ایف بی آرایران سے اسمگلنگ روکےبلوچستان کلیئرنگ ایجنٹس

اسمگلروںکی پشت پناہی کرنے والے کسٹمز حکام کیخلاف کارروائی کی جائے

اسمگلروںکی پشت پناہی کرنے والے کسٹمز حکام کیخلاف کارروائی کی جائے فائل فوٹو

KARACHI:
کسٹمز کلیئرنگ ایجنٹ فورم نے وزارت خزانہ اور چیئرمین ایف بی آر علی ارشد حکیم و ممبر کسٹمز محمد ریاض خان سے اپیل کی ہے کہ کسٹمز حکام کی سرپرستی و ملی بھگت سے ایران سے پنجگور کے راستے بڑے پیمانے پر ہونے والی اسمگلنگ کی روک تھام کیلیے اقدامات کیے جائیں کیونکہ اسمگلنگ کی وجہ سے پاک، ایران، افغانستان اور سینٹرل ایشیا سے ہونے والی قانونی تجارت تباہ ہوچکی ہے جس سے بلوچستان کے تاجر بری طرح متاثر ہورہے ہیں۔

اس ضمن میں بلوچستان کسٹمز کلیئرنگ ایجنٹ فورم کے اجلاس کے بعد جاری اعلامیے کے مطابق مبارک خان کی زیر صدارت ہونے والے بلوچستان کسٹمز کلیئرنس ایجنٹ فورم کے اجلاس میں کسٹمز حکام کی ملی بھگت سے اسمگلنگ کے بلوچستان کی تجارت پر پڑنے والے منفی اثرات کا جائزہ لیا گیا۔ اعلامیے کے مطابق اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مبارک خان نے کہا کہ بلوچستان میں بڑھتی ہوئی اسمگلنگ سے پاک، ایران، افغانستان اور سینٹرل ایشیا سے ہونے والی قانونی تجارت تباہ ہوچکی ہے،


روزانہ ایران سے پنجگور کے راستے پاکستان کو پلاسٹک دانہ و دیگر قیمتی اشیا اسمگل ہوکر لکپاس کسٹم چیک پوسٹ اور بلیلی کسٹمز چیک پوسٹ سے صوبہ پنجاب اور صوبہ سندھ کے شہروں میں سر عام پہنچائی جارہی ہیں اور ان اسمگلروں کی پشت پناہی و سرپرستی کوئٹہ میں تعینات کلکٹر، ڈپٹی کلکٹر و دیگر عملہ کر رہا ہے۔

انہوں نے چیئرمین ایف بی آر علی ارشد حکیم اور ممبر کسٹمز محمد ریاض خان سے اپیل کی کہ وہ بلوچستان سے اسمگلنگ کے خاتمے کیلیے عملی اقدامات کریں اور اسمگلروں کی پشت پناہی کرنے والے کسٹمز حکام کے خلاف کارروائی کی جائے اور اسمگلنگ کی روک تھام کیلیے ایماندار و فرض شناس افسران تعینات کیے جائیں۔
Load Next Story