پاناما کیس کا فیصلہ
تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی وزیراعظم کو دباؤ میں لانے کے لیے اپنی رابطہ عوام مہم میں شدت پیدا کریں گی
، فوٹو؛ فائل
سپریم کورٹ کے 5ججوں پر مشتمل لارجر بنچ نے جمعرات کو پاناما کیس کا تاریخی فیصلہ سنا دیا ہے۔ اس فیصلے میں وزیراعظم کی نااہلی کی استدعا مسترد کر دی گئی تاہم دو ججوں نے وزیراعظم کو نااہل قرار دیا ہے' عدالت عظمیٰ نے وزیراعظم اور ان کے صاحبزادوں کے خلاف پاناما کیس کی مزید تحقیقات کے لیے جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم تشکیل دینے کا حکم دیا ہے۔ اس مشترکہ تحققاتی ٹیم میں ایم آئی' نیب' ایف آئی اے اور ایس ای سی پی کے ارکان شامل ہوں گے۔
عدالت عظمیٰ کا فیصلہ متفقہ نہیں ہے۔ یہ 2کے مقابلے 3ججوں کا اکثریتی فیصلہ ہے۔ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم 60روز میں اپنا کام مکمل کرے گی اور ہر ہفتے اپنی رپورٹ عدالت عظمیٰ کو پیش کرے گی۔ حکمران مسلم لیگ ن اس فیصلے کو اپنی کامیابی قرار دے کر خوشی کا اظہار کر رہی ہے جب کہ پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کا کہنا ہے کہ اب وزیراعظم کو استعفیٰ دے دینا چاہیے۔ تحریک انصاف کے قائد عمران خان اور پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز کے سربراہ آصف علی زرداری دونوں نے وزیراعظم سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا ہے۔
پاناما کیس کے فیصلے کا پوری قوم بے صبری سے انتظار کر رہی تھی۔سپریم کورٹ نے پاناما کیس کی سماعت 4ماہ 3دن میں 36بار سماعت ہوئی جب کہ مقدمہ96گھنٹے سنا گیا،پاناما لیکس 3مارچ 2016ء کو منظرعام پر آئیں' پاناما پیپرز میں وزیراعظم کی فیملی پر آف شور کمپنیاں بنانے کا انکشاف ہوا جس پر اپوزیشن نے وزیراعظم سے استعفیٰ کا مطالبہ کر دیا۔وزیراعظم نے پاناما لیکس سامنے آنے کے بعدٹیلی ویژن پر قوم سے خطاب کیااور پارلیمنٹ میں کے سامنے بھی اپنا موقف بیان کیا اور اس معاملے کی تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن بنانے کا اعلان کیا۔تحقیقاتی کمیشن کے ٹی او آرز کی تشکیل کے لیے حکومت اور اپوزیشن جماعتوں کی طویل نشستیں بھی ہوئیں لیکن بے سود رہیں ۔
لیکن فریقین ٹی او آرز تشکیل دینے میں ناکام رہے۔ پھر تحریک انصاف سڑکوں پر آئی اور 2نومبر کو اسلام آباد بند کرنے کی کال دی ' اسی دوران یکم نومبر 2016ء کو سپریم کورٹ نے اس کیس کو ٹیک اپ کیا اور کیس کی سماعت کے لیے 5رکنی لارجر بنچ تشکیل دے دیا۔ اسی دوران چیف جسٹس جمالی ریٹائرڈ ہو گئے اور لارجر بنچ تحلیل ہو گیا۔31دسمبر 2016ء کو نئے چیف جسٹس نے جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں نیا بنچ تشکیل دیا۔ 4جنوری 2017ء سے روزانہ کی بنیاد پر کیس کی سماعت ہوئی اور کیس کا فیصلہ 23فروری کو محفوظ کر لیا گیا جسے گزشتہ روز سنا دیا گیا۔
سپریم کورٹ کے متوقع فیصلے کے بارے میں مختلف حلقے اپنے اپنے انداز میں قیاس آرائیاں کرتے رہے' بہرحال اب یہ فیصلہ سامنے آ چکا ہے جس کے بعد چہ مگوئیوں کا سلسلہ ختم ہو گیا۔غیریقینی صورتحال کی بنا پر پاکستان کی اسٹاک مارکیٹ پر بھی منفی اثرات مرتب ہو رہے تھے۔ اب صورت حال خاصی حد تک بہتر ہو جائے گی۔ یہ فیصلہ کس کے خلاف ہے اور کس کے حق میں ہے' اس کے بارے میں حکمران جماعت کا موقف یہ ہے کہ جو لوگ وزیراعظم میاں نواز شریف کی نااہلی کا خواب دیکھ رہے تھے' ان کے خواب پورے نہیں ہوئے لہٰذا یہ فیصلہ ان کے حق میں ہے۔
