جامعہ کراچیغیرقانونی مقیم افراد سےپیرکومکانات خالی کرائےجائیں گے
28 ریٹائروحاضرسروس ملازمین نےگھر خالی نہیں کیے،کیمپس انتظامیہ کی غیرقانونی مقیم افرادکوحتمی نوٹس کی مدت کل مکمل ہوگی.
رہائشی یونیورسٹی واجبات سے انکاری،بیشتر کا ریٹائرمنٹ کے باوجود مکانات پر قبضہ، کئی نے سرکاری مکانات کرائے پر دیدیے۔ فوٹو: فائل
جامعہ کراچی کی انتظامیہ کی جانب سے کیمپس میں غیر قانونی طورپرمقیم 28 ملازمین کوحتمی نوٹسز کی مدت کل اتوارکوپوری ہورہی ہے اور اتوار تک کیمپس میں غیرقانونی طور پر مقیم ریٹائر اور حاضر سروس ملازمین کی جانب سے گھرخالی نہ کیے جانے کے خلاف پیرکوآپریشن متوقع ہے اور یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے پیرکورینجرزکی مددسے غیرقانونی طورپرمقیم ملازمین سے گھرخالی کروائے جانے کاامکان ہے۔
واضح رہے کہ جامعہ کراچی کی انتظامیہ نے چندروزپہلے کیمپس میں غیرقانونی طور پر مقیم ملازمین کونوٹسزجاری کرتے ہوئے انھیں20 جنوری تک گھرخالی کرنے کی ہدایت کی تھی کیمپس میں غیرقانونی طورپرمقیم ریٹائرملازمین میں شعبہ سندھی کے سابق پروفیسرنواز علی شوق بھی شامل ہیں جبکہ بعض دیگرریٹائرملازمین بھی ہیں جنھوں نے یونیورسٹی کی جانب سے کئی بارنوٹسزجاری کیے جانے کے باوجود گھرخالی نہیں کیے ہیں۔
مزیربراں 20 کے قریب ایسے حاضرسروس ملازمین بھی ہیں جنھوں نے یونیورسٹی کے گارڈن کے قریب خالی زمین پرقبضہ کرتے ہوئے یہاں از خود گھرتعمیرکررکھے ہیں ان ملازمین کوبھی یونیورسٹی انتظامیہ زمین سے قبضہ خالی کرنے کے نوٹسزجاری کرچکی ہے یاد رہے کہ جامعہ کراچی کے قواعد کے مطابق کوئی بھی ملازم ریٹائرمنٹ کے بعد 6 ماہ تک کیمپس میں رہائش اختیارکرسکتا ہے مگر بیشتر افراد نے نہ صرف ریٹائرمنٹ کے بعد رہائش رکھی بلکہ مکانات کسی اورکوبھی کرائے پردے رکھے ہیں۔
ادھرحال ہی میں ریٹائرہونے والے جامعہ کراچی کے رجسٹرار پروفیسر ڈاکٹرمنصور احمد نے شیخ الجامعہ پروفیسرڈاکٹرمحمد قیصر،کیمپس سیکیورٹی ایڈوائزرپروفیسرخالد عراقی اورہائوس الائٹمنٹ کمیٹی کے سربراہ پروفیسرابوذرواجدی کی موجودگی میں اخبارنویسوں کوبتایاکہ کیمپس میں غیرقانونی طورپرمقیم افرادکو20 جنوری تک آخری مہلت دی گئی ہے جس کے بعد رینجرزکی مدد سے مکانات کوخالی کرایاجائے گا انھوں نے بتایاکہ رہائش پذیرافرادنے کئی سال سے یونیورسٹی کو واجبات بھی ادانہیں کیے ہیں لہذاان افرادکے خلاف کارروائی کاحتمی فیصلہ کیاگیاہے۔
واضح رہے کہ جامعہ کراچی کی انتظامیہ نے چندروزپہلے کیمپس میں غیرقانونی طور پر مقیم ملازمین کونوٹسزجاری کرتے ہوئے انھیں20 جنوری تک گھرخالی کرنے کی ہدایت کی تھی کیمپس میں غیرقانونی طورپرمقیم ریٹائرملازمین میں شعبہ سندھی کے سابق پروفیسرنواز علی شوق بھی شامل ہیں جبکہ بعض دیگرریٹائرملازمین بھی ہیں جنھوں نے یونیورسٹی کی جانب سے کئی بارنوٹسزجاری کیے جانے کے باوجود گھرخالی نہیں کیے ہیں۔
مزیربراں 20 کے قریب ایسے حاضرسروس ملازمین بھی ہیں جنھوں نے یونیورسٹی کے گارڈن کے قریب خالی زمین پرقبضہ کرتے ہوئے یہاں از خود گھرتعمیرکررکھے ہیں ان ملازمین کوبھی یونیورسٹی انتظامیہ زمین سے قبضہ خالی کرنے کے نوٹسزجاری کرچکی ہے یاد رہے کہ جامعہ کراچی کے قواعد کے مطابق کوئی بھی ملازم ریٹائرمنٹ کے بعد 6 ماہ تک کیمپس میں رہائش اختیارکرسکتا ہے مگر بیشتر افراد نے نہ صرف ریٹائرمنٹ کے بعد رہائش رکھی بلکہ مکانات کسی اورکوبھی کرائے پردے رکھے ہیں۔
ادھرحال ہی میں ریٹائرہونے والے جامعہ کراچی کے رجسٹرار پروفیسر ڈاکٹرمنصور احمد نے شیخ الجامعہ پروفیسرڈاکٹرمحمد قیصر،کیمپس سیکیورٹی ایڈوائزرپروفیسرخالد عراقی اورہائوس الائٹمنٹ کمیٹی کے سربراہ پروفیسرابوذرواجدی کی موجودگی میں اخبارنویسوں کوبتایاکہ کیمپس میں غیرقانونی طورپرمقیم افرادکو20 جنوری تک آخری مہلت دی گئی ہے جس کے بعد رینجرزکی مدد سے مکانات کوخالی کرایاجائے گا انھوں نے بتایاکہ رہائش پذیرافرادنے کئی سال سے یونیورسٹی کو واجبات بھی ادانہیں کیے ہیں لہذاان افرادکے خلاف کارروائی کاحتمی فیصلہ کیاگیاہے۔