آئی ایم ایف کے وفد کی قبل ازوقت واشنگٹن واپسی
سیاسی صورتحال کے باعث صرف تکنیکی مذاکرات ہوسکے، آئی ایم ایف کو ڈیٹا دیدیا۔
نئے قرضے کی درخواست کی گئی تو صرف پالیسی سطح کی بات چیت ہوگی، ذرائع فوٹو: رائٹرز/فائل
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کا جائزہ مشن واپس واشنگٹن روانہ ہوگیا۔
وزارت خزانہ کے حکام نے بتایا کہ آئی ایم ایف جائزہ مشن کے سربراہ جیفری فرینکس کی قیادت میں وفد کے ساتھ پاکستانی ٹیم نے 22جنوری تک پالیسی سطح کے مذاکرات کرنا تھے لیکن ملکی سیاسی صورتحال کے باعث یہ مذاکرات مکمل نہیں ہوسکے۔
البتہ تکنیکی سطح کے مذاکرات مکمل ہوچکے اور تمام ڈیٹا آئی ایم ایف کے ساتھ نہ صرف شیئر کیا جاچکا بلکہ ڈیٹا فراہم بھی کردیا گیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اب جب حکومت کی طرف سے آئی ایم ایف کو نئے قرضے کی درخواست دی جائے گی۔
اس وقت پالیسی سطح کے مذاکرات ہونگے جس میں سیاسی جماعتوں اور صوبوں کی حمایت حاصل کی جائے گی اور اگر حکومت اس پہلے بھی سیاسی جماعتوں اور صوبوں کی حمایت حاصل کرکے آئی ایم ایف کو اتفاق رائے سے نیا قرضہ لینے کی درخواست دیتی ہے تو اس صورت میں بھی آئی ایم ایف سے نیا قرضہ مل جائے گا کیونکہ تکنیکی سطح پر تمام کام ہوچکا ہے۔
وزارت خزانہ کے حکام نے بتایا کہ آئی ایم ایف جائزہ مشن کے سربراہ جیفری فرینکس کی قیادت میں وفد کے ساتھ پاکستانی ٹیم نے 22جنوری تک پالیسی سطح کے مذاکرات کرنا تھے لیکن ملکی سیاسی صورتحال کے باعث یہ مذاکرات مکمل نہیں ہوسکے۔
البتہ تکنیکی سطح کے مذاکرات مکمل ہوچکے اور تمام ڈیٹا آئی ایم ایف کے ساتھ نہ صرف شیئر کیا جاچکا بلکہ ڈیٹا فراہم بھی کردیا گیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اب جب حکومت کی طرف سے آئی ایم ایف کو نئے قرضے کی درخواست دی جائے گی۔
اس وقت پالیسی سطح کے مذاکرات ہونگے جس میں سیاسی جماعتوں اور صوبوں کی حمایت حاصل کی جائے گی اور اگر حکومت اس پہلے بھی سیاسی جماعتوں اور صوبوں کی حمایت حاصل کرکے آئی ایم ایف کو اتفاق رائے سے نیا قرضہ لینے کی درخواست دیتی ہے تو اس صورت میں بھی آئی ایم ایف سے نیا قرضہ مل جائے گا کیونکہ تکنیکی سطح پر تمام کام ہوچکا ہے۔