہ اس ملک میں پایا ہی نہیں جاتا جس کے اندر قبیلہ ''ط'' کے تمام یونانی بیٹھے ہوئے نہ ہوں، قبیلہ ''ط'' مطلب کہ جن کے ناموں میں ''ط'' لازمی ہوتی ہے، جیسے سقراط بقراط، دمیقراط، افلاطون، ارسطو، ارسطا طالس اور طوطیا شوش وغیرہ۔
Load Next Story