اس لیے ہی مسلم لیگ ن کے لیڈر اور کارکن مٹھائیاں تقسیم کر رہے ہیں' اس کے برعکس تحریک انصاف' پیپلز پارٹی اور دیگر اپوزیشن پارٹیوں کا موقف یہ ہے کہ عدالت عظمیٰ نے وزیراعظم اور ان کے خاندان کو پاناما کیس سے بری نہیں کیا بلکہ تحقیقاتی ٹیم بنائی ہے لہٰذا وزیراعظم ابھی تک پھنسے ہوئے ہیں جب کہ پانچ رکنی بنچ میں شامل دو فاضل ججوں نے وزیراعظم کے بارے میں کہا ہے کہ وہ صادق اور امین نہیں رہے لہٰذا انھیں نااہل قرار دیا ہے۔لہٰذا صورت حال کا تقاضا یہ ہے کہ وزیراعظم اپنے عہدے سے الگ ہو جائیں۔
یوں دیکھا جائے تو دونوں فریقوں کے لیے فیصلے میں اپنے اپنے موقف کے بارے میں مواد موجود ہے۔ بہرحال پاناما فیصلے کے آنے کے بعد بھی سیاسی ماحول میں نرمی آتی نظر نہیں آ رہی۔ قانونی طور پر پاناما کیس ابھی دو ماہ تک مزید موضوع بحث بنا رہے گا کیونکہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے بھی اپنا کام کرنا ہے۔ لہٰذا پاکستانی سیاست میں گرما گرمی کا ماحول بنا رہے گا۔تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی وزیراعظم کو دباؤ میں لانے کے لیے اپنی رابطہ عوام مہم میں شدت پیدا کریں گی'عمران خان کا موقف کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔یوں کہا جا سکتا ہے کہ آنے والے دنوں میں پاناما لیکس کے فیصلے پر نئی سیاسی صف بندیاں ہوں گی۔جلسے جلوسوں میں شدت آئے گی۔ اس سارے معاملے کا خوش کن پہلو یہ بھی ہے کہ فریقین نے آئین و قانون کا راستہ اختیار کیا ہے ' ملک کی سالمیت اور جمہوریت کی بقا کے لیے یہی راستہ بہترین ہے۔حکمران جماعت اور اپوزیشن جماعتوں کو جمہوری اصولوں کو ہی مدنظر رکھنا چاہیے اور گھیراؤ جلاؤ سے گریز کرنا چاہیے۔
عدالت عظمیٰ کا فیصلہ متفقہ نہیں ہے۔ یہ 2کے مقابلے 3ججوں کا اکثریتی فیصلہ ہے۔ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم 60روز میں اپنا کام مکمل کرے گی اور ہر ہفتے اپنی رپورٹ عدالت عظمیٰ کو پیش کرے گی۔ حکمران مسلم لیگ ن اس فیصلے کو اپنی کامیابی قرار دے کر خوشی کا اظہار کر رہی ہے جب کہ پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کا کہنا ہے کہ اب وزیراعظم کو استعفیٰ دے دینا چاہیے۔ تحریک انصاف کے قائد عمران خان اور پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز کے سربراہ آصف علی زرداری دونوں نے وزیراعظم سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا ہے۔
پاناما کیس کے فیصلے کا پوری قوم بے صبری سے انتظار کر رہی تھی۔سپریم کورٹ نے پاناما کیس کی سماعت 4ماہ 3دن میں 36بار سماعت ہوئی جب کہ مقدمہ96گھنٹے سنا گیا،پاناما لیکس 3مارچ 2016ء کو منظرعام پر آئیں' پاناما پیپرز میں وزیراعظم کی فیملی پر آف شور کمپنیاں بنانے کا انکشاف ہوا جس پر اپوزیشن نے وزیراعظم سے استعفیٰ کا مطالبہ کر دیا۔وزیراعظم نے پاناما لیکس سامنے آنے کے بعدٹیلی ویژن پر قوم سے خطاب کیااور پارلیمنٹ میں کے سامنے بھی اپنا موقف بیان کیا اور اس معاملے کی تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن بنانے کا اعلان کیا۔تحقیقاتی کمیشن کے ٹی او آرز کی تشکیل کے لیے حکومت اور اپوزیشن جماعتوں کی طویل نشستیں بھی ہوئیں لیکن بے سود رہیں ۔
