پاناما کیس کا فیصلہ احتساب سے وابستہ امیدیں

کشیدگی، گھیراؤ جلاؤ، دھرنے، ہڑتال، اور حکومت گراؤ جیسی مہم جوئی سے جمہوریت کو ڈی ریل کرنے کی غلطی نہیں ہونی چاہیے

(فوٹو: فائل)

سپریم کورٹ نے پاناما لیکس کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے معاملہ کی مزید تحقیقات کے لیے جے آئی ٹی بنانے کا حکم دیدیا ہے، وزیراعظم نواز شریف اور ان کے بیٹوں حسن نواز، حسین نواز کو تحقیقات میں شامل ہونے کا حکم دیا ہے، 5 رکنی لارجر بنچ نے3-2 کی اکثریت سے فیصلہ سنایا، یوں وزیراعظم نواز شریف نااہلی سے بچ گئے، بنچ کے سربراہ جسٹس آصف سعید کھوسہ اور جسٹس گلزار احمد نے اختلافی نوٹ لکھتے ہوئے وزیراعظم کو فوری طور پرنااہل کرنے کا فیصلہ سنایا جب کہ جسٹس اعجاز افضل، جسٹس عظمت سعید جسٹس اعجازالاحسن نے معاملہ کی انکوائری کا حکم دیا، فیصلہ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے پڑھ کر سنایا۔

عدالت عظمیٰ نے540 صفحات پر مشتمل فیصلہ سنا دیا ہے۔ اسے عدلیہ نے پہلے 20 سال پھر صدیوں یاد رکھا جانے والافیصلہ قراردیا تھا جب کہ میڈیا کے نزدیک یہ تاریخی فیصلہ ہے جس پر ملک گیر سطح پر بحث جاری ہے، بعض دل گرفتہ ہیں، کچھ کے چہروں پر خوشی ہے مگر عجیب دلچسپ اور یادگار حقیقت یہ ہے کہ فریقین فیصلہ کی کثیرجہتی اور ہمہ گیر صداقت پر جشن منا رہے ہیں، والہانہ انداز میں مٹھائیاں بانٹی جا رہی ہیں، یہ تاریخی فیصلہ اس لیے بھی ندرت، انفرادیت اور گہرے مضمرات کا حامل ہو گا کہ بجز پیپلز پارٹی اور سابق صدر آصف زرداری کے کسی مین اسٹریم سیاسی جماعت نے فیصلہ پر شدید رد عمل ظاہر نہیں کیا، تاہم یہ بھی سیاسی و جمہوری روایت اور اظہار رائے کا حسن ہے۔

فیصلے کے مختلف پہلوؤں پر بحث ہوتی رہے گی مگر بنیادی جمہوری اور پارلیمانی آداب کا تقاضہ ہے کہ جن سیاسی جماعتوں نے اقرار کیا کہ وہ صدق دل سے سپریم کورٹ کے فیصلہ کو تسلیم کریں گی اب ان پر لازم ہے کہ وہ ایفائے عہد کریں، قانون کا احترام ان پر واجب ہے، کشیدگی، گھیراؤ جلاؤ، دھرنے، ہڑتال، اور حکومت گراؤ جیسی مہم جوئی سے جمہوریت کو ڈی ریل کرنے کی غلطی نہیں ہونی چاہیے، اب تک عدالتی پروسیس کو جس توقیر، سبک روی، وقار اور غیر جذباتی رد عمل سے بچاتے ہوئے گھڑی فیصلہ سنانے تک آئی آج بھی ضرورت اس بات کی ہے کہ 60 دن کے اندر جے آئی ٹی رپورٹ کی تیاری اور سپریم کورٹ میں اسے پیش کرنے تک جمہوری اسپرٹ کا تسلسل برقرار رہنا چاہیے، دنیا کی نظریں ابھی ہم پر سے ہٹی نہیں ہیں، ہماری ہر حرکت بڑی طاقتوں کی نگاہ میں ہے، خطے کی صورتحال کا تقاضہ ہے کہ سیاسی قیادتیں ملکی سالمیت اور جمہوری عمل کی کشتی کو پار لگانے کے لیے باہمی اختلافات کے باوجود ملکی سلامتی، استحکام ، عدلیہ کے وقار اور ملکی معیشت کی ترقی کے پیش نظر ''فیئر پلے'' کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں۔

