وی بوک کسٹمز کلیئرنس سسٹم کیخلاف تاجروں کی شکایات میں اضافہ
وی بوک کسٹمز کلیئرنس سسٹم کیخلاف تاجروں کی شکایات میں اضافہ
وی بوک کسٹمز کلیئرنس سسٹم کیخلاف تاجروں کی شکایات میں اضافہ. فوٹو اے ایف پی
KARACHI:
محکمہ کسٹمز میں کالعدم پیکس کلیئرنس سسٹم کے متبادل وی بوک کلیئرنس سسٹم کے خودکار نہ ہونے کے باعث تجارتی و صنعتی شعبے کی شکایات میں اضافہ ہوگیا۔ پاکستان اکانومی فورم کے چیئرمین ارشد جمال نے بتایا کہ پیکس کے تحت کنسائنمنٹس کی کلیئرنس کا دورانیہ صرف4 گھنٹے تھا، اس کے برعکس وی بوک سسٹم کے تحت کلیئرنس کی مدت بڑھ کر 4 روز ہوگئی ہے،
مقامی طور پر تیار کیے گئے وی بوک سافٹ ویئرکو درآمدی و برآمدی اشیا کے کسٹم کلیئرنس میں متبادل سسٹم کے طور پر متعارف کرایا گیا لیکن اس نیم خودکار کلیئرنس سسٹم میں مطلوبہ استعداد نہ ہونے کی وجہ ٹریڈ سیکٹر نے وی بوک کلکٹریٹ میں گڈز ڈیکلریشن داخل کرانا بند کردیے ہیں۔ ذرائع نے ''ایکسپریس'' کو بتایا کہ وی بوک کلکٹریٹ میں تعینات ایک نوجوان خاتون اسسٹنٹ کلکٹر کا طرز عمل بھی امپورٹرز و ایکسپورٹرز کیلیے سخت پریشانی کا باعث ہے اور انھوں نے خاتون افسر کے اس توہین آمیز رویے کے خلاف شدید احتجاج کیا ہے،
تاجروں کا موقف ہے کہ یہ خاتون افسر سماعت کے دوران کروڑوں روپے مالیت کا ٹیکس دینے والے نامور اور سینئر بیوپاریوں اور برآمدکنندگان کو''بیٹا'' کہہ کرطلب کرتی ہیں جس پر متعدد تاجروں نے کلکٹر وی بوک کو زبانی شکایات بھی کیں تاہم متعلقہ کلکٹر نے تاحال اس افسر کے خلاف کوئی تادیبی کارروائی نہیں کی۔ پاکستان اکانومی فورم کے ارشد جمال نے بتایا کہ پیکس کا متبادل ''وی بوک'' سسٹم کمزور ترین ثابت ہوا ہے،
یہ نظام نہ تو مکمل آٹومیٹڈ ہے اور نہ ہی اس سسٹم میں رسک منیجمنٹ ہے جس سے اسپیڈ منی کے بغیرکلیئرنس ناممکن ہوگئی ہے۔ انھوں نے چیئرمین ایف بی آرسے مطالبہ کیا کہ وہ وی بوک کو مکمل آٹومیٹڈ کرنے کا میکنزم ترتیب دیں۔
محکمہ کسٹمز میں کالعدم پیکس کلیئرنس سسٹم کے متبادل وی بوک کلیئرنس سسٹم کے خودکار نہ ہونے کے باعث تجارتی و صنعتی شعبے کی شکایات میں اضافہ ہوگیا۔ پاکستان اکانومی فورم کے چیئرمین ارشد جمال نے بتایا کہ پیکس کے تحت کنسائنمنٹس کی کلیئرنس کا دورانیہ صرف4 گھنٹے تھا، اس کے برعکس وی بوک سسٹم کے تحت کلیئرنس کی مدت بڑھ کر 4 روز ہوگئی ہے،
مقامی طور پر تیار کیے گئے وی بوک سافٹ ویئرکو درآمدی و برآمدی اشیا کے کسٹم کلیئرنس میں متبادل سسٹم کے طور پر متعارف کرایا گیا لیکن اس نیم خودکار کلیئرنس سسٹم میں مطلوبہ استعداد نہ ہونے کی وجہ ٹریڈ سیکٹر نے وی بوک کلکٹریٹ میں گڈز ڈیکلریشن داخل کرانا بند کردیے ہیں۔ ذرائع نے ''ایکسپریس'' کو بتایا کہ وی بوک کلکٹریٹ میں تعینات ایک نوجوان خاتون اسسٹنٹ کلکٹر کا طرز عمل بھی امپورٹرز و ایکسپورٹرز کیلیے سخت پریشانی کا باعث ہے اور انھوں نے خاتون افسر کے اس توہین آمیز رویے کے خلاف شدید احتجاج کیا ہے،
تاجروں کا موقف ہے کہ یہ خاتون افسر سماعت کے دوران کروڑوں روپے مالیت کا ٹیکس دینے والے نامور اور سینئر بیوپاریوں اور برآمدکنندگان کو''بیٹا'' کہہ کرطلب کرتی ہیں جس پر متعدد تاجروں نے کلکٹر وی بوک کو زبانی شکایات بھی کیں تاہم متعلقہ کلکٹر نے تاحال اس افسر کے خلاف کوئی تادیبی کارروائی نہیں کی۔ پاکستان اکانومی فورم کے ارشد جمال نے بتایا کہ پیکس کا متبادل ''وی بوک'' سسٹم کمزور ترین ثابت ہوا ہے،
یہ نظام نہ تو مکمل آٹومیٹڈ ہے اور نہ ہی اس سسٹم میں رسک منیجمنٹ ہے جس سے اسپیڈ منی کے بغیرکلیئرنس ناممکن ہوگئی ہے۔ انھوں نے چیئرمین ایف بی آرسے مطالبہ کیا کہ وہ وی بوک کو مکمل آٹومیٹڈ کرنے کا میکنزم ترتیب دیں۔