سوشل موضوعات پر مزید ڈرامہ کرنے کی تحریک ملی ہےحمزہ کمال
اپنی کامیابی کا کریڈٹ والدین ‘ اساتذہ کو دینا چاہوں گا ‘ جنہوں نے ہر قدم پر میری رہنمائی اور حوصلہ افزائی کی‘
’’ڈینگی‘‘ کے موضوع پر سٹیج ڈرامہ میں طلباء وطالبات کی پرفارمنس نے لوگوں کو داد دینے پر مجبور کردیا. فوٹو : فائل
نوجوان نسل مستقبل کے معمار ہیں اور یہ جملہ پاکستان کی نوجوان نسل پر پورا اترتا ہے'جنہیں جب بھی موقع ملا تو انہوںنے مایوس نہیں کیا۔
اسپورٹس سے لے کر شوبز سمیت زندگی کاکوئی بھی شعبہ ہو،ان کی چونکا دینے والی پرفارمنس سب کے لئے سرپرائز ہوتی ہے۔ اگر ہم شوبز انڈسٹری میں ماڈلنگ 'ایکٹنگ ' گائیکی سمیت دیگر شعبوں کا ذکر کریں تواس میدان میں بھی ہمارے پاس بے پناہ ٹیلنٹ موجودہے جس نے دنیا کی سب سے بڑی فلم انڈسٹری بالی وڈ میں بھی موقع ملتے ہی کامیابی کی ایک نئی تاریخ رقم کی ہے۔ شوبز انڈسٹری میں آنے والوں کے سیکھنے کے لئے کوئی قابل ذکر ادارے تو نہیں 'مگر خداد داد صلاحیتوں کے بل بوتے پر ہی دیکھنے والوں کو متوجہ کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔
پچھلے دنوں الحمراء ہال نمبر2میں لاہور گرائمر اسکول کے بچوں نے ''ڈینگی'' کے موضوع پر سٹیج ڈرامہ پیش کیا جس میں طلباء وطالبات کی آئوٹ کلاس پرفارمنس نے ہر مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو داد دینے پر مجبور کردیا ۔اس ڈرامہ میں حمزہ کمال ' ہاشم عمران ' عامر ریاض ' ریحان جبار'عبداللہ حسن ' ماہم امجد ' فاروق گل ' عبداللہ ' شیخ فہد سمیت دیگر سٹوڈنٹس پرفارم کر رہے تھے جس کا کریڈٹ اداکار 'رائٹر اور ڈائریکٹر حمزہ کمال کو جاتا ہے جو اپنے ساتھی ہاشم عمران کے ساتھ مل کر اپنی مدد آپ کے تحت ''ڈینگی'' جسے مرض پر اتنا خوبصورت کھیل پیش کرنے میں کامیاب ہوا کہ جس کے حوالے سے لوگوں کو آگاہی دینے کے لئے پنجاب حکومت نے کروڑوں روپے تشہیری مہم میں صرف کئے۔ نوجوان حمزہ کمال نے حاضرین کو انٹرٹین کرنے کے ساتھ اپنی ٹیم سے آئوٹ کلاس پرفارمنس لی 'کہ کہیں بھی یہ محسوس نہیں ہوا کہ یہ پہلی بار پرفارم کر رہے ہیں۔ ڈرامہ کے اسکرپٹ ' ڈائریکشن اور پروڈکشن سمیت ہر شعبہ میں مکمل پیپرورک نظر آیاجس کی تعریف وہاں پر آنے والے حاضرین کے ساتھ سینئر فنکاروں نے بھی کی۔
اس حوالے سے سینئر اداکار مسعود اختر نے ڈرامہ کے اختتام پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ بچوں کی پرفارمنس اور پروڈکشن انتہائی شاندار ہے جس کا اندازہ حاضرین کی تالیوں سے لگایا جاسکتا ہے۔ یہی حوصلہ افزائی فنکار کی آکسیجن ہے جو اس کو مزید آگے بڑھنے میں معاون ثابت ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈینگی جسے موذی مرض کا شکار ہوکر اسپتال میں 17دن گزار چکا ہوں جس میں میری عیادت کے لئے وزیراعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف خود آئے تھے۔
انہوں نے کہا کہ پوری ٹیم کو ایک بہترین ڈرامہ پیش کرنے پر مبارکباد دینے کے ساتھ انہیں کہوں گا کہ وہ پنجاب آرٹس کونسل سے بھی مل کر اس سلسلہ کو آگے بڑھائیں کیونکہ ''ڈینگی'' کے حوالے سے عام شہریوں کو آگاہی کے لئے یہ ایک بہترین کوشش ہے۔ مسعود اختر نے کہا کہ ڈرامہ میں کچھ خامیاں تھیں مگر اس کے باوجود یہ ایک اچھی کاوش تھی اور نوجوان ٹیلنٹ کی پرفارمنس کو دیکھ کر یہ خوشی ہوئی کہ ہمارے بعد چراغوں کی روشنیاں ماند نہیں پڑیں گی۔ مسعود اختر نے کہا کہ آئندہ آپ جب بھی کوئی ڈرامہ کرنا چاہیں تو میری خدمات حاضر ہیں اورمجھے یہ کرتے ہوئے خوشی محسوس ہوگی۔
اس موقع پر ڈرامہ کے رائٹر ' ڈائریکٹر اورنوجوان اداکار حمزہ کمال نے کہا کہ اپنی اس کامیابی کا کریڈٹ والدین ' اساتذہ کو دینا چاہوں گا ' جنہوں نے ہر قدم پر میری رہنمائی اور حوصلہ افزائی کی'کیونکہ ان کے تعاون کے بغیر شاید یہ ممکن نہیں تھا۔ ''ڈینگی'' جسے موضوع پر ڈرامہ کرنے کی تحریک مجھے اپنی ایک دوست کی وجہ سے ملی جو ڈینگی کی وجہ سے موت کے منہ میں چلی گئی۔ اس روز میں نے فیصلہ کیا کہ اس حوالے سے ایک اصلاحی کھیل پیش کروں گا تاکہ مزید لوگوں کو اس مرض سے بچایا جاسکے۔ اس پراجیکٹ کو یہاں تک لانے کے لئے وسائل سمیت بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا مگر جب ارادے مضبوط ہوں تو پھر ہر مشکل آسان ہوجاتی ہے۔
اس کاوش میں میرے دوست ہاشم عمران کا بھی تعاون حاصل رہا جنہوں نے اس ڈرامہ میں ڈینگی کا کردار کرنے کے ساتھ بطور معاون ڈائریکٹر بھی خدمات سرانجام دیں۔ ڈرامہ کی پوری کاسٹ بھی مبارکباد کی مستحق ہے کہ جنہوں نے ہمارے ساتھ پوری محنت اور لگن سے کام کیا ہے۔ حمزہ کمال نے بتایا کہ ایکٹنگ ' رائٹنگ اور ڈائریکشن میں میری رہنمائی شہنازشیخ نے کی۔ یہ اپنے لئے اعزاز سمجھتا ہوں کہ شہناز شیخ جیسی ٹیچر اور سینئر اداکارہ کی سرپرستی ملی 'آج کل اداکارہ نادیہ جمیل اس بارے میں بھرپور رہنمائی کرر ہی ہیں۔ حاضرین اور سینئر فنکاروں کی طرف سے ملنے والے رسپانس نے میرے اندر حوصلہ بڑھا دئیے ہیں کہ میں دیگر سوشل موضوعات پر بھی ڈرامہ کرسکتا ہوں۔
اسپورٹس سے لے کر شوبز سمیت زندگی کاکوئی بھی شعبہ ہو،ان کی چونکا دینے والی پرفارمنس سب کے لئے سرپرائز ہوتی ہے۔ اگر ہم شوبز انڈسٹری میں ماڈلنگ 'ایکٹنگ ' گائیکی سمیت دیگر شعبوں کا ذکر کریں تواس میدان میں بھی ہمارے پاس بے پناہ ٹیلنٹ موجودہے جس نے دنیا کی سب سے بڑی فلم انڈسٹری بالی وڈ میں بھی موقع ملتے ہی کامیابی کی ایک نئی تاریخ رقم کی ہے۔ شوبز انڈسٹری میں آنے والوں کے سیکھنے کے لئے کوئی قابل ذکر ادارے تو نہیں 'مگر خداد داد صلاحیتوں کے بل بوتے پر ہی دیکھنے والوں کو متوجہ کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔
پچھلے دنوں الحمراء ہال نمبر2میں لاہور گرائمر اسکول کے بچوں نے ''ڈینگی'' کے موضوع پر سٹیج ڈرامہ پیش کیا جس میں طلباء وطالبات کی آئوٹ کلاس پرفارمنس نے ہر مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو داد دینے پر مجبور کردیا ۔اس ڈرامہ میں حمزہ کمال ' ہاشم عمران ' عامر ریاض ' ریحان جبار'عبداللہ حسن ' ماہم امجد ' فاروق گل ' عبداللہ ' شیخ فہد سمیت دیگر سٹوڈنٹس پرفارم کر رہے تھے جس کا کریڈٹ اداکار 'رائٹر اور ڈائریکٹر حمزہ کمال کو جاتا ہے جو اپنے ساتھی ہاشم عمران کے ساتھ مل کر اپنی مدد آپ کے تحت ''ڈینگی'' جسے مرض پر اتنا خوبصورت کھیل پیش کرنے میں کامیاب ہوا کہ جس کے حوالے سے لوگوں کو آگاہی دینے کے لئے پنجاب حکومت نے کروڑوں روپے تشہیری مہم میں صرف کئے۔ نوجوان حمزہ کمال نے حاضرین کو انٹرٹین کرنے کے ساتھ اپنی ٹیم سے آئوٹ کلاس پرفارمنس لی 'کہ کہیں بھی یہ محسوس نہیں ہوا کہ یہ پہلی بار پرفارم کر رہے ہیں۔ ڈرامہ کے اسکرپٹ ' ڈائریکشن اور پروڈکشن سمیت ہر شعبہ میں مکمل پیپرورک نظر آیاجس کی تعریف وہاں پر آنے والے حاضرین کے ساتھ سینئر فنکاروں نے بھی کی۔
اس حوالے سے سینئر اداکار مسعود اختر نے ڈرامہ کے اختتام پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ بچوں کی پرفارمنس اور پروڈکشن انتہائی شاندار ہے جس کا اندازہ حاضرین کی تالیوں سے لگایا جاسکتا ہے۔ یہی حوصلہ افزائی فنکار کی آکسیجن ہے جو اس کو مزید آگے بڑھنے میں معاون ثابت ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈینگی جسے موذی مرض کا شکار ہوکر اسپتال میں 17دن گزار چکا ہوں جس میں میری عیادت کے لئے وزیراعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف خود آئے تھے۔
انہوں نے کہا کہ پوری ٹیم کو ایک بہترین ڈرامہ پیش کرنے پر مبارکباد دینے کے ساتھ انہیں کہوں گا کہ وہ پنجاب آرٹس کونسل سے بھی مل کر اس سلسلہ کو آگے بڑھائیں کیونکہ ''ڈینگی'' کے حوالے سے عام شہریوں کو آگاہی کے لئے یہ ایک بہترین کوشش ہے۔ مسعود اختر نے کہا کہ ڈرامہ میں کچھ خامیاں تھیں مگر اس کے باوجود یہ ایک اچھی کاوش تھی اور نوجوان ٹیلنٹ کی پرفارمنس کو دیکھ کر یہ خوشی ہوئی کہ ہمارے بعد چراغوں کی روشنیاں ماند نہیں پڑیں گی۔ مسعود اختر نے کہا کہ آئندہ آپ جب بھی کوئی ڈرامہ کرنا چاہیں تو میری خدمات حاضر ہیں اورمجھے یہ کرتے ہوئے خوشی محسوس ہوگی۔
اس موقع پر ڈرامہ کے رائٹر ' ڈائریکٹر اورنوجوان اداکار حمزہ کمال نے کہا کہ اپنی اس کامیابی کا کریڈٹ والدین ' اساتذہ کو دینا چاہوں گا ' جنہوں نے ہر قدم پر میری رہنمائی اور حوصلہ افزائی کی'کیونکہ ان کے تعاون کے بغیر شاید یہ ممکن نہیں تھا۔ ''ڈینگی'' جسے موضوع پر ڈرامہ کرنے کی تحریک مجھے اپنی ایک دوست کی وجہ سے ملی جو ڈینگی کی وجہ سے موت کے منہ میں چلی گئی۔ اس روز میں نے فیصلہ کیا کہ اس حوالے سے ایک اصلاحی کھیل پیش کروں گا تاکہ مزید لوگوں کو اس مرض سے بچایا جاسکے۔ اس پراجیکٹ کو یہاں تک لانے کے لئے وسائل سمیت بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا مگر جب ارادے مضبوط ہوں تو پھر ہر مشکل آسان ہوجاتی ہے۔
اس کاوش میں میرے دوست ہاشم عمران کا بھی تعاون حاصل رہا جنہوں نے اس ڈرامہ میں ڈینگی کا کردار کرنے کے ساتھ بطور معاون ڈائریکٹر بھی خدمات سرانجام دیں۔ ڈرامہ کی پوری کاسٹ بھی مبارکباد کی مستحق ہے کہ جنہوں نے ہمارے ساتھ پوری محنت اور لگن سے کام کیا ہے۔ حمزہ کمال نے بتایا کہ ایکٹنگ ' رائٹنگ اور ڈائریکشن میں میری رہنمائی شہنازشیخ نے کی۔ یہ اپنے لئے اعزاز سمجھتا ہوں کہ شہناز شیخ جیسی ٹیچر اور سینئر اداکارہ کی سرپرستی ملی 'آج کل اداکارہ نادیہ جمیل اس بارے میں بھرپور رہنمائی کرر ہی ہیں۔ حاضرین اور سینئر فنکاروں کی طرف سے ملنے والے رسپانس نے میرے اندر حوصلہ بڑھا دئیے ہیں کہ میں دیگر سوشل موضوعات پر بھی ڈرامہ کرسکتا ہوں۔