عدلیہ کو تحسین کی نظروں سے دیکھیں کہ ملک کو کرپشن کی دلدل سے نکالنے اور قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانے کے لیے اس کے دیے ہوئے فیصلہ کا یہ صائب نتیجہ برآمد ہوا ہے کہ سیاسی رہنما، کارکن، اور عوام کامیابی، فتح اور مسرت کے ایک ہی خوشدلانہ دائرے میں جھوم رہے ہیں، گویا محمود و ایاز ایک ہوگئے ہیں، ادھر عالمی میڈیا اور بین الحکومتی حلقوں میں بھی عدالتی فیصلہ کو بڑے اشتیاق سے سنا اور پڑھا گیا، اس کی وجہ پاناما لیکس کی وہ دستاویزات تھیں جن میں آف شور کمپنیوں کی ملکیت میں ملوث لاتعداد سیاستدانوں، صنعتکاروں، تاجروں، اسمگلروں، بیوروکریٹس اور بااثر خواتین و مرد حضرات کے نام شامل تھے ان ہی منکشف دستاویزات میں وزیراعظم نواز شریف کے دو صاحبزادوں حسن نواز اور حسین نوازکے علاوہ صاحبزادی مریم نواز کو بھی آف شور کمپنیوں کا مالک ظاہر کیا گیا تھا۔

ان ہی پاناما لیکس پر مبنی دستاویزات کے تناظر میں پاکستان کی سیاسی جماعتوں نے عدالت سے رجوع کیا۔ یاد رہے کہ عمران خان، شیخ رشید اور سراج الحق نے پاناما لیکس سے متعلق درخواستیں دائر کی تھیں اور استدعا کی تھی کہ وزیر اعظم نواز شریف، کیپٹن صفدر اور وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو نااہل قرار دیا جائے جو مسترد کی گئیں۔ جمعرات کو عدالت عظمیٰ کے پانج رکنی بینچ نے جو جامع فیصلہ دیا ہے اسے عدلیہ کی ملکی تاریخ میں کرپشن کے خلاف ''خاموش احتساب'' سے تعبیر کرنا چاہیے۔


وہ قانونی اور سیاسی حلقے جنہیں غیر معمولی اعلان کی توقع تھی (اور وہ بلا جواز نہ تھی) اس سے ہٹ کر فیصلہ آیا، کیونکہ صورتحال ''بیٹھے ہیں ہم تہیۂ طوفان کیے ہوئے'' سے کچھ کم نہ تھی، جذبات متلاطم تھے، جو کیس کے مدعی تھے وہ سیاسی تبدیلیوں کی خواہش اور ملک میں شفاف طرز حکمرانی کی تمنا لیے سماعتوں میں جوش و خروش سے شریک ہوتے رہے، اور یہ بھی ملکی تاریخ کا قابل تحسین منظر نامہ ہے کہ حکومتی و اپوزیشن رہنماؤں نے بھی عدالت سے باہر اپنے ہائیڈ پارک سجاتے ہوئے قانونی پراسیس کو جاری رہنے دیا، عدالتی فیصلہ کا سب نے صبر تحمل اور کمال تدبر و حکمت سے انتظار کیا، فیصلے میں کہا گیا ہے کہ بنچ میں شامل 2 فاضل ججوں جسٹس آصف سعید کھوسہ اور جسٹس گلزار احمد نے علیحدہ فیصلہ اور ہدایات دیتے ہوئے وزیراعظم کو نااہل کرنے کا کہا جب کہ دیگر 3 جج صاحبان نے اس معاملے کی تحقیقات کی رائے ظاہر کی۔ قانون کی رو سے 3 ججوں کا فیصلہ نافذالعمل ہو گا۔

