لوڈ شیڈنگ اور بجلی کے ڈھیر سارے وعدے

گرمی کی شدت میں اضافے کے ساتھ ساتھ غیر علانیہ لوڈشیڈنگ اور بجلی کا شارٹ فال بھی بے قابو ہونے لگا ہے

۔ فوٹو: فائل

ملک گیر لوڈ شیڈنگ کا آخر کار وزیراعظم نے نوٹس لے ہی لیا اور وزارت پانی وبجلی کو بجلی کی کمی کو پورا کرنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر تمام وسائل بروئے کار لانے کی ہدایت کی ، وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے مزید کہا کہ عوام کو پہنچنے والی تکلیف کا جلد از جلد ازالہ کیا جائے اور بروقت منصوبہ بندی نہ کرنیوالے اہلکاروں پر ذمے داری عائد کی جائے تاکہ آیندہ ایسی صورتحال پیش نہ آئے۔

یہ بات انھوں نے بجلی کی کمی کے حوالے سے کابینہ کمیٹی برائے توانائی کے خصوصی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی، وزیراعظم کی طرف سے منگل کو یہاں طلب کیے گئے اجلاس میں بجلی کی پیداوار میں کمی کے عوامل کا جائزہ لیا گیا، اجلاس میں وزیر پانی و بجلی خواجہ آصف ، وزیر پٹرولیم شاہد خاقان عباسی ، سیکریٹری پانی و بجلی سمیت دیگر حکام نے بھی شرکت کی۔

بجلی کی بدترین و اعصاب شکن لوڈشیڈنگ کو اگرچہ اعلیٰ ترین سطح پر غفلت سے تعبیر کیا گیا تاہم بنیادی سوال یہ ہے کہ اتنے ڈھیر سارے پاور پلانٹوں کی مختلف علاقوں میں تنصیب اور متبادل توانائی کے حصول کے کثیر لاگتی منصوبے اب تک جزوی بجلی مہیا کرنے میں ناکام کیوں رہے، شمسی توانائی منصوبوں سے توانائی کی کتنی ریلیف ملی، نندی پاور پلانٹ سمیت دیگر زیر تکمیل منصوبوں کی کیا ''آن گوئنگ '' رپورٹ ہے، کب تک بجلی کی شفاف فراہمی کا مستحکم نظام عوام کی آسودگی کا سبب بنے گا۔ واضح رہے وزیراعظم ، وزرائے اعلیٰ اور پانی و بجلی کے وزراء کی جانب سے 2018 ء تک لوڈ شیڈنگ کے خاتمہ کی بات اتنی بار دہرائی گئی کہ اس کا عشر عشیر تو رواں سال ہی میں عوام کو ملنا چاہیے تھا لیکن بجلی سے درپیش مشکلات میں کوئی کمی نہیں آئی ،الٹا غیر علانیہ لوڈشیڈنگ نے پنجاب، سندھ، بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے علاقوں کو لپیٹ میںلے لیا، کراچی اور لاہور میں لوڈشیڈنگ دورانیہ حیرتناک طورپریکساں ہے۔


شہری علاقوں میں 7سے9 جب کہ دیہی علاقوں میں 10سے18گھنٹے بجلی غائب رہتی ہے، بعض شہروں میں ہر گھنٹے کی آنکھ مچولی اور شہر قائد کے ڈیفالٹر علاقوں میں ہر گھنٹے کے بعد 2 گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ ہورہی ہے ، چنانچہ ملک گیر لوڈشیڈنگ کے خلاف عوامی برہمی اور احتجاجی مظاہرے شدت پکڑ رہے ہیں ، تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی کی قیادت ملک گیر احتجاج کا شیڈول دے چکی ہیں، پانی و بجلی کی وزارت کے مطابق پیر کو بجلی کی طلب 19 ہزار میگا واٹ تک بڑھ گئی جب کہ رسد 13 ہزار500 میگاواٹ رہی، در حقیقت توانائی بحران سے مستقبل کی ضروریات اور موسمیاتی تبدیلیوں سے حکام اور ماہرین کچھ سیکھتے تو آج عوام مستقل لوڈ شیڈنگ کے عذاب میں گرفتار نہ ہوتے، ایک ایٹمی ملک کے ماہرین برقیات و آب کے لیے لازم تھا کہ وہ گذشتہ 4سال میں کچھ نہ کچھ پیش رفت تو دکھاتے۔

دکھ کی بات یہ ہے کہ شدید گرمی ،لو اور پانی کی قلت سے تنگ عوام کو سمندر سے کھارے پانی کو میٹھا کرنے والے پلانٹ بھی نصیب نہ ہوسکے،یوں اگروافر بجلی کی خوشخبری کے آثارنظر نہیں آرہے تو بندہ پرورو ! 2018 ء کا انتظار واعتبار کون کرے گا؟ وزارت پانی وبجلی کی طرف سے واضح کیا گیا کہ گرمی کی شدت میں غیر متوقع اضافہ ہوجانے سے بجلی کی طلب ایک دم بڑھ گئی جو 2500میگا واٹ سے بھی زیادہ ہے جب کہ ڈیموں میں پانی کی مطلوبہ مقدار دستیاب نہیں، گرمی کی شدت میں اضافے کے ساتھ ساتھ غیر علانیہ لوڈشیڈنگ اور بجلی کا شارٹ فال بھی بے قابو ہونے لگا ہے ، شارٹ فال 7 ہزار میگاواٹ سے بھی تجاوز کر گیا، فیڈرز بار بار بند کرنا پڑیں گے ۔

بہر حال طویل و غیر علانیہ لوڈشیڈنگ اور پانی کی قلت نے شہریوں کو بے حال کر دیا ہے، مساجد اور گھروں میں پانی بھی غائب ہوگیا ، فلٹر پلانٹس پر پانی نایاب ہے، پانی کے حصول کے لیے لوگ میلوں سفر کرتے ہیں، معمولات زندگی درہم برہم ہوگئے، بعض شہروں میں امتحانی پرچے حل کرنا دشوار ہوگیا، گھنٹوں بجلی غائب ہونے سے شہریوں کو شدید اعصابی امراض نے گھیر لیا ہے ، شدید گرمی میںبچے اور بوڑھے گرمی سے نڈھال اور بے ہوش ہونے لگے ہیں ، ضرورت بجلی کے نظام کی زبردست اوورہالنگ کی ہے، بجلی کی پیداوار اور طلب میں موجود فرق کو کنٹرول کرنا بے حد ضروری ہے، ملکی ترقی و عوام کی خوشحالی بجلی کی مستقل فراہمی سے مشروط ہے جب کہ توانائی بحران کے حل کی ہمہ جہت پالیسی اور جنریشن ، ڈسٹری بیوشن اور شفاف بلنگ کے موجودہ سسٹم کی شفاف بنیادوں پر ازسرنوتنظیم کے کثیرالمقاصد میکنزم کی تیاری وقت کا اولین تقاضہ ہے۔
Load Next Story