لیکن فریقین ٹی او آرز تشکیل دینے میں ناکام رہے۔ پھر تحریک انصاف سڑکوں پر آئی اور 2نومبر کو اسلام آباد بند کرنے کی کال دی ' اسی دوران یکم نومبر 2016ء کو سپریم کورٹ نے اس کیس کو ٹیک اپ کیا اور کیس کی سماعت کے لیے 5رکنی لارجر بنچ تشکیل دے دیا۔ اسی دوران چیف جسٹس جمالی ریٹائرڈ ہو گئے اور لارجر بنچ تحلیل ہو گیا۔31دسمبر 2016ء کو نئے چیف جسٹس نے جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں نیا بنچ تشکیل دیا۔ 4جنوری 2017ء سے روزانہ کی بنیاد پر کیس کی سماعت ہوئی اور کیس کا فیصلہ 23فروری کو محفوظ کر لیا گیا جسے گزشتہ روز سنا دیا گیا۔
سپریم کورٹ کے متوقع فیصلے کے بارے میں مختلف حلقے اپنے اپنے انداز میں قیاس آرائیاں کرتے رہے' بہرحال اب یہ فیصلہ سامنے آ چکا ہے جس کے بعد چہ مگوئیوں کا سلسلہ ختم ہو گیا۔غیریقینی صورتحال کی بنا پر پاکستان کی اسٹاک مارکیٹ پر بھی منفی اثرات مرتب ہو رہے تھے۔ اب صورت حال خاصی حد تک بہتر ہو جائے گی۔ یہ فیصلہ کس کے خلاف ہے اور کس کے حق میں ہے' اس کے بارے میں حکمران جماعت کا موقف یہ ہے کہ جو لوگ وزیراعظم میاں نواز شریف کی نااہلی کا خواب دیکھ رہے تھے' ان کے خواب پورے نہیں ہوئے لہٰذا یہ فیصلہ ان کے حق میں ہے۔
اس لیے ہی مسلم لیگ ن کے لیڈر اور کارکن مٹھائیاں تقسیم کر رہے ہیں' اس کے برعکس تحریک انصاف' پیپلز پارٹی اور دیگر اپوزیشن پارٹیوں کا موقف یہ ہے کہ عدالت عظمیٰ نے وزیراعظم اور ان کے خاندان کو پاناما کیس سے بری نہیں کیا بلکہ تحقیقاتی ٹیم بنائی ہے لہٰذا وزیراعظم ابھی تک پھنسے ہوئے ہیں جب کہ پانچ رکنی بنچ میں شامل دو فاضل ججوں نے وزیراعظم کے بارے میں کہا ہے کہ وہ صادق اور امین نہیں رہے لہٰذا انھیں نااہل قرار دیا ہے۔لہٰذا صورت حال کا تقاضا یہ ہے کہ وزیراعظم اپنے عہدے سے الگ ہو جائیں۔
یوں دیکھا جائے تو دونوں فریقوں کے لیے فیصلے میں اپنے اپنے موقف کے بارے میں مواد موجود ہے۔ بہرحال پاناما فیصلے کے آنے کے بعد بھی سیاسی ماحول میں نرمی آتی نظر نہیں آ رہی۔ قانونی طور پر پاناما کیس ابھی دو ماہ تک مزید موضوع بحث بنا رہے گا کیونکہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے بھی اپنا کام کرنا ہے۔ لہٰذا پاکستانی سیاست میں گرما گرمی کا ماحول بنا رہے گا۔تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی وزیراعظم کو دباؤ میں لانے کے لیے اپنی رابطہ عوام مہم میں شدت پیدا کریں گی'عمران خان کا موقف کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔یوں کہا جا سکتا ہے کہ آنے والے دنوں میں پاناما لیکس کے فیصلے پر نئی سیاسی صف بندیاں ہوں گی۔جلسے جلوسوں میں شدت آئے گی۔ اس سارے معاملے کا خوش کن پہلو یہ بھی ہے کہ فریقین نے آئین و قانون کا راستہ اختیار کیا ہے ' ملک کی سالمیت اور جمہوریت کی بقا کے لیے یہی راستہ بہترین ہے۔حکمران جماعت اور اپوزیشن جماعتوں کو جمہوری اصولوں کو ہی مدنظر رکھنا چاہیے اور گھیراؤ جلاؤ سے گریز کرنا چاہیے۔