دنیا کے ایک ارب 30 کروڑ افراد بجلی کی سہولت سے محروم
پاکستان میں قابل تجدید توانائی سے بجلی پیدا کرنے کے وسیع مواقع ہیں،کارل پاپ
کوئلہ بیش قیمت ہوجائیگا،پاکستان شمسی توانائی ، بائیوماس اور پن بجلی کیلیے بہترین جگہ ہے. فوٹو: فائل
دنیا کے ایک ارب 30 کروڑ افراد تاحال بجلی کی سہولت سے محروم ہیں اور 2030 تک تقریباً ایک ارب افراد تک یہ سہولت نہیں پہنچ پائے گی جن میں جنوبی ایشیا کے رہنے والے 70 کروڑ افراد شامل ہوں گے۔
ان خیالات کا اظہار قابل تجدید توانائی کے بین الاقوامی ماہر کارل پاپ نے آئی یو سی این کے زیر اہتمام ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا، کارل پاپ نے کہا کہ قابل تجدید توانائی کو اگر طویل عرصے تک استعمال کیا جائے تو اس پر آنے والے اخراجات انتہائی کم ہوجاتے ہیں، انھوں نے بتایا کہ گذشتہ چند سالوں کے دوران بجلی کی پیداوار میں استعمال ہونے والا ایک اہم ایندھن کوئلے کی قیمت میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے، انھوں نے کہا کہ الیکٹرک گرڈ کی تعمیر ی لاگت بھی تانبے کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافے کی وجہ سے کئی گنا بڑھ گئی ہے۔
انھوں نے کہا کہ آنے والے سالوں میں کوئلے کی قیمت میں مزید اضافہ ہونے کا امکان ہے، انھوں نے کہا کہ وقت کی ضرورت ہے کہ تیزی سے قابل تجدید توانائی پر منتقل ہوا جائے، انھوں نے کہا کہ خوش آئند بات ہے کہ شمسی توانائی اور ایل ای ڈی لائٹس سمیت قابل تجدید توانائی کے ذرائع پر آنے والی لاگت گذشتہ چند سالوں کے دوران کم ہوئی ہے، انھوں نے کہا کہ پاکستان میں قابل تجدید توانائی سے بجلی پیدا کرنے کے وسیع مواقع موجود ہیں۔
انھوں نے کہا کہ بھارت اور بنگلہ دیش کے بعد پاکستان بجلی کے سہولت سے محروم افراد کے تناسب سے دنیا کا تیسرا بڑا ملک ہے، انھوں نے کہا کہ پاکستان شمسی توانائی، بائیو ماس، پن بجلی کے چھوٹے منصوبوں کیلیے بہترین جگہ ہے، انھوں نے کہا کہ پاکستان میں بجلی کے بحران کا واحد حل بجلی کی پیداوار پر آنے والی لاگت کو کم کرنے میں ہے۔
اس موقع پر سیکریٹری ماحولیات میر حسین علی نے بتایا کہ حکومت ہوا سے بجلی پیدا کرنے کے 40 منصوبوں پر کام کررہی ہے جو آئندہ دو سالوں میں 2 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرسکیں گے جس سے سندھ کے دیہی علاقوں کے 120 اسکولوں کو بجلی فراہم کی جاسکے گی۔
ان خیالات کا اظہار قابل تجدید توانائی کے بین الاقوامی ماہر کارل پاپ نے آئی یو سی این کے زیر اہتمام ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا، کارل پاپ نے کہا کہ قابل تجدید توانائی کو اگر طویل عرصے تک استعمال کیا جائے تو اس پر آنے والے اخراجات انتہائی کم ہوجاتے ہیں، انھوں نے بتایا کہ گذشتہ چند سالوں کے دوران بجلی کی پیداوار میں استعمال ہونے والا ایک اہم ایندھن کوئلے کی قیمت میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے، انھوں نے کہا کہ الیکٹرک گرڈ کی تعمیر ی لاگت بھی تانبے کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافے کی وجہ سے کئی گنا بڑھ گئی ہے۔
انھوں نے کہا کہ آنے والے سالوں میں کوئلے کی قیمت میں مزید اضافہ ہونے کا امکان ہے، انھوں نے کہا کہ وقت کی ضرورت ہے کہ تیزی سے قابل تجدید توانائی پر منتقل ہوا جائے، انھوں نے کہا کہ خوش آئند بات ہے کہ شمسی توانائی اور ایل ای ڈی لائٹس سمیت قابل تجدید توانائی کے ذرائع پر آنے والی لاگت گذشتہ چند سالوں کے دوران کم ہوئی ہے، انھوں نے کہا کہ پاکستان میں قابل تجدید توانائی سے بجلی پیدا کرنے کے وسیع مواقع موجود ہیں۔
انھوں نے کہا کہ بھارت اور بنگلہ دیش کے بعد پاکستان بجلی کے سہولت سے محروم افراد کے تناسب سے دنیا کا تیسرا بڑا ملک ہے، انھوں نے کہا کہ پاکستان شمسی توانائی، بائیو ماس، پن بجلی کے چھوٹے منصوبوں کیلیے بہترین جگہ ہے، انھوں نے کہا کہ پاکستان میں بجلی کے بحران کا واحد حل بجلی کی پیداوار پر آنے والی لاگت کو کم کرنے میں ہے۔
اس موقع پر سیکریٹری ماحولیات میر حسین علی نے بتایا کہ حکومت ہوا سے بجلی پیدا کرنے کے 40 منصوبوں پر کام کررہی ہے جو آئندہ دو سالوں میں 2 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرسکیں گے جس سے سندھ کے دیہی علاقوں کے 120 اسکولوں کو بجلی فراہم کی جاسکے گی۔