جرمن سرمایہ کاروں پر پاکستان میں مواقع سے فائدہ اٹھانے پر زور
برلن گرین ویک کے موقع پر ’’پاکستان میں زراعت‘‘سیمینار سے سفیر عبدالباسط کا خطاب۔
پی ایچ ڈی ای سی اور سندھ انویسٹمنٹ بورڈ حکام نے زرعی شعبے میں مواقع پر پریزنٹیشن دی۔ فوٹو : فائل
جرمنی میں تعینات پاکستانی سفیر عبدالباسط نے جرمن سرمایہ کاروں کو دوطرفہ سرمایہ کاری معاہدے کا بھرپور فائدہ اٹھانے پرزور دیا ہے، یہ معاہدہ پاکستان میں غیرملکی سرمایہ کاری کے لیے ساورین گارنٹی فراہم کرتا ہے۔
وہ برلن میں گرین ویک کے موقع پر ہفتہ کو ''پاکستان میںزراعت'' کے موضوع پر منعقدہ سیمینار سے خطاب کررہے تھے، سیمینار میں جرمنی کے وفاقی سیکریٹری برائے خوراک زرعت وصارف تحفظ ڈاکٹر گریڈ میولر بھی موجود تھے۔ پاکستانی سفیر نے کہا کہ پاکستان چیلنجز کے باوجود آگے بڑھ رہا ہے اور معیشت کے مختلف شعبوں میں کافی پیشرفت کی ہے، غیرملکی سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی کے ذریعے نہ صرف پاکستان اپنے خطے کی ضروریات پوری کرسکتا ہے بلکہ پوری دنیا کو بھی خوراک فراہم کر سکتا ہے۔
سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے میولر نے پاکستان اور جرمنی کے درمیان متنوع اور گہرے تعلقات پر روشنی ڈالی اور کہا کہ جرمنی سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی کے ذریعے زرعی شعبے کو ترقی دینے کے حوالے سے پاکستان کی مدد کرنے کے لیے تیار ہے۔ جرمن میٹرو گروپ کے نائب صدر مائیکل ویڈمین نے بھی اس موقع پر پریزنٹیشن دی اور پاکستان میں سرمایہ کاری کے تجربے سے شرکا کو آگاہ کیا اور کہا کہ ہم پاکستان میں اپنے کاروبار کو تیزی سے پھیلا رہے ہیں۔
پاکستان میں ہمارے لیے کاروبار کرنا دیگر جنوبی ایشیائی ممالک سے زیادہ آسان ثابت ہوا۔ اس دوران پاکستان ہارٹیکلچر ڈیولپمنٹ اینڈ ایکسپورٹ کمپنی (پی ایچ ڈی ای سی) اور سندھ بورڈ آف انویسٹمنٹ کے اعلیٰ حکام نے پاکستانی زرعی شعبے میں سرمایہ کاری کے مواقع سے متعلق تفصیلی پریزنٹیشن پیش کی، سیمینار میں جرمنی تاجروں کی بڑی تعداد نے شرکت کی، سیمینار کا اہتمام پاکستانی سفارتخانے نے جرمن نیئر اینڈ مڈل ایسٹ ایسوسی ایشن (این یوایم اووی) کے اشتراک سے کیا تھا۔
قبل ازیں این یوایم اووی کی سی ای او ہیلن رینگ نے اپنے خطبہ استقبالیہ میں پاکستان میں زرعی شعبے میں موجود مواقع پر روشنی ڈالی، سیمینار کے اختتام پر شرکا کو پاکستانی کینو اور باسمتی چاول تحفے کے طور پر پیش کیے گئے۔
وہ برلن میں گرین ویک کے موقع پر ہفتہ کو ''پاکستان میںزراعت'' کے موضوع پر منعقدہ سیمینار سے خطاب کررہے تھے، سیمینار میں جرمنی کے وفاقی سیکریٹری برائے خوراک زرعت وصارف تحفظ ڈاکٹر گریڈ میولر بھی موجود تھے۔ پاکستانی سفیر نے کہا کہ پاکستان چیلنجز کے باوجود آگے بڑھ رہا ہے اور معیشت کے مختلف شعبوں میں کافی پیشرفت کی ہے، غیرملکی سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی کے ذریعے نہ صرف پاکستان اپنے خطے کی ضروریات پوری کرسکتا ہے بلکہ پوری دنیا کو بھی خوراک فراہم کر سکتا ہے۔
سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے میولر نے پاکستان اور جرمنی کے درمیان متنوع اور گہرے تعلقات پر روشنی ڈالی اور کہا کہ جرمنی سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی کے ذریعے زرعی شعبے کو ترقی دینے کے حوالے سے پاکستان کی مدد کرنے کے لیے تیار ہے۔ جرمن میٹرو گروپ کے نائب صدر مائیکل ویڈمین نے بھی اس موقع پر پریزنٹیشن دی اور پاکستان میں سرمایہ کاری کے تجربے سے شرکا کو آگاہ کیا اور کہا کہ ہم پاکستان میں اپنے کاروبار کو تیزی سے پھیلا رہے ہیں۔
پاکستان میں ہمارے لیے کاروبار کرنا دیگر جنوبی ایشیائی ممالک سے زیادہ آسان ثابت ہوا۔ اس دوران پاکستان ہارٹیکلچر ڈیولپمنٹ اینڈ ایکسپورٹ کمپنی (پی ایچ ڈی ای سی) اور سندھ بورڈ آف انویسٹمنٹ کے اعلیٰ حکام نے پاکستانی زرعی شعبے میں سرمایہ کاری کے مواقع سے متعلق تفصیلی پریزنٹیشن پیش کی، سیمینار میں جرمنی تاجروں کی بڑی تعداد نے شرکت کی، سیمینار کا اہتمام پاکستانی سفارتخانے نے جرمن نیئر اینڈ مڈل ایسٹ ایسوسی ایشن (این یوایم اووی) کے اشتراک سے کیا تھا۔
قبل ازیں این یوایم اووی کی سی ای او ہیلن رینگ نے اپنے خطبہ استقبالیہ میں پاکستان میں زرعی شعبے میں موجود مواقع پر روشنی ڈالی، سیمینار کے اختتام پر شرکا کو پاکستانی کینو اور باسمتی چاول تحفے کے طور پر پیش کیے گئے۔