وزیراعظم نوازشریف نے وزیراعظم ہاؤس کے اپنے دفتر میں پاناما کیس کا تاریخی فیصلہ سنا ، وزیراعظم نے کہا کہ عدالتی فیصلے کا احترام کرتے ہیں جے آئی ٹی میں بھی بیگناہی ثابت کریں گے، سپریم کورٹ کی جانب سے پاناما کیس کے فیصلہ پر قانونی و آئینی ماہرین نے ملے جلے رد عمل کا اظہار کیا ہے۔ ایک اطلاع کے مطابق پاناماکیس کا فیصلہ سنانے والے سپریم کورٹ کا پانچ رکنی لارجربنچ سینئرترین جج جسٹس آصف سعیدخان کھوسہ کی سربراہی میں جسٹس اعجازافضل، جسٹس گلزاراحمد، جسٹس شیخ عظمت سعید اور جسٹس اعجازالاحسن پر مشتمل تھا۔ موجودہ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی 18 جنوری 2019ء کوریٹائرمنٹ کے بعدجسٹس آصف سعیدکھوسہ سپریم کورٹ کے نئے چیف جسٹس ہوںگے۔

بنچ کے سینئر رکن جسٹس اعجازافضل موجودہ چیف جسٹس کے دورمیں ہی ریٹائر ہو جائیںگے۔ جسٹس آصف سعیدکھوسہ بطور چیف جسٹس 21 دسمبر2019ء کو ریٹائر ہوں گے اور ان کے بعد جسٹس گلزار احمد اگلے چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان ہوںگے جو یکم فروری 2022ء تک عہدہ سنبھالیں گے۔ لارجر بنچ کے جسٹس اعجازالاحسن سنیارٹی میں 13 ویں نمبر پر ہیں۔ پاناما کیس میں وزیراعظم اور ان کی فیملی سے متعلق جن دو ججوں نے اختلافی نوٹ دیا ہے وہ دونوں اپنی اپنی باری پر اگلے چیف جسٹس آف پاکستان ہیں۔

المختصر! فیصلہ جو بھی آیا ہے اس کے بعد پیدا شدہ صورتحال اور سیاسی جوش و خروش کو دانشمندانہ طرز عمل سے مشروط ہونا چاہیے، عدلیہ کا کام ختم نہیں ہوا، احتساب جاری ہے، اور ابھی تحقیقات کا انتہائی حساس معاملہ شروع ہو گا، احتسابی عمل کی طرف پیش رفت ہونے والی ہے، سپریم کورٹ کے فیصلہ نے سیاسی، سماجی، معاشی اور دیگر حکومتی پالسیوں کا جائزہ لینے اور آیندہ ایک فالٹ فری حکمرانی کی پہلی اینٹ رکھنے لیے بہت ہی سنجیدہ فیصلہ جاری کیا ہے، اب ادارے عضو معطل نہیں ہونگے۔

کام بھی کریں گے اور ہدایت کردہ تحقیقاتی عمل میں جے آئی ٹی کو اس کے ٹاسک میں ہر ممکن مدد دیں گے، اپوزیشن جماعتوں نے اپنی عدالتی جنگ شاندار طور پر لڑی ہے، میڈیا نے غیر یہ معمولی کوریج کی، اس کیس کی بنیاد سچ کی تلاش و جستجو پر مبنی تھی جس کا ایک مرحلہ قوم کے سامنے آچکا ہے اور باقی قانونی مراحل مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی (جے آئی ٹی) کے ذریعہ تکمیل کو پہنچیں گے جب کہ ساری صورتحال کرپشن، عدم شفافیت اور سچ کہنے سے گریزکا شاخسانہ ہے۔ کرپشن، چھپی ہوئی دولت اور اہل اقتدار و اہل ثروت خاندانوں کا آف شور کمپنیوں میں خفیہ سرمایہ کاری یا عرف عام میں ٹیکس چوری پر بریک لگنے کے دن آ گئے ہیں۔
Load